
Dr. Bhagyashree Joshi
Dr. Bhagyashree Joshi
Dr. Bhagyashree Joshi
Ghazalغزل
اپنے سپنوں کو جلا کر ہر طرف کی روشنی اس طرح سے دور کی راہوں کی تیری تیرگی جو ندی مخمور تھی ساگر کی بس اک چاہ میں وہ بجھاتی آج ہے آنسو کو پی کر تشنگی موت آنے پر بدلتی روح اپنا پیرہن کیا پتہ تھا روح مجھ کو چھوڑ دے گی جیتے جی
apne sapnon ko jalaa kar har taraf ki raushni
خواہشوں کا قتل کر خود ہی لگانی آگ ہے خاک ہوتے خواب کی ساری کہانی آگ ہے جسم کی چادر میں چھپتی ہر جوانی آگ ہے نام دے کر عشق کا سب کو بجھانی آگ ہے ایک دل پتھر تمہارا ایک دل پتھر مرا دونوں دل ٹکرا گئے تو صرف آنی آگ ہے جھوٹ ہیں رشتہ یہ ناطے سچ ہے کیول موت ہی آخری ساتھی سبھی کا خاک پانی آگ ہے
khvaahishon kaa qatl kar khud hi lagaani aag hai
یہ غم خوشیوں کی کیوں مجھ پر نظر ہونے نہیں دیتے مجھے آغوش میں لے کر سحر ہونے نہیں دیتے بڑی خاموشی سے رہتے مژۂ دل پہ یہ آنسو کسی کو درد کی میرے خبر ہونے نہیں دیتے شجر پر دل کے بیٹھے ہیں پرندے ہجر کے کچھ یوں کہ شاخوں پر محبت کے ثمر ہونے نہیں دیتے سجا کر لوگ سپنے اک حسیں سا گھر بنانے کے بنا لیتے مکاں پر اس کو گھر ہونے نہیں دیتے
ye gham khushiyon ki kyon mujh par nazar hone nahin dete
دیا موقع نہیں خود کو نہ ان زخموں کو بھرنے کا ہنر آیا نہیں مجھ کو وفا کر کے بدلنے کا نکل کر آنکھ سے یہ اشک جب دل تک پہنچتے ہیں تبھی مطلب سمجھ آتا نمک زخموں پہ پڑنے کا بڑی جلدی اتارا آج اس نے قبر میں مجھ کو کیا کرتا تھا جو وعدہ ہمیشہ ساتھ چلنے کا نیا کندھا وہ کھوجے گا شب ماتم گزرتے ہی دکھاوا پھر کرے گا وہ محبت میں بکھرنے کا گلابوں سے سجا ہوگا پرایا ہاتھ پھر کوئی بھلا وہ کب تلک یوں غم کرے گا میرے مرنے کا
diyaa mauqa nahin khud ko na un zakhmon ko bharne kaa
پاس ہر پل یہ رہا ہوتے جدا دیکھا نہیں درد سے بہتر کوئی بھی ہم نوا دیکھا نہیں ہجر کی راتیں یہ آنسو اور یہ تنہائیاں تم نے میرے ساتھ کیا یہ قافلہ دیکھا نہیں یاد ہے تم نے دلائی تھی قسم نہ ملنے کی اس لئے صدیوں سے میں نے آئنہ دیکھا نہیں کاٹ کر شہ رگ کبھی حاصل ہوا ہے عشق کیا اس سے بد تر اور دوجا راستہ دیکھا نہیں عشق کو لکھنے جو بیٹھی جب کبھی پنوں پہ میں یہ قلم بھی بولا ایسا حادثہ دیکھا نہیں
paas har pal ye rahaa hote judaa dekhaa nahin
مجھے شدت سے چاہو تم وہ منظر دیکھ لیتے ہیں چلو ایسا کریں قسمت بدل کر دیکھ لیتے ہیں بنایا ہے محبت نے تمہیں پتھر تو پھر ہم بھی تمہیں سے ٹوٹنے کو کانچ بن کر دیکھ لیتے ہیں بدل کر فون نمبر وہ سمجھتے دور ہیں ہم سے انہیں دینے کو خط ہم بھی کبوتر دیکھ لیتے ہیں نہ تھامے ہاتھ جو نہ ساتھ میرا رہ گزر میں دے خدایا اس جنم ایسا ہی رہبر دیکھ لیتے ہیں
mujhe shiddat se chaaho tum vo manzar dekh lete hain





