SHAWORDS
Faisal Tufail

Faisal Tufail

Faisal Tufail

Faisal Tufail

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

zabaan se kuchh na kahaa an-kahi ne saath diyaa

زباں سے کچھ نہ کہا ان کہی نے ساتھ دیا کلی سے ملتے ہوئے بیکلی نے ساتھ دیا یہ بات سنتے ہی آنسو نکل پڑے تھے مرے ملیں گے پھر سے اگر زندگی نے ساتھ دیا اداس شام اکیلے میں جھیلتا کیسے تمہاری یاد تھی اور بانسری نے ساتھ دیا گزرنا جان سے آسان تو نہیں تھا مگر بھلا ہو یار جو اس بے دلی نے ساتھ دیا سفر تو خیر سفر تھا گزر ہی جانا تھا جو تم نہ آئے تو اک اجنبی نے ساتھ دیا وہ مجھ کو چھوڑ کے جاتا تو مر نہ جاتا میں چلا گیا ہے مگر پھر اسی نے ساتھ دیا تمہیں یہ کس نے کہا ہے دیا دیے سے جلے میں جل رہا تھا تو میرا کسی نے ساتھ دیا میں نسل تیرگی کے وار سہہ رہا تھا بہت پھر اک چراغ جنی روشنی نے ساتھ دیا

غزل · Ghazal

ik baar jo milaa thaa to khoyaa nahin gayaa

اک بار جو ملا تھا تو کھویا نہیں گیا اس طرح وہ گیا ہے کہ گویا نہیں گیا کل رات تیری یاد تھی کمرے میں یا کہ تو اس درجہ روشنی تھی کہ سویا نہیں گیا مجھ کو یہ اعتراف ہے کہ ناتواں ہوں میں مجھ سے مرا وجود بھی ڈھویا نہیں گیا آنسو ٹھہر گئے ہیں مرے اس کے گال پر شبنم سے اس گلاب کو دھویا نہیں گیا پھر میں نے قہقہے کا سہارا لیا ہے آج دکھ اس قدر زیادہ تھا رویا نہیں گیا وہ لطف عشق ہو کہ ستم ہائے روزگار مجھ کو کسی لڑی میں پرویا نہیں گیا پھر کس ثمر کی تم ہو تمنا لیے ہوئے گر خود کو بھی زمین میں بویا نہیں گیا

غزل · Ghazal

vaqt ki rau ko ravaani se nikaalaa jaae

وقت کی رو کو روانی سے نکالا جائے چند لمحوں کو گرانی سے نکالا جائے مجھ کو تو کھینچ لیا دست جنوں نے لیکن اب مرا عکس بھی پانی سے نکالا جائے مدتوں اس کی رقابت کو سہا ہے ہم نے اب یہ کردار کہانی سے نکالا جائے زہر آلود ہوئی جاتی ہے خوشبو اس سے سانپ کو رات کی رانی سے نکالا جائے پھر ہوا لشکر فرعون مقابل فیصلؔ راستہ پھر کوئی پانی سے نکالا جائے

غزل · Ghazal

khaamoshi tiri chikh se ye bhed khulaa hai

خاموشی تری چیخ سے یہ بھید کھلا ہے سناٹے سے بھی لپٹی ہوئی کوئی صدا ہے اے ذوق نظر دیکھ ترے سامنے کیا ہے کہنہ ہی سہی آنکھ پہ منظر تو نیا ہے وہ چاند نہ نکلا تو ستارے بھی تھے گم صم سورج بھی بہت دیر سے بیدار ہوا ہے چل تجھ کو لئے جاتا ہوں دکھلانے سمندر دریا مری کشتی میں جو تو بیٹھ گیا ہے واجب ہے اسے چوم کے آنکھوں سے لگاؤں اک حرف جو تسبیح محبت سے گرا ہے منزل سے کبھی میری شناسائی نہیں تھی رستہ ہی مرا یار تھا جو روٹھ گیا ہے چرچا ہے بہت شہر میں جس موج نمو کا وہ خواب مری آنکھ سے ہی ٹپکا ہوا ہے اے صورت مہتاب ترا ہاتھ بھی آخر لہروں کی روانی میں کہیں چھوٹ گیا ہے

غزل · Ghazal

kaise kaise kamaal kartaa huun

کیسے کیسے کمال کرتا ہوں سنگ کو ہم خیال کرتا ہوں خواب خود رو ہیں سارے آنکھوں میں میں فقط دیکھ بھال کرتا ہوں ایک ہی کام تھا محبت کا وہ بھی اب خال خال کرتا ہوں کیا مجھے رائیگاں ہی جانا ہے خود سے اکثر سوال کرتا ہوں سب مناظر سے بچ نکلنے کو اک تخیل کو ڈھال کرتا ہوں میرا رونا مثال ہے لیکن رقص بھی بے مثال کرتا ہوں روشنی بھر گئی ہے یوں مجھ میں چاند کو دل خیال کرتا ہوں

غزل · Ghazal

ye koi baagh nahin phuul khilaae jaaein

یہ کوئی باغ نہیں پھول کھلائے جائیں دشت میں آئے ہیں تو خاک اڑائے جائیں سب بٹھاتے ہیں ہمیں منصب و مسند پہ مگر ہم یہ چاہیں کہ ترے ساتھ بٹھائے جائیں انگلیاں کان میں ٹھونسے ہوئے پھرتے ہیں سبھی آپ آواز لگاتے ہیں لگائے جائیں بس اسی شرط پہ آنکھیں تمہیں دے سکتا ہوں ان کو دیکھے ہوئے منظر نہ دکھائے جائیں انہیں یادوں کے سہارے ہی ترا ہجر کٹے یہ پرندے مری چھت سے نہ اڑائے جائیں آسماں چھونے کا حق آپ کا تسلیم ہمیں کچھ تعلق تو زمیں سے بھی نبھائے جائیں

Similar Poets