SHAWORDS
Fahmida Mosarrat Ahmad

Fahmida Mosarrat Ahmad

Fahmida Mosarrat Ahmad

Fahmida Mosarrat Ahmad

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

viraan saa ab huun jo main aisaa to nahin thaa

ویران سا اب ہوں جو میں ایسا تو نہیں تھا ہوتا تھا سمندر کبھی صحرا تو نہیں تھا چہرے پہ رقم تھا جو وہ پڑھ ہی نہیں پایا سب جانتا تھا اتنا بھی سادہ تو نہیں تھا آنگن میں مرے دل کے چلی آئی تھی کل شام تھی یاد تمہاری کوئی جھونکا تو نہیں تھا چپ چاپ تصور میں چلے آتے کسی روز سوچوں پہ میری جاں کوئی پہرہ تو نہیں تھا ہم درد کا افسانہ سناتے اسے کیوں کر ظاہر میں جو اپنا تھا پر اپنا تو نہیں تھا سب چل دئے موجوں کے حوالے اسے کر کے مانا کہ بھنور میں تھا وہ ڈوبا تو نہیں تھا وہ جس کو تھا سینے کا ہر اک زخم دکھایا باتوں پہ مری اس کو بھروسہ تو نہیں تھا کر کے مجھے برباد گیا ہے وہ ستم گر گلشن یوں ہی دل کا مرے اجڑا تو نہیں تھا کیوں روتا ہے اب ہجر میں تیرے وہ مسرتؔ جاتے ہوئے اس نے تجھے روکا تو نہیں تھا

غزل · Ghazal

mil ke ik baar use yaad nahin hone ke

مل کے اک بار اسے یاد نہیں ہونے کے دل کے اجڑے نگر آباد نہیں ہونے کے اب نئے ظلم تو ایجاد نہیں ہونے کے صاحبا ہم کوئی فریاد نہیں ہونے کے سچے عشاق تو ناپید ہوئے دنیا میں اب کوئی شیریں و فرہاد نہیں ہونے کے دل میں ٹھانی ہے بھلا دیں تمہیں دھیرے دھیرے اور اس عشق میں برباد نہیں ہونے کے ایک وعدے نے یوں پابستہ کیا ہے ہم کو اب کسی طور بھی آزاد نہیں ہونے کے ہم نے ہر حال میں جینے کی قسم کھائی ہے ہم کبھی زیست میں ناشاد نہیں ہونے کے ایک کم ظرف سے کیا ظرف کی امید کریں ہیں جو بونے کبھی شمشاد نہیں ہونے کے

غزل · Ghazal

kuchh roz chaahaton kaa ajab silsila rahaa

کچھ روز چاہتوں کا عجب سلسلہ رہا وہ دھڑکنوں میں پیار کی صورت بسا رہا اک شخص جس کو دل سے بھلایا تھا بار بار یہ دل کہ پھر بھی اس کو سدا سوچتا رہا جس کے جنوں میں ہم نے بتا دی تمام عمر یہ کیا کہ عمر بھر ہی وہ ہم سے خفا رہا یہ سچ ہے مجھ سے ہاتھ چھڑا کر وہ جا چکا جاتا اسے میں دور تلک دیکھتا رہا تم اس کی بے رخی پہ پریشاں ہو کس لیے دل توڑنا تو اس کا سدا مشغلہ رہا چاہت میں اپنا ذوق سفر بھی عجیب تھا اس سے ہی شوق حسن مسرتؔ سجا رہا

غزل · Ghazal

guzri thi ek baar jo dil ki gali se main

گزری تھی ایک بار جو دل کی گلی سے میں دو چار آج بھی ہوں اسی بے کلی سے میں بیزار اس قدر ہوں غم عاشقی سے میں مجھ سے ذرا خفا ہے خوشی اور خوشی سے میں نکلی ہوں جب سے ڈھونڈنے بے لوث چاہتیں دھوکا ہی کھا رہی ہوں بڑی سادگی سے میں معدوم اس کی آنکھ سے پہچان ہو گئی جیسے کہ مل رہی تھی کسی اجنبی سے میں جنس وفا جہان میں نایاب کیوں ہوئی رو رو کے پوچھتی رہی ہر آدمی سے میں اپنی خوشی سے ویسے بسر تو نہ کر سکی ناراض بھی نہیں ہوں مگر زندگی سے میں میں نے بھی صاف لفظوں میں غم سے یہ کہہ دیا پیچھا چھڑا کے آئی ہوں افسردگی سے میں مے خانہ چل کے رند کا خود پوچھتا ہے حال مانوس اس طرح سے ہوں اب مے کشی سے میں جام و سبو نہیں تری آنکھوں سے اب پلا اے ساقی مر نہ جاؤں کہیں تشنگی سے میں

غزل · Ghazal

zaat jab bhi uDaan tak pahunchi

ذات جب بھی اڑان تک پہنچی وسعت لا مکان تک پہنچی جب حقیقت گمان تک پہنچی اک نئے امتحان تک پہنچی بات پھیلائی تھی جو دشمن نے دیکھو وہ مہربان تک پہنچی کشتیاں سب جلا کے آئی تھی جب وہ تیرے مکان تک پہنچی اک ترا نام کیا لیا ہم نے بات تیر و کمان تک پہنچی رازداں سے کہی تھی چپکے سے بات سارے جہان تک پہنچی اب ترے انتظار میں اے دوست مسکراہٹ تھکان تک پہنچی اوڑھ کر ضبط کی ردا پیہم حوصلے کی چٹان تک پہنچی آخر شب دعا مسرتؔ کی جا کے پھر آسمان تک پہنچی

غزل · Ghazal

ho sake to mujhe ik shaam inaayat karnaa

ہو سکے تو مجھے اک شام عنایت کرنا برپا اس دل پہ مری جان قیامت کرنا پھر تری یاد میں رقصاں ہے مری وحشت دل کتنا مشکل ہے تری یاد کو رخصت کرنا ایسا ٹوٹا ہے تغافل پہ کسی کے یہ دل ہم سے رو رو کے کہے اب نہ محبت کرنا پیار کے نام پہ بے مول ہی بک جاتے ہیں ہم کو آتا نہیں جذبوں کی تجارت کرنا ہے نوازا تجھے رازق نے تو پھر اے انساں جتنی ممکن ہو تو دنیا میں سخاوت کرنا جان لے کہتی ہوں للکار کے میں تجھ سے عدو میں نے سیکھا ہے سدا سچ کی حمایت کرنا ہم نے تھاما ہے جو انصاف کا دامن یارو ہم سے ہرگز نہیں امید رعایت کرنا

Similar Poets