
Faiz Khalilabadi
Faiz Khalilabadi
Faiz Khalilabadi
Ghazalغزل
یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا مگر تجھے تری تصویر سے الگ کروں گا مسافرت سے جو فرصت ہوئی نصیب تو پھر تھکن کو پاؤں کی زنجیر سے الگ کروں گا جو میرے دائمی احساس سے جڑا ہے سبق میں کس طرح اسے تحریر سے الگ کروں گا کنوارے خواب ہوئے جا رہے ہیں آوارہ انہیں میں لذت تعبیر سے الگ کروں گا اتارنا ہے مجھے اب انا کو موت کے گھاٹ سو اس کو لہجۂ شمشیر سے الگ کروں گا مرے بدن میں لگی ہے جو ہجر کی دیمک میں اس کو وصل کی تدبیر سے الگ کروں گا روایتوں سے رکھوں گا میں فیضؔ رشتہ مگر سخن ذرا سا تقی میرؔ سے الگ کروں گا
ye aur baat ki taakhir se alag karungaa
سلگتی دھوپ میں ہر سائبان دے چکا ہوں میں اس زمیں کو کئی آسمان دے چکا ہوں وہ تیرے عشق کا ہو یا تری جدائی کا اسی حیات میں سب امتحان دے چکا ہوں تو دل نشیں ہے وفادار ہے ذہین بھی ہے مگر میں اور کسی کو زبان دے چکا ہوں مری زبان پہ تالا لگانے والے سنیں میں اپنی آنکھوں سے اپنا بیان دے چکا ہوں وہ آدمی مجھے بے چینیاں پلا رہا ہے جسے سکھوں کا میں سارا جہان دے چکا ہوں مرے وجود کو مٹی کی شکل دی جس نے یہ مٹی میں اسی مٹی کو دان دے چکا ہوں مجھے بھلائیں گے وہ فیضؔ کس طرح آخر وہ جن لبوں کو میں اپنے نشان دے چکا ہوں
sulagti dhuup mein har saaebaan de chukaa huun
لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیا جب نظر نامۂ اعمال کے دفتر پہ پڑی نیکیوں پر مجھے ابھری نظر آئی دنیا ظاہری آنکھوں سے دیکھو تو دکھائی دے پہاڑ باطنی آنکھوں سے دیکھو تو ہے رائی دنیا یہ قدم تیرے تعاقب میں چلے ہیں کتنا یہ بتائے گی مری آبلہ پائی دنیا جتنے دکھ درد تحائف میں دیئے ہے تو نے لے کے آئے گی ازل سب کی دوائی دنیا فیضؔ جو پھرتی ہے خود خانہ بدوشوں کی طرح کیا کرے گی وہ میری راہ نمائی دنیا
log kahte hain bahut ham ne kamaai duniyaa
تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھا وہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھا اسے تلاش رہی ہیں مری اداس آنکھیں جو خواب رات کے پچھلے پہر بنا ہوا تھا پہنچ کے کوچۂ جاناں میں آ گیا باہر مرے وجود کے اندر جو ڈر بنا ہوا تھا کمال عشق نے میرے کیا ہے زیر اسے کسی کا حسن جو کل تک زبر بنا ہوا تھا اترتی کیسے سکوں کی وہاں کوئی چڑیا محل جو حرص کی بنیاد پر بنا ہوا تھا بنا دیا اسے انسان تیری قربت نے ترے فراق میں جو جانور بنا ہوا تھا یہ اس کا شوق نہیں اس کی انکساری تھی وسیع ہو کے بھی جو مختصر بنا ہوا تھا پہنچ گیا ہے جوانی سے اب بڑھاپے تک وہ ایک دکھ جو شریک سفر بنا ہوا تھا ہوس کے چاک کی مٹی جوان تھی جب تک تمام شہر یہاں کوزہ گر بنا ہوا تھا وہ جانتا تھا مرے ان کہے دکھوں کا علاج مگر وہ فیضؔ میاں بے خبر بنا ہوا تھا
tamaam-duniyaa kaa lakht-e-jigar banaa huaa thaa
یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تک جس طرح رسی سے جاتا ہے گھڑا پانی تک کاٹنی پڑتی ہے ناخن سے تکن کی زنجیر یوں ہی آتی نہیں مشکل کوئی آسانی تک زندگی تجھ سے بنائے ہوئے رشتے کی ہوس مجھ کو لے آئی ہے دنیا کی پریشانی تک ایسے جراحوں کا قبضہ ہے سخن پر افسوس کر نہیں سکتے جو لفظوں کی مسلمانی تک اپنے اندر میں کیا کرتا ہوں راجا کی تلاش اس وسیلے سے پہنچنا ہے مجھے رانی تک ایسے لفظوں کو بھی بے عیب بنایا ہم نے جن کی جائز ہی نہیں ہوتی تھی قربانی تک حسن کا پاؤں دباتی ہے جہاں شوخ ہوا عشق لے آیا ہے مجھ کو اسی ویرانی تک فیضؔ ہم لوگ ہیں اک ایسی کچہری کے وکیل فوجداری سے پہنچتے ہیں جو دیوانی تک
yuun pahunchnaa hai mujhe ruuh ki tughyaani tak
صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے در ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہے اندھیرو آؤ آ کر تم ہی کچھ آرام دے دو کہ چلتے چلتے بیچارہ اجالا تھک چکا ہے عداوت کی دراریں ویسی کی ویسی ہیں اب تک وہ بھرتے بھرتے الفت کا مسالہ تھک چکا ہے مجھے لوٹا ضرورت کی یہاں ہر کمپنی نے مسلسل کرتے کرتے دل کفالت تھک چکا ہے سخن میں کچھ نئے مجموعہ لے کر آئیے آپ پرانی شاعری سے ہر رسالہ تھک چکا ہے بتا اے فیضؔ آخر گاؤں جا کر کیا کرے گا تو جس کے نام کی جپتا تھا مالا تھک چکا ہے
suraahi muzmahil hai mai kaa pyaala thak chukaa hai





