SHAWORDS
Elma Hashmi

Elma Hashmi

Elma Hashmi

Elma Hashmi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

خود کو بیداد کر کے روئے گا نیند برباد کر کے روئے گا میں تجھے یاد کر کے روؤں گی تو مجھے یاد کر کے روئے گا مدتوں بعد پنچھی نکلا ہے خود کو آزاد کر کے روئے گا خواب دل میں بسانے والے سن خواب آباد کر کے روئے گا ظلم کرنا ہے تیری عادت میں دل کو دل شاد کر کے روئے گا

khud ko bedaad kar ke roegaa

1 views

غزل · Ghazal

خود کو اتنا بھی طلب گار نہیں کرنا تھا بات کرنی تھی مگر پیار نہیں کرنا تھا دیکھ غصے نے تجھے آج فنا کر ڈالا بس یہی کام تجھے یار نہیں کرنا تھا وہ تو تو خود ہی مرے سامنے آیا ورنہ یار مجھ کو ترا دیدار نہیں کرنا تھا اس میں آ جاتے ہیں اب دیکھ لے ایرے غیرے اپنے دل کو تجھے بازار نہیں کرنا تھا اس نے پوچھا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہے نا ایسے موقع پہ تو انکار نہیں کرنا تھا اس قدر مرنے سے ڈرنا بھی نہیں تھا ہم کو اس قدر جینا بھی دشوار نہیں کرنا تھا

khud ko itnaa bhi talabgaar nahin karnaa thaa

1 views

غزل · Ghazal

راز کیا کیا ہیں مرے دل میں سناؤں کیسے زخم کس کس نے دئے ہیں یہ بتاؤں کیسے تیری یادیں مجھے بے چین تو کرتی ہیں مگر اپنے دل کو میں کہیں اور لگاؤں کیسے تیری آنکھوں میں نظر آتا ہے سب کچھ مجھ کو تیری آنکھوں سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے سب رقیبوں نے مجھے گھیر رکھا ہے جاناں اپنی جانب میں بلاؤں تو بلاؤں کیسے صبح ہونے پہ بھی سورج کا نہیں نام و نشاں میں امیدوں کے چراغوں کو بجھاؤں کیسے

raaz kyaa kyaa hain mire dil mein sunaaun kaise

1 views

غزل · Ghazal

یہ خوشی تھی کہ اس کا پیار ملا اور یہ غم کہ ایک بار ملا اس کے آنے کا راستہ دیکھا میری آنکھوں کو انتظار ملا بے سہارا غریب لوگوں کو کتنی مشکل سے روزگار ملا پہلے تو لاکھ جاں نثار ملے بعد میں ایک غم گسار ملا مدتوں بعد ملنے آیا تو مدتوں بعد یہ قرار ملا

ye khushi thi ki us kaa pyaar milaa

1 views

غزل · Ghazal

کسی سے دل لگانا چاہیئے تھا کسی کا دل جلانا چاہیئے تھا ہماری آنکھ میں تم تیرتے ہو تمہیں تو ڈوب جانا چاہیئے تھا محبت سے من اس کا بھر گیا سو بچھڑنے کا بہانا چاہیئے تھا اسی سے سب چھپاتے رہ گئے ہم جسے سب کچھ بتانا چاہیئے تھا بہت آسان ہے دل توڑنا سو اسے پتھر بنانا چاہیئے تھا

kisi se dil lagaanaa chaahiye thaa

غزل · Ghazal

ایسے وہ جانے لگا مجھ کو دلاسہ دے کر جیسے بچہ کو کوئی جائے کھلونا دے کر جو بھی آتا ہے ٹھہرتا ہے چلا جاتا ہے کوئی رکتا ہی نہیں مجھ کو سہارا دے کر سارے ہم راز وفادار نہیں ہوتے ہیں مجھ کو سمجھا ہی دیا دوست نے دھوکا دے کر میرے بابا نے بہت ناز سے رکھا مجھ کو ماں نے پالا ہے مجھے منہ کا نوالہ دے کر کیوں پریشان رہا کرتے تھے والد میرے آج محسوس ہوا گھر کا کرایہ دے کر

aise vo jaane lagaa mujh ko dilaasa de kar

Similar Poets