
Dua Ali
Dua Ali
Dua Ali
Ghazalغزل
زندگی بے دلیل کتنی ہے ہر خوشی یاں قلیل کتنی ہے نیند روٹھی ہوئی ہے مدت سے شب ہجراں طویل کتنی ہے منزلوں کے شمار کار بتا خواہشوں کی سبیل کتنی ہے کون آخر لگاتا اندازہ گہری آنکھوں کی جھیل کتنی ہے ظلم کا ہاتھ بڑھ گیا حد سے ابھی رسی میں ڈھیل کتنی ہے یہ جو دو دن کی زندگی ہے دعاؔ یہ حسین و جمیل کتنی ہے
zindagi be-dalil kitni hai
کچھ زیادہ نہ کم ہوئی لبریز حد قول و قسم ہوئی لبریز تیری یادوں نے دل کو تڑپایا درد سے چشم نم ہوئی لبریز مجھے کردار کاٹنے پڑے پھر جب کہانی قلم ہوئی لبریز اتنی مشکل زمیں میں نظم دعاؔ آنکھ کر کے رقم ہوئی لبریز
kuchh ziyaada na kam hui labrez
شہر میں آ گئے کیا لوگ بیابانوں کے کرب میں ہو گئے گم قہقہے ارمانوں کے تم نے دیکھے نہیں جذبوں کے فلک بوس شجر شب کی تاریکی میں جلتے ہوئے دالانوں کے ہم سے قائم ہے ترے لفظوں کا یہ شیرازہ ہم سے کردار بنے ہیں ترے افسانوں کے کیوں مجھے دکھ مرا اوروں سے جدا لگتا ہے دکھ اگر ہوتے ہیں سب ایک سے انسانوں کے کیسے آئے گی ترے جسم کی خوشبو مجھ تک کھڑکیاں ہوتی نہ دروازے ہیں زندانوں کے اب دعاؔ کس کی امیدوں کے سہارے پہ جئیں ٹکڑے تو دیکھ لیے خواب میں گل دانوں کے
shahr mein aa gae kyaa log bayaabaanon ke
حیرت سے اپنا چہرہ وہ دیکھا کیا گیا بکھرا ہوا جو دل مرا یکجا کیا گیا اک عکس کو دوام دلایا گیا ہے آج کوئی تو کام آنکھ سے اچھا کیا گیا ہر شخص دیکھتا جسے اپنی نظر سے ہے کیوں درد سارے شہر پہ افشا کیا گیا یک لخت واہمے کی چبھن اور بڑھ گئی جب جستجو کو تن کا لبادہ کیا گیا یہ دل تغیرات کا مارا ڈسا یہ دل گلشن کیا گیا کبھی صحرا کیا گیا دل کو ہمارے وہ ہی دعاؔ توڑتا گیا جس شخص پر بھی دل سے بھروسا کیا گیا
hairat se apnaa chehra vo dekhaa kiyaa gayaa
جس کا ہوتا نہیں وہ لوگ اسی کا سمجھے کیا برائی ہے برے کو کہ نہ اچھا سمجھے اتنا کافر ہو کہ پوچھے نہیں احوال تلک ایسے کافر کو بھلا کون مسیحا سمجھے جیت تو لوں گی میں ہاری ہوئی بازی لیکن پیت کے کھیل میں کافر مجھے اپنا سمجھے ایک کافر سے فقط اتنی گزارش ہے مری دل کے بکھرے ہوئے آئینے کو یکجا سمجھے اس پہ بہتے ہوئے اشکوں کا اثر ہونا نہیں وہ تو پتھر کی طرح ہے اسے ہم کیا سمجھے وہ تو بت تھا کسی کافر کا تراشا ہوا بت ہم دعاؔ جس کو دعاؤں کا کرشمہ سمجھے
jis kaa hotaa nahin vo log usi kaa samjhe
دکھا ہے دل تبھی تو مجھ پہ چھائی ہے اداسی بھی مری پلکوں پہ آنسو بھی لبوں پر ہے خموشی بھی جدائی میں مرے دل کی سنو کیا ہو گئی حالت مرے دل میں ہے وحشت بھی بڑی ہے بے قراری بھی مری آنکھوں میں ویرانی مرے دل کو پریشانی کچھ ایسی چپ ہوئی ہوں میں نہیں ہے خود کلامی بھی ہمیں تو ہجر میں ہی کاٹنی ہے زندگی اب تو وہ آ جائے نہیں امید باقی اب ذرا سی بھی اگرچہ چوٹ گہری ہے دعاؔ پھر بھی نہیں بدلی وہی ہنسنے کی عادت بھی وہی ہے خوش مزاجی بھی
dukhaa hai dil tabhi to mujh pe chhaai hai udaasi bhi





