SHAWORDS
Ejaz Haidar

Ejaz Haidar

Ejaz Haidar

Ejaz Haidar

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

عجیب طرح کا اک غم ہے جاں سے لپٹا ہوا بگولا جیسے کوئی بادباں سے لپٹا ہوا میں لکھنے بیٹھوں تو کاغذ ہی بھیگ جاتا ہے وہ شخص یوں ہے مری داستاں سے لپٹا ہوا طلب سکون میں کرتا ہوں بے سکونی سے کہ میرا سود ہے میرے زیاں سے لپٹا ہوا میں نیند میں ہوں مگر خواب کس طرح دیکھوں مرا شعور ہے میرے گماں سے لپٹا ہوا اگرچہ نیند مجھے اب بھی آ ہی جاتی ہے مگر وہ نیند کہ سوتا تھا ماں سے لپٹا ہوا بغیر پوچھے مجھے راستہ بتاتا ہے کوئی تو ہے کہ مرے کارواں سے لپٹا ہوا

ajiib tarah kaa ik gham hai jaan se lipTaa huaa

غزل · Ghazal

وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے اور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہے نمٹ لوں اس سے تو سوچوں گا اپنے بارے میں ابھی تو میرے گلے زندگی پڑی ہوئی ہے نگاہ مجھ پہ کرے گا ضرور دشت جنوں ذرا سی خاک مرے سر میں بھی پڑی ہوئی ہے جو بات ہو نہ سکی اس کی بات کی جائے وہ بات جو کہ ابھی ان کہی پڑی ہوئی ہے میں اس لیے بھی نہیں کھولتا وہ الماری پرانے کپڑوں میں دیوانگی پڑی ہوئی ہے

vahin pe gham hai jahaan par khushi paDi hui hai

غزل · Ghazal

بات جھوٹی اثر خیالی ہے سرفروشی کا سر خیالی ہے کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر یعنی سارا سفر خیالی ہے بھائی چارہ خلوص آشتی امن ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے جلتے رہنا چراغ شب مرے ساتھ ہجر بھاری سحر خیالی ہے آتے جاتے رہا کرو اس پر دل میں اک رہ گزر خیالی ہے ننگے پاؤں کوئی نہیں آتا اب تو ہر دوپہر خیالی ہے

baat jhuTi asar khayaali hai

غزل · Ghazal

تاج میں ہو بھی سکتا ہے ہیرا کھو بھی سکتا ہے جاگے بھاگ تو مان نہ کر بخت ہے سو بھی سکتا ہے آنکھ میں رہنے والے سن اشک ڈبو بھی سکتا ہے وہ قہار بھی ہے لیکن بندہ رو بھی سکتا ہے جس میں کاٹنے کا دم ہو وہ ہی بو بھی سکتا ہے کون کسی کا ہے اعجازؔ کیا کوئی ہو بھی سکتا ہے

taaj mein ho bhi saktaa hai

غزل · Ghazal

ہجر پیہم ہے کیا کیا جائے مستقل غم ہے کیا کیا جائے ایک تصویر سامنے ہے مگر آنکھ پر نم ہے کیا کیا جائے اس کی عادت ہے دیر کر دینا زندگی کم ہے کیا کیا جائے سونپ دیتا ہوا کو خاک اپنی پر ابھی نم ہے کیا کیا جائے کیسا جھگڑا ہے میرے اندر یہ شور ہر دم ہے کیا کیا جائے میں ہوں تنہا اور آپ کے حق میں ایک عالم ہے کیا کیا جائے جھوٹ کا اور عدل کا حیدرؔ ربط باہم ہے کیا کیا جائے

hijr-e-paiham hai kyaa kiyaa jaae

غزل · Ghazal

خوشی کی بات تھی لیکن مجھے رلا گئی ہے کہاں سے بات چلی تھی کہاں تک آ گئی ہے مرا خدا تو یقیناً بھرم رکھے گا مرا میں جانتا ہوں کہ اس تک مری دعا گئی ہے میں عام طور پہ چلتا ہوں اس سے آگے مگر کہیں کہیں مرے آگے مری انا گئی ہے میں اپنے نام کی تختی نہیں لگاتا کہیں مرا پتہ مری بے مائیگی بتا گئی ہے سنبھل کے بیٹھ تو مسند پہ صاحب منصب کسی کی جان کسی کی یہاں قبا گئی ہے تجھے یہ زعم فقط تو تھا رونق محفل جرس کی گونج ترے بعد جا بجا گئی ہے

khushi ki baat thi lekin mujhe rulaa gai hai

Similar Poets