
Ehtisham Bachhrayuni
Ehtisham Bachhrayuni
Ehtisham Bachhrayuni
Ghazalغزل
ishq mein vasl ki tadbir bataane vaalaa
عشق میں وصل کی تدبیر بتانے والا کون تھا زہر کو اکسیر بتانے والا ہوگا ناواقف آداب محبت کوئی حلقۂ زلف کو زنجیر بتانے والا آئنہ دیکھ کے سمجھا ہوں کہ سچ کہتا تھا وہ مجھے آپ کی تصویر بتانے والا مصحف رخ کی بھی تفسیر بتاتا جائے لفظ قرآن کی تفسیر بتانے والا میں ہی یوسف تھا زلیخا کے قفس میں کل شب ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا وہ جو کہتا تھا مرے ہاتھ کی ریکھا میں ہے تو کتنا جھوٹا تھا وہ تقدیر بتانے والا لائی ہے موت کو اب سامنے تقدیر مری اب بتائے کوئی تدبیر بتانے والا وہ بھی ہوگا کوئی مجروح یقیناً یارو ابروئے ناز کو شمشیر بتانے والا احتشامؔ اتنے بڑے شہر میں کوئی نہ ملا اس نظر میں تری توقیر بتانے والا
haathon mein thaa ik haath abhi kal ki baat hai
ہاتھوں میں تھا اک ہاتھ ابھی کل کی بات ہے جنت تھی کائنات ابھی کل کی بات ہے نیرنگئ بہار چمن طعنہ زن ہے کیوں رنگین تھی حیات ابھی کل کی بات ہے اتنے بڑے جہاں میں اکیلا نہیں تھا میں وہ بھی تھے میرے ساتھ ابھی کل کی بات ہے دل بھی تھا آپ بھی تھے جواں حسرتیں بھی تھیں کیا کیا تھے واقعات ابھی کل کی بات ہے تبدیل ہو گیا ہے جو مٹی کے ڈھیر میں وہ دل تھا سومنات ابھی کل کی بات ہے آج ان کو دیکھنا بھی مقدر نہیں رہا ہوتی تھی ان سے بات ابھی کل کی بات ہے ہنسئے نہ مجھ پہ وقت کی میزان دیکھیے دن سے سوا تھی رات ابھی کل کی بات ہے میرے لئے تھا دوستو ہر روز روز عید تھی شب شب برات ابھی کل کی بات ہے آج احتشامؔ کوئی بھی قیمت نہیں رہی تھی اپنی بات بات ابھی کل کی بات ہے
haram ki raah mein saaqi kaa ghar bhi aataa hai
حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہے سفر میں لمحۂ تر کہ سفر بھی آتا ہے تجھے کہ پردہ نشیں یہ ہنر بھی آتا ہے نظر بھی آتا نہیں اور نظر بھی آتا ہے دبی دبی سی زباں میں یہ پوچھنا قاصد کبھی خیال میں آشفتہ سر بھی آتا ہے تمہاری بات ہے کچھ اور یوں تو آنے کو غریب خانے پہ اکثر قمر بھی آتا ہے غموں کی شام ہے بے شک مگر اداس نہ ہو بشکل شام پیام سحر بھی آتا ہے مری تباہی کا باعث مرا نصیب سہی مگر یہ حرف تری ذات پر بھی آتا ہے جواب خط کی تو امید احتشامؔ کجا یہ دیکھ لوٹ کے پیغامبر بھی آتا ہے
kyaa us kaa gila yurish-e-tohmaat bahut hai
کیا اس کا گلہ یورش تہمات بہت ہے زندہ ہیں جو ہم لوگ یہی بات بہت ہے جو تم نے بجھا ڈالے دیے ان کو جلا دو اے صبح کے متوالو ابھی رات بہت ہے اس واسطے گل چیں کو ہوئی مجھ سے عداوت تزئین گلستاں میں مرا ہاتھ بہت ہے ان فرقہ پرستوں کے دلوں میں ہے کدورت اور ورد زباں لفظ مساوات بہت ہے ان امن پسندوں کے پرکھنے کو کسوٹی اس دور کی تفصیل فسادات بہت ہے یہ بیٹوں کے سر بھائی کا خوں بہنوں کی چیخیں عبرت ہو اگر ہم کو یہ سوغات بہت ہے بے حس ہو جو انساں تو کہے جائیے کچھ بھی غیرت ہو اگر دل میں تو اک بات بہت ہے سینے سے تری غم کو لگائے تو رکھیں گے ناساز مگر گردش حالات بہت ہے ہاں بیٹھو گدا بن کے برس جائے گی دولت ان پختہ مزاروں میں کرامات بہت ہے
yuun bhi hoti hai sakhaavat is kaa andaaza na thaa
یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھا بھیک اس گھر سے ملی جس گھر کا دروازہ نہ تھا شکریہ تیرا نگاہ ناز تیرا شکریہ منتشر اس طرح اپنے دل کا شیرازہ نہ تھا اب نہ مستقبل عیاں ہے اور نہ ماضی کے نقوش وقت کا چہرہ بہت شفاف تھا غازہ نہ تھا تھی مجھے دنیا سے نفرت تھا مجھے لوگوں سے بیر آپ پر تو بند میرے دل کا دروازہ نہ تھا ناپنے آئے تھے مجھ کو غرق ہو کر رہ گئے دوستوں کو میری گہرائی کا اندازہ نہ تھا یہ ہوئی عقدہ کشائی در حقیقت بعد مرگ زیست میدان عمل تھی کوئی خمیازہ نہ تھا صحن گلشن میں ملی اکثر دوبارہ تازگی دوستو کنج قفس میں زخم دل تازہ نہ تھا قیس وہ بتلا رہا تھا خود کو لیکن احتشامؔ کوئی بھی سنگ ملامت کوئی آوازہ نہ تھا
uThaa bhi dil se agar meri chashm-e-tar mein rahaa
اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا خدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہا نہ جانے کون سی اس میں کشش تھی پوشیدہ تمام عمر وہ چہرہ مری نظر میں رہا ستم شعار سے ہم جیتے جی یہ کیوں کہہ دیں کہ حوصلہ نہ ہمارے دل و جگر میں رہا نہ روک پاؤں گا ہرگز میں تیری رسوائی تو اشک بن کے اگر میری چشم تر میں رہا وہ میری طرح بھی خانہ خراب کیوں رہتا بنا کے دل کو مرے گھر وہ اپنے گھر میں رہا فنا کے بعد بھی کی ہے تری قدم بوسی میں خاک ہو کے بھی تیری ہی رہ گزر میں رہا گیا جو تاج ملی با کمال درویشی زمانہ یوں بھی مرے حلقۂ اثر میں رہا ضرور ہو نہ ہو تو تھا مجھی میں پوشیدہ یہ ذوق سجدہ ہمیشہ جو سر کے سر میں رہا گیا جو منزل مقصود تک تو دیوانہ یہ اہل ہوش ہمیشہ اگر مگر میں رہا ہے احتشامؔ زمانے میں بڑھ کے ایک سے ایک وہ کون ہے کہ جو یکتا کسی ہنر میں رہا





