
Faisal Nadeem Faisal
Faisal Nadeem Faisal
Faisal Nadeem Faisal
Ghazalغزل
kuchh saliqe se agar chaak ghumaayaa jaataa
کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتا عین ممکن ہے کہ شہکار بنایا جاتا جانے والے نے غلط فہمی میں لوٹ آنا تھا بے خیالی میں بھی گر ہاتھ ہلایا جاتا عشق منصور کو خود دار تلک لے آیا اس سے پہلے کہ کوئی حشر اٹھایا جاتا لوٹنے والا اسی سوچ میں مر جائے گا کاش زنجیر کو دو بار ہلایا جاتا رنگ بھرنے میں مصور نے ریا کاری کی ورنہ تصویر کو مندر میں لگایا جاتا اس میں وحشت ہے اذیت ہے زبوں حالی ہے اب یہ کردار نہیں مجھ سے نبھایا جاتا آپ تو شکل سے لگتے ہیں اداکار مجھے آپ جیسوں کو نہیں دوست بنایا جاتا اولیں خط کو جلا کر وہ گنہ گار ہوا کاش تعظیم سے دریا میں بہایا جاتا میں نے بدلی ہیں روایات پرانی ورنہ میں بھی فیصلؔ کسی پٹری سے اٹھایا جاتا
saraab-o-dasht vahi saarbaan tisraa hai
سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہے سفر کے ساتھ بندھا امتحان تیسرا ہے حضور فہم و فراست سے کام لیجئے گا سڑک کے مغربی جانب مکان تیسرا ہے یہ دو جہان سے آگے کی ایک منزل ہے عطائے عشق محمد جہان تیسرا ہے ازل ابد کے نشاں زندگی کے حامی ہیں تباہیوں کی عبارت نشان تیسرا ہے ہم اس سے پہلے بھی گزرے ہیں امتحانوں سے پڑاؤ پہلا سہی امتحان تیسرا ہے یہ دونوں کان تو دیوار کی امانت ہیں جو انتہائے یقیں ہے وہ کان تیسرا ہے میں دھوپ اوڑھ کے نکلا تو یہ کھلا فیصلؔ یقین دوسرا موسم گمان تیسرا ہے
agarche tum saa banaayaa nahin gayaa huun main
اگرچہ تم سا بنایا نہیں گیا ہوں میں مگر بنا کے مٹایا نہیں گیا ہوں میں اسے یہ دکھ کہ زمیں تنگ قافیہ مشکل مجھے یہ دکھ کہ نبھایا نہیں گیا ہوں میں میں جس طرف سے مکمل دکھائی دیتا ہوں اسی طرف سے دکھایا نہیں گیا ہوں میں یہ انکساری ازل سے مرے خمیر میں ہے جھکا ہوا ہوں جھکایا نہیں گیا ہوں میں غرور لازمی عنصر تھا اس وزارت کا سو خود ہٹا ہوں ہٹایا نہیں گیا ہوں میں میں اپنی ذات میں اک معتبر حوالہ ہوں کسی کے ساتھ ملایا نہیں گیا ہوں میں میں مسئلوں میں فلسطین ہوں مگر فیصلؔ کسی جگہ پہ اٹھایا نہیں گیا ہوں میں
mujh par nishaan lagaaiye pahle savaaliye
مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیے پھر مسئلوں کو کھولیے اور حل نکالیے جذبات آ سکے ہیں کبھی اختیار میں آنکھوں کی فکر چھوڑیئے دل کو سنبھالیے وحشت نے میری نیند پہ پہرے لگا دئے کچھ خواب میری آنکھ کی جانب اچھالیے وہم و گماں اتار کے پھینکے ہیں اور پھر ہم نے یقیں کی اون سے خرقے سلا لیے کم پڑ رہا تھا پہلے ہی کشکول زندگی اور ہم نے اپنی ذات کے غم بھی اٹھا لیے کچھ لوگ گاؤں چھوڑ کے شہروں میں جا بسے باقی کو انتظار کی دیمک نے کھا لیے فیصلؔ وہ پھر بھی آنکھ پہ ظاہر نہیں ہوا پردے بھی درمیان سے سارے اٹھا لیے
kuchh aisaa rabt musalsal rahaa shuur se bhi
کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھی کہ خوف آنے لگا عشق کے وفور سے بھی وہ شش جہات سے یکساں دکھائی دیتا ہے اسے قریب سے دیکھا ہے اور دور سے بھی ہمارا عشق حقیقت میں غار ثور و حرا اگرچہ خاص عقیدت ہمیں ہے طور سے بھی سنا ہے خاص تعلق ہے خارجیت کا ہماری ذات کے کچھ داخلی امور سے بھی تبھی تو ذہن پہ حاوی ہے عشق صحرائی ازل سے دل کے مراسم رہے کھجور سے بھی یہ اور بات ہے مانو کہ اختلاف کرو نشانیاں تو ہزاروں ملیں زبور سے بھی لہو میں رقص کناں عشق ہے مرے فیصلؔ جڑا ہوا ہے کوئی سلسلہ قصور سے بھی
mujh diye par ye ik ataa rahi hai
مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے خود محافظ مری ہوا رہی ہے لوگ سہمے ہوئے ہیں ہجرت سے دھول چہروں پہ مسکرا رہی ہے تیرے ایمان کا خدا حافظ تو اسے نام سے بلا رہی ہے شور ہر گام کامیاب رہا خامشی غم میں مبتلا رہی ہے وقت پر کار بن گیا سو یہاں بے بسی دائرے بنا رہی ہے اس تعلق پہ موت واجب تھی دوستی درمیان آ رہی ہے تیرے متلاشیوں کی خیر جنہیں تیرگی راستے بتا رہی ہے اس کا رد عمل بھی دھیان میں رکھ تو اگر مسئلہ اٹھا رہی ہے ہم غریبوں کی عمر بھر فیصلؔ پہلی ترجیح بس انا رہی ہے





