ham ek shahr mein the ik nadi ki duuri par
aur us nadi mein koi aur vaqt bahtaa thaa

Ehtisham Ali
Ehtisham Ali
Ehtisham Ali
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
بازار کے گرتے ہوئے داموں کی طرح تھے ہم کانچ کے ٹوٹے ہوئے جاموں کی طرح تھے وہ مثل صبا پھرتا تھا اس شہر میں لیکن ہم ریت پہ لکھے ہوئے ناموں کی طرح تھے جو لکھے گئے تھے مگر اس تک نہیں پہنچے ہم لوگ بھی ایسے ہی پیاموں کی طرح تھے وہ شیوہ تغافل کو بنا بیٹھا تھا اپنا ہم بھی اسے بھولے ہوئے کاموں کی طرح تھے
baazaar ke girte hue daamon ki tarah the
زمیں پہ چاند کا پرتو ذرا سا سہما تھا خزاں نے شاخ سے جب پہلا پھول توڑا تھا سنہری دھوپ جو بہتی تھی اس کے ماتھے پر اسی میں رنگ تمنا کا ایک سایہ تھا ہم ایک شہر میں تھے اک ندی کی دوری پر اور اس ندی میں کوئی اور وقت بہتا تھا یہ جس ٹریک پہ پھولوں کے نقش ملتے ہیں وہ ایک شام اسی راستے سے گزرا تھا یہ شہر دوسرا ہے جس میں نیند ٹوٹی ہے وہ گھر کہاں ہے جہاں رات تھک کے سویا تھا
zamin pe chaand kaa partav zaraa saa sahmaa thaa
خزاں کی رت میں یہ مشغلہ تھا میں بکھرے پتے سمیٹتا تھا عجیب تر تھیں تمہاری یادیں میں زندہ رہ کر نہ جی سکا تھا چلی تھی مجھ میں اک ایسی آندھی کہ دل کا خیمہ اکھڑ گیا تھا برس رہی تھی یہ کیسی بارش کہ درد مجھ میں ٹپک رہا تھا بہا تھا آنکھوں سے میری آنسو کہ کوئی منظر پگھل گیا تھا رکا ہوا ہوں میں جس کی خاطر وہ میری خاطر نہ رک سکا تھا وہ مجھ پہ اترا عذاب بن کر جو دل کے مندر کا دیوتا تھا
khizaan ki rut mein ye mashghala thaa





