SHAWORDS
Dr. Rahi

Dr. Rahi

Dr. Rahi

Dr. Rahi

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

منزل نہیں ہے پاس تو کیا رہ گزر تو ہے اس دشت زندگی میں غبار سفر تو ہے دنیا اگر نظر بھی پھرا لے تو غم نہیں میری نظر کے ساتھ تمہاری نظر تو ہے وہ مجھ سے دور دور سہی بے خبر نہیں مانا گہر نہیں مگر آب گہر تو ہے جب چاہیں گے رہائی دلا دیں گے وہ کہیں قید ان کی زلف ہی میں ہماری سحر تو ہے جینا ہی جب ہے ہم کو تو ہنس کے جئیں گے ہم دولت نہیں ہے ہاتھ میں لیکن ہنر تو ہے راہیؔ مجھے سیاہیٔ شب کیا ڈرائے گی پہلو میں قلب بن کے نقیب سحر تو ہے

manzil nahin hai paas to kyaa rahguzar to hai

غزل · Ghazal

اے ستم گر ستم کی بات نہیں کم سے کم آج غم کی بات نہیں صبح نو کا ہے ذکر محفل میں اب یہاں شام غم کی بات نہیں ساری دنیا ہے مہربان تو کیا ان کے لطف و کرم کی بات نہیں تذکرہ ہے وفا کی منزل کا راہ کے پیچ و خم کی بات نہیں منحصر ہے عمل تو نیت پر صرف قول و قسم کی بات نہیں ذکر شیشہ گروں کا ہے راہیؔ پتھروں کے صنم کی بات نہیں

ai sitam-gar sitam ki baat nahin

غزل · Ghazal

کہا ہے کس نے جہاں میں خدا نہیں ملتا خلوص شرط ہے ڈھونڈو تو کیا نہیں ملتا ہر ایک جسم کی تخلیق ایک جیسی ہے ہر ایک چہرے سے کیوں دوسرا نہیں ملتا کچھ ایسے موڑ بھی آئے وفا کی راہوں میں جہاں سے آگے خود اپنا پتا نہیں ملتا ہر اک جفا ہے تمہاری ہر اک جفا سے الگ تمہارے جیسا کوئی با وفا نہیں ملتا میں پھر رہا ہوں جبیں میں سمیٹ کر سجدے مگر کہیں بھی ترا نقش پا نہیں ملتا وہی ہے گاؤں وہی میں وہی ہے پگڈنڈی بس اک کمی ہے ترا نقش پا نہیں ملتا وفا کا شوق مبارک وفا کرو لیکن رہے خیال وفا کا صلہ نہیں ملتا تمہارا عکس ہے محفوظ جس میں صدیوں سے نہ جانے کیوں وہی اک آئنہ نہیں ملتا ہم آ کے گاؤں سے پچھتائے شہر میں راہیؔ یہاں کسی کا بھی اصلی پتہ نہیں ملتا

kahaa hai kis ne jahaan mein khudaa nahin miltaa

غزل · Ghazal

تیرے بغیر زندگی کیا زندگی میاں ایک ایک لمحہ ہے مجھے ایک اک صدی میاں حیرت سے دیکھتا ہے مجھے ہر کوئی میاں جیسے میں اپنے شہر میں ہوں اجنبی میاں ہر بات میں ہے تلخیٔ و افسردگی میاں ہے مستقل عذاب مری زندگی میاں کہنے کو یوں تو سب نظر آتے ہیں آدمی مشکل سے بھی ملا نہ کوئی آدمی میاں جرأت اگر ہے تجھ میں تو آ کھل کے سامنے پردے میں دوستی کے نہ کر دشمنی میاں میں نے تو اس کا ساتھ دیا ہے تمام عمر کیوں میرا ساتھ چھوڑ گئی زندگی میاں راہیؔ کو جب خوشی کی ضرورت نہیں رہی نکلی ہے ڈھونڈھتی ہوئی اس کو خوشی میاں

tere baghair zindagi kyaa zindagi miyaan

غزل · Ghazal

دیوار و در کے واسطے منظر نہ لائیے باہر کے رہنے والے کو اندر نہ لائیے پتھر سے میرے سر کے ہیں رشتے ہزار ہا اب آپ سر کے واسطے پتھر نہ لائیے انسان لگ رہا ہے اک آسیب کی طرح آسیب کیا ہے اس کو زباں پر نہ لائیے پھولوں سے کھیلیے گا اگر پھول سے ہیں ہاتھ ڈھو ڈھو کے میرے واسطے پتھر نہ لائیے منظور ہے قیام جو پتھر کے شہر میں شیشے کا اپنے ساتھ کوئی گھر نہ لائیے راہیؔ یہ آسمان ہی اچھا ہے سائباں اب میرے گھر کے واسطے چھپر نہ لائیے

divaar-o-dar ke vaaste manzar na laaiye

غزل · Ghazal

زور یوں درد کا کم ہونے لگا آخر شب جس طرح ٹوٹنے لگتا ہے نشہ آخر شب بے سبب ہی تو مری آنکھ نہیں کھل سکتی کس نے بھولے سے مجھے یاد کیا آخر شب شاید آ پہنچے ہیں نزدیک سفیران سحر کوئی دیتا ہے در دل پہ صدا آخر شب جاں نثاری میں پتنگوں نے کمی کیا کی تھی شمع نے کس لئے دم توڑ دیا آخر شب آپ کے پاؤں کی آہٹ کا گماں ہوتا ہے گھر کے آنگن میں جب آتی ہے صبا آخر شب کس کے اشکوں کا خدا جانے اثر ہے راہیؔ بھیگی بھیگی سی جو رہتی ہے فضا آخر شب

zor yuun dard kaa kam hone lagaa aakhir-e-shab

Similar Poets