SHAWORDS
F

Faiyaz Rashk

Faiyaz Rashk

Faiyaz Rashk

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

jaari to ho sab ke liye farmaan-e-mohabbat

جاری تو ہو سب کے لئے فرمان محبت کر دیجئے دل سے ذرا اعلان محبت اس شخص کو دکھ درد ستاتا بھی نہیں ہے جس دل میں رہا کرتا ہے ایمان محبت آنکھوں سے بدن سے تری زلفوں کی مہک سے کرتا ہوں میں دن رات ہی اے جان محبت کیا کیجیئے میرا نہ ہوا جس کے لئے میں کرتا رہا ہر موڑ پہ سامان محبت کچھ بھی نہیں بہتر ہے زمانے میں کہیں پر دنیا میں نہیں کچھ بھی ہے شایان محبت مشکل ہیں بہت راستے نفرت کے اے بھائی ہم سب کے لئے سب سے ہے آسان محبت ان کے لئے دنیا بھی وسیع ہوتی ہے فیاضؔ ہوتا ہے وسیع جن کا بھی دامان محبت

غزل · Ghazal

jahaan mein khud ko banaane mein der lagti hai

جہاں میں خود کو بنانے میں دیر لگتی ہے کسی مقام پہ آنے میں دیر لگتی ہے عروج وقت پہ جانے میں دیر لگتی ہے ہر ایک علم کو پانے میں دیر لگتی ہے پھر ان کے پاس بھی جانے میں دیر لگتی ہے ہمیشہ ان کو منانے میں دیر لگتی ہے ہمارے شہر محلے گلی کا اب ماحول بگڑ گیا تو بنانے میں دیر لگتی ہے انا کی سوچ کو یا پھر انا کے ہونٹوں کو غموں کا حال بتانے میں دیر لگتی ہے ہے حسن والوں کا انداز یہ زمانے میں ہے عشق پھر بھی جتانے میں دیر لگتی ہے یہ بات آئے گی تم کو سمجھ میں کب فیاضؔ بلندی ملنے میں پانے میں دیر لگتی ہے

غزل · Ghazal

miTaa ke tirgi tanvir chaahtaa hai dil

مٹا کے تیرگی تنویر چاہتا ہے دل ہر ایک خواب کی تعبیر چاہتا ہے دل جسے سنبھال کے رکھ لے زمانہ یادوں میں وہ اپنی ذات کی تصویر چاہتا ہے دل میں اپنے آپ سے جب جب سوال کرتا ہوں مرے جواب میں تاثیر چاہتا ہے دل سخن پیام ہو دنیا کے واسطے کوئی دلوں کے واسطے تقریر چاہتا ہے دل نہ چاہتا ہے کہ تیر و کماں کی بات کروں نہ اپنے ہاتھ میں شمشیر چاہتا ہے دل تمہیں سے رونقیں قائم ہیں بزم ہستی کی تمہارے پیار کی جاگیر چاہتا ہے دل وہ جس پہ رشک کرے ہر کوئی زمانے میں قلم کی شوخیٔ تحریر چاہتا ہے دل

غزل · Ghazal

usi se fikr-o-fan ko har ghaDi mansub rakhte hain

اسی سے فکر و فن کو ہر گھڑی منسوب رکھتے ہیں غزل والے غزل کو صورت محبوب رکھتے ہیں زباں کی چاشنی سے تر بہ تر غزلوں کو پڑھتا ہوں یہ روحانی غذا ہے ہم جسے مرغوب رکھتے ہیں غزل تہذیب ہے میری غزل میرا تمدن ہے بزرگوں نے جو رکھا تھا وہی اسلوب رکھتے ہیں سناتے ہیں تحت میں جب غزل انداز میں اپنے پکار اٹھتی ہے دنیا ذوق ہم کیا خوب رکھتے ہیں غزل بس اس لئے پھیلا رہی ہے اپنے دامن کو کہ ہم غزلوں کے تیور کو بہت ہی خوب رکھتے ہیں جنہیں غزلوں سے الجھن ہے میاں فیاضؔ کیا بولیں نزاکت سے غزل کی ہم انہیں مرعوب رکھتے ہیں

غزل · Ghazal

khayaal-o-khvaab ko parvaaz detaa rahtaa huun

خیال و خواب کو پرواز دیتا رہتا ہوں میں اپنے آپ کو آواز دیتا رہتا ہوں جو ان کو رکھے گا دنیا میں سرخ رو کر کے میں اپنے بچوں کو وہ راز دیتا رہتا ہوں میں چھیڑتا ہوں سدا شاعری کے تاروں کو اور اپنے فن سے کوئی ساز دیتا رہتا ہوں پلٹ کے آئیں گے اک دن ضرور اچھے دن میں اپنے طور تو آواز دیتا رہتا ہوں جھلا کے حال کو اکثر زباں کے جھولے میں غم جہاں کو میں انداز دیتا رہتا ہوں لگا کے سینے سے فیاضؔ اس کے پیکر کو غزل کو ہر گھڑی اعزاز دیتا رہتا ہوں

غزل · Ghazal

har qadam khauf hai dahshat hai riyaa-kaari hai

ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے روشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہے طاقت کفر نے کہرام مچا رکھا ہے جانے کس کس کو مٹانے کی یہ تیاری ہے مل کے سب قہر بپا کرتے ہیں انسانوں پر ہے جنوں ذہن میں اور آنکھ میں چنگاری ہے اپنے انداز سے ایک ساتھ یہاں پر رہنا یہ ہماری ہی نہیں تیری بھی لاچاری ہے ہم نے ہر عہد میں رکھا ہے بھرم تیرا جب تو ہی اے وقت بتا کیا یہ وفاداری ہے اس کو دنیا میں کوئی آنکھ دکھا سکتا ہے کیا رشکؔ جس قوم میں احساس ہے بیداری ہے

Similar Poets