Diya Jeem
Diya Jeem
Diya Jeem
Ghazalغزل
جب بھی ہو مجھ کو تھکن تم کو دعا دیتی ہوں گھر کے کاموں میں مگن تم کو دعا دیتی ہوں ایسا لگتا ہے محبت کا خدا ہے اس میں دیکھتی ہوں جو گگن تم کو دعا دیتی ہوں ڈوبتے چاند کے پاؤں میں مدھر ساز ہو جب دل میں جھانکے جو کرن تم کو دعا دیتی ہوں سوچتی رہتی ہوں تم کو ہی بٹھا کر دل میں ایسی جاگی ہے لگن تم کو دعا دیتی ہوں وحشتوں نے ہی جلایا ہے دیاؔ تیرا بدن چاند جیسا ہو یہ من تم کو دعا دیتی ہوں
jab bhi ho mujh ko thakan tum ko duaa deti huun
جیسا کہتا ہے تو ویسا نہیں کرنے والی اب ترے ساتھ میں اچھا نہیں کرنے والی ایسے دیکھو نا محبت کا گماں ہوتا ہے وعدہ لینا ہے تو وعدہ نہیں کرنے والی مجھ سے واقف ہو تو انکار یہ کرتے کیوں ہو مان لو پیار کو رسوا نہیں کرنے والی مرے آنگن کے سبھی پھول بہت مہنگے ہیں اپنے گلشن کو میں صحرا نہیں کرنے والی تو مجازی ہے حقیقی تو نہیں ہے میرا سو ترے عشق میں سجدہ نہیں کرنے والی میری فطرت میں محبت ہی فقط گوندھی گئی اپنی فطرت سے کنارہ نہیں کرنے والی چاند آنکھوں میں لئے پھرتی ہوں میں آج دیاؔ اشک پلکوں کا ستارہ نہیں کرنے والی
jaisaa kahtaa hai tu vaisaa nahin karne vaali
طلوع عشق کے منظر تھمے تھے کہیں کاسے کہیں پر سر تھمے تھے نظر دہشت زدہ یوں ہی نہیں تھی خیالوں میں بہت سے ڈر تھمے تھے برسنا تھا جنہیں آنکھوں سے میری وہی بادل کہیں اوپر تھمے تھے دل مضطر تڑپنے لگ گیا تھا عجب طوفان سانسوں پر تھمے تھے تمہاری راہ کے پتھر تھے جتنے ہمارے پاؤں میں آ کر تھمے تھے کئی آسیب یادوں کے دیاؔ جی ہماری روح کے اندر تھمے تھے
tulu-e-ishq ke manzar thame the
تمہیں اس دل سے کیا عادی ہوا ہے کہ جلنے کا دیا عادی ہوا ہے اسے نیند آئے بھی تو کیسے آئے وہ میرے خواب کا عادی ہوا ہے وہ آئے تو فضائیں جھومتی ہیں کسی کا راستہ عادی ہوا ہے کہا روتا ہے کیوں دل کو سنبھالو تو ہنس کر یہ کہا عادی ہوا ہے زمانے کو نہ جانے یہ ہوا کیا زمانہ آپ کا عادی ہوا ہے
tumhein is dil se kyaa aadi huaa hai
زباں پہ آنے سے پہلے کہی گئی ہوں میں کسی خیال میں کھو کر بنی گئی ہوں میں مرے خیال کی دہلیز اتنی اونچی ہے کہ آسماں کے برابر چنی گئی ہوں میں مرا غرور مری وحشتوں پہ حاوی ہے کچھ ایسے وصف سے ممتاز کی گئی ہوں میں مرے وجود میں پہروں سکوت رہتا ہے نہ جانے کس کی صدا میں گندھی گئی ہوں میں مرے خیال سے جل جاتے ہیں چراغ سحر کہ طاق شمس و قمر پر رکھی گئی ہوں میں وہ روز خواب کے روزن سے دیکھتا ہے مجھے عجیب ڈور ہے جس سے بندھی گئی ہوں میں سبھی کے دل میں دیاؔ پیار کا جلاتی ہوں ورق ورق پہ اجالا لکھی گئی ہوں میں
zabaan pe aane se pahle kahi gai huun main
تیرے آنگن میں وفاؤں کا شجر رکھا تھا اپنے ہونٹوں پہ دعاؤں کا شجر رکھا تھا کیسے نہ یاد کی کھڑکی میں ٹھہرتی کل شب میرے کمرے میں صداؤں کا شجر رکھا تھا یاد جاناں کے پرندوں کے سکوں کی خاطر اپنے سینے میں وفاؤں کا شجر رکھا تھا جانے کیا سوچ کے فطرت سے محبت کی تھی میرے اجداد نے گاؤں کا شجر رکھا تھا میری قسمت میں محبت کا ستارہ ہی نہیں میری قسمت میں جفاؤں کا شجر رکھا تھا ویسے تو پیار کی چھاؤں سے محبت تھی دیاؔ پر کہیں دل میں اناؤں کا شجر رکھا تھا
tere aangan mein vafaaon kaa shajar rakkhaa thaa





