
Faiyyaz Bostan
Faiyyaz Bostan
Faiyyaz Bostan
Ghazalغزل
جگنوؤں کی قسم دیوں کی قسم خوبصورت ہے تو دنوں کی قسم تیرے بن دنیا چل نہیں سکتی گھر کے متروک برتنوں کی قسم مجھ سے نیندوں نے پردہ کر لیا ہے تیرے مستور بازوؤں کی قسم ختم ہے تجھ پہ داستان حیا تیرے ہمراز آئنوں کی قسم تو بہت سیدھی سادی لڑکی ہے شکن آلود بستروں کی قسم تیرا ساتھ اچھا لگتا ہے مجھ کو راستوں کی قسم گھروں کی قسم زندگی سے مجھے محبت ہے رسیوں کی قسم کنوؤں کی قسم میرے احباب مجھ سے مخلص ہیں مجھ کو یوسف کے بھائیوں کی قسم
jugnuon ki qasam diyon ki qasam
2 views
دل میں گونجا کیا اک نغمۂ تنہائی بھی اور اٹھائے پھرے ہم بار شناسائی بھی تم یقیں مت کرو لیکن میں نہیں ہوں زندہ تم کو اچھا ہے رہے زعم مسیحائی بھی اب تو شہزادی مرے گھر کو بسانے آ جا اب تو جنگوں سے پلٹ آئے ترے بھائی بھی عشق کرتا ہے بصیرت کا زیاں پہلے پہل اور پھر ہولے سے لے جاتا ہے بینائی بھی تم مرے پاس رہو لاکھ سوالات کرو میں تمہیں پیار بھی دیتا ہوں پذیرائی بھی میں نے ہر رنگ میں اقرار کیا ہے تیرا سادگی بھی تری محبوب ہے رعنائی بھی تجھ کو معلوم ہے سب صحن کے اکلوتے درخت تو مرا یار بھی ہے اور مرا بھائی بھی اس سے بڑھ کر نظر انداز کوئی کیا ہوگا واقعہ بن نہیں پائی مری رسوائی بھی میرے ہونٹوں سے تو اس درجہ سخاوت نہ برت یہ نہ ہو چھین لیں پیاسے تری رعنائی بھی خود کو کس طرح دلاؤں گا یقیں سوچتا ہوں سوچتا ہوں کہ اگر وعدے کی شام آئی بھی لوگ آ کر مری تنہائی بڑھا جاتے ہیں جی کا آزار ہے یہ انجمن آرائی بھی پھر جگا دے گا ترا ہاتھ جھٹکنا مجھ کو مجھ کو بالفرض کسی طرح سے نیند آئی بھی اے مجھے دیر سے یاد آئے ہوئے مصرع وصل چھین لوں گا میں کسی دن تری یکتائی بھی وسعت کون و مکاں حبس کدہ ہے اس کو راس آئے نہ جسے بانہوں کی گیرائی بھی
dil mein gunjaa kiyaa ik naghma-e-tanhaai bhi
1 views
اپنے اسلوب سے باہر تو نہیں آئیں گے یہ سفر زاد ہیں یہ گھر تو نہیں آئیں گے مسئلہ یہ ہے تو یک بارگی کھلتا بھی نہیں ہم بھی خود سر ہیں مکرر تو نہیں آئیں گے جسم لے آئیں گے پر دل تو نہیں آئے گا ہم ترے پہلو سے یکسر تو نہیں آئیں گے ملنے آیا ہے تو اور باہمی فرصت ہے ہمیں دن اب اس دن سے بھی بہتر تو نہیں آئیں گے ایک اک کر کے سبھی یار بڑے ہو گئے ہیں اب وہ مجھ کم کے برابر تو نہیں آئیں گے خوبرو خانہ بدوشوں کا بھرم بھی رکھ لے یہ ہمیشہ ترے در پر تو نہیں آئیں گے سنگ برداروں کے سنگ آئے ہو تم مصلحتاً یعنی اس سمت سے پتھر تو نہیں آئیں گے تیرے آنے سے ہے مشروط مری خوش بختی بھلے دن میرے کہے پر تو نہیں آئیں گے
apne uslub se baahar to nahin aaeinge
1 views
تو پوچھے گا تو سراسر برا لگے گا دوست کوئی بھی تیرے برابر برا لگے گا دوست تو آ رہا ہو تو پھر در عزیز ہوگا مجھے تو جا رہا ہو تو پھر در برا لگے گا دوست تجھے پسند نہ آئے گا میرے بعد یہ شہر مجھے بھی گاؤں کا چکر برا لگے گا دوست اسی سبب سے کہ دیکھا نہیں ہے صبح تجھے تمام دن مجھے دفتر برا لگے گا دوست ہمارے بعد سفر زاد بھائیں گے تجھ کو ہمارے بعد تجھے گھر برا لگے گا دوست تو پھول ہے تجھے بھائیں گے توڑنے والے میں پیڑ ہوں مجھے پتھر برا لگے گا دوست جبین و جامہ تو جچتے ہیں پرشکن کے بغیر برا لگے گا تو بستر برا لگے گا دوست دعائے وصل میں میرے شریک کار رہو وگرنہ ہجر میں جی کر برا لگے گا دوست
tu puchhegaa to saraasar buraa lagegaa dost
1 views
تجھ کو ہی وعدہ وفا کرنے میں دشواری ہے میری تو شام ملاقات کی تیاری ہے اے مرے خاک کے پھول اونچے سروں میں نہ مہک ایسا لگتا ہے مجھے سانس کی بیماری ہے اور بھی چیزیں کئی مجھ میں بری ہیں لیکن سر فہرست یہ بے موسمی بیزاری ہے سادہ دل ہوں سو تجھے تیری رضا پر چھوڑا یہ مرا حسن طلب ہے مری عیاری ہے سینے کی وادی میں ناخن نے اگائے ہیں گلاب باغوں پر طعنہ زن اک مٹتی ہوئی کیاری ہے
tujh ko hi vaa'da vafaa karne mein dushvaari hai
1 views
گویا خورشید بھرے دن میں عیاں ہوتا ہے کوئی اس شہر میں اس طرح جواں ہوتا ہے بارہا سکھیوں کے جھرمٹ میں اسے دیکھتا ہوں باغ میں جیسے کوئی شعلہ رواں ہوتا ہے آنکھیں ہوتی ہیں مگر ایسی کہاں ہوتی ہیں حسن ہوتا ہے مگر ایسا کہاں ہوتا ہے جب اچانک ترے چہرے پہ نظر پڑتی ہے سورۂ نور کی آیت کا گماں ہوتا ہے ان دنوں تیری ضرورت ہے ہمیشہ سے زیاد ان دنوں تو مرے صد رنگ کہاں ہوتا ہے
goyaa khurshid bhare din mein 'ayaan hotaa hai
1 views





