SHAWORDS
Ehsaan Ghaman

Ehsaan Ghaman

Ehsaan Ghaman

Ehsaan Ghaman

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

jab par-e-parvaaz meraa aasmaan mein aa gayaa

جب پر پرواز میرا آسماں میں آ گیا اک پرندہ بھی صف سیارگاں میں آ گیا میں پس پردہ کوئی گمنام سا کردار تھا ذکر میرا کیسے تیری داستاں میں آ گیا یہ ضروری تو نہیں ہجرت پرندے ہی کریں دھوپ جس کو بھی لگی وہ سائباں میں آ گیا آسماں پر اک دئے کی لو اچھالی تھی فقط لوٹ کر سارا اجالا خاکداں میں آ گیا جب مری عمر رواں انگلی پکڑ کر چل پڑی دیکھ میں پھر سے ترے وہم و گماں میں آ گیا میں نے چکھی تھی کسی کے نرم لہجے کی مٹھاس کیا بتاؤں ذائقہ کیسا زباں میں آ گیا ایک صحرا چل پڑا احسانؔ میرے ساتھ کیا وہ بھی میرے حلقۂ آوارگاں میں آ گیا

غزل · Ghazal

ujaale milte bhalaa kaise raat kaaTne se

اجالے ملتے بھلا کیسے رات کاٹنے سے کہ تیرگی نہیں گھٹتی چراغ بانٹنے سے فضا میں اڑتے پرندے بھی سمت بھول گئے ہوا میں گرہیں پڑیں ایسی پیڑ کاٹنے سے میں جانتا ہوں بیاباں کے بھید بھاؤ مگر خزاں کی دھوپ نکھرتی ہے پھول چاٹنے سے یہ سوچ کر میں کبھی دل کو رد نہیں کرتا بگڑ ہی جائے نہ یہ بچہ روز ڈانٹنے سے جو پہلے تھی وہی نفرت ہے اس کے دل میں ہنوز کہ یہ خلیج ہوئی کم نہ میرے پاٹنے سے یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے احسانؔ سبھی کو پھول نہیں ملتے شاخ چھاٹنے سے

غزل · Ghazal

kab vo tanhaai ke aasaar se ghabraae hain

کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں لوگ تو رونق بازار سے گھبرائے ہیں کون کرتا ہے بھلا آبلہ پائی کا گلا ہم تو بس رستوں کی رفتار سے گھبرائے ہیں اپنے قامت سے نکلنا پڑا باہر ان کو جو شجر سایۂ دیوار سے گھبرائے ہیں لوگ قیمت تو لگائیں گے یہ بازار تو ہے بے وجہ ہم تو خریدار سے گھبرائے ہیں کس لئے مانگ رہے ہیں مری دستار وہ لوگ جو مری جرأت گفتار سے گھبرائے ہیں ہم کو ایسے نہیں آوارگی سوجھی احسانؔ ہم تو اپنے در و دیوار سے گھبرائے ہیں

غزل · Ghazal

ye jo ham surat-e-ashjaar mein ug aate hain

یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیں تم سمجھتے ہو کہ بیکار میں اگ آتے ہیں ہم نہیں دیکھتے زرخیز زمینوں کی طرف ہم وہ پودے ہیں جو دیوار میں اگ آتے ہیں جتنی رفتار سے تم کاٹتے جاتے ہو ہمیں پھر سے ہم اتنی ہی مقدار میں اگ آتے ہیں جن کو گلدان میں رکھنا نہیں آیا ہے ہمیں پھول وہ وحشت کہسار میں اگ آتے ہیں سب کو سرداری بزرگی سے نہیں ملتی ہے ایسے سر بھی ہیں جو دستار میں اگ آتے ہیں اپنے اوصاف نہیں بھولتے احسانؔ کبھی بیج پھل پھول جو اشجار میں اگ آتے ہیں

غزل · Ghazal

main hairaan thaa manzar ki hairaani par

میں حیران تھا منظر کی حیرانی پر پھول کھلے تھے بہتے ہوئے جب پانی پر میرے کپڑے دیکھ کے مٹی بول پڑی گھاس اگاؤ میری بھی عریانی پر میں نے تیرا نام لکھا جب تاروں پر چاند ہنسا تھا میری اس نادانی پر یاد کرو جس رات اکٹھے بیٹھے تھے گھنٹوں بات چلی تھی رات کی رانی پر دیکھے ہیں کچھ دیکھے بھالے لوگ یہاں کس نے گھر آباد کیا ویرانی پر میں نے اک سجدے میں رات گزاری ہے یوں ہی نہیں یہ چاند بنا پیشانی پر

غزل · Ghazal

god mein panchhi to shaakhon pe samar rakhte hain

گود میں پنچھی تو شاخوں پہ ثمر رکھتے ہیں یہ شجر ماں کی طرح دست ہنر رکھتے ہیں چونچ بھر دانے لئے جاتے ہیں بچوں کے لئے یہ پرندے بھی کہاں زاد سفر رکھتے ہیں دھوپ چلتی نہیں سایہ ہے کہ رکتا ہی نہیں ہم زمیں والے عجب شام و سحر رکھتے ہیں سوکھ جاتے ہیں پڑے رہتے ہیں تالابوں میں یہ کنول اپنا الگ طرز بسر رکھتے ہیں میری بستی میں بڑی ذات کے رہتے ہیں لوگ فکر دستار نہیں کاندھوں پہ سر رکھتے ہیں دوستو ،تیروں کی آنکھیں تو نہیں ہوتیں مگر پھر بھی دشمن کے ٹھکانوں کی خبر رکھتے ہیں اونچی پرواز ہو تو جسم کا جھڑنا کیسا ہم پرندوں کی طرح بال ہنر رکھتے ہیں آج بھی پہلے سا بچپن ہے ہمارا احسانؔ ہم کتابوں میں ابھی مور کے پر رکھتے ہیں

Similar Poets