
Faiz Ul Hasan Khayal
Faiz ul Hasan Khayal
Faiz ul Hasan Khayal
Ghazalغزل
log kahte hain ki qaatil ko masihaa kahiye
لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئے چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہئے جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہئے آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو صحن گلشن نہیں جلتا ہوا صحرا کہئے سب کے چہروں پہ ہیں اخلاق و مروت کے نقاب کس کو اپنا یہاں اور کس کو پرایا کہئے شب کے ماتھے پہ کوئی سایہ نمودار ہوا اس کو اب پیار کے آنگن کا سویرا کہئے زہر تنہائی غم پی کے محبت میں خیالؔ کس طرح موت کو جینے کا سہارا کہئے
vo jitne duur hain utne hi mere paas bhi hain
وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیں یہ اور بات ہے خوش ہیں مگر اداس بھی ہیں یہ دیکھنا ہے ہمیں کس کا ذوق کیسا ہے یہاں شراب بھی ہے زہر کے گلاس بھی ہیں انہی پہ تہمت دیوانگی لگاتے ہو جو اتفاق سے محفل میں روشناس بھی ہیں جو روشنی کے لبادے کو اوڑھ کر آئے شب سیاہ کے وہ ماتمی لباس بھی ہیں تم اپنے شہر میں امن و اماں کی بات کرو جہاں سکوں ہے وہاں لوگ بد حواس بھی ہیں غزل کے ساز ہیں فیض الحسن خیالؔ جہاں وہاں پہ آہ بہ لب بھی ہیں محو یاس بھی ہیں
subh-e-nau laati hai har shaam tumhein kyaa maalum
صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم زخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلوم بھول کر بھی جو کسی بزم میں آیا نہ گیا سینکڑوں اس پہ ہیں الزام تمہیں کیا معلوم لوگ گلشن میں تو چلتے ہیں سرافرازی سے ان میں کتنے ہیں تہہ دام تمہیں کیا معلوم کچھ اندھیرے بھی خطا وار تباہی ہیں مگر روشنی پر بھی ہے الزام تمہیں کیا معلوم جس کو تم ڈھونڈتے ہو شمع رخ ناز لئے وہ تو عرصے سے ہے گمنام تمہیں کیا معلوم جو رخ زیست پہ تھا حرف غلط کی مانند مل رہا ہے اسے انعام تمہیں کیا معلوم جو کفن باندھ کے چلتے ہیں وفا کی رہ میں زندگی کر چکے نیلام تمہیں کیا معلوم سرخ رو کون ہوا کوچۂ جاناں میں کبھی نامور بھی ہوئے بدنام تمہیں کیا معلوم دو قدم بھی نہ چلے راہ وفا میں ہم لوگ ہے ابھی ذوق طلب خام تمہیں کیا معلوم جو جلا رات کی تنہائی میں اس پر بھی خیالؔ بے وفائی کا ہے الزام تمہیں کیا معلوم
jab tak mizaaj-e-dost mein kuchh barhami rahi
جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی گویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہی جس پر نگاہ لطف و کرم آپ کی رہی حیرت سے ہر نگاہ اسے دیکھتی رہی گو میں رہا کشاکش دوراں سے ہم کنار لیکن مرے لبوں پہ ہنسی کھیلتی رہی لایا ہے عشق نے مجھے ایسے مقام پر خود آگہی رہی نہ خدا آگہی رہی جوش جنوں نے منزل مقصود پا لیا عقل سلیم دیکھتی ہی دیکھتی رہی سب کچھ مجھے خیالؔ کی دنیا میں مل گیا لیکن تمہارے حسن نظر کی کمی رہی
ham ne sahraa ko sajaayaa thaa gulistaan ki tarah
ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرح تم نے گلشن کو بنایا ہے بیاباں کی طرح رات کا زہر پئے خواب کا آنچل اوڑھے کون ہے ساتھ مرے گردش دوراں کی طرح ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اب تک بھی ہیں صحرا صحرا اسی لمحے کو جو تھا فصل بہاراں کی طرح مصلحت کوش زمانے کا بھروسہ کیا ہے جو بھی ملتا ہے یہاں گردش دوراں کی طرح آج وہ لمحے مجھے ڈستے ہیں تنہا پا کر کبھی محبوب تھے جو مجھ کو دل و جاں کی طرح جانے کیا بات ہے کیوں جشن مسرت میں ندیم یاد آتی ہے تری شام غریباں کی طرح کب تلک شہر کی گلیوں میں پھرو گے یارو آسمانوں پہ اڑو تخت سلیماں کی طرح یہ تو پروانوں کے دل ہیں جو پگھل جاتے ہیں کون جلتا ہے یہاں شمع شبستاں کی طرح کون خوابوں کے جزیرے سے چلا آیا خیالؔ دل میں اک روشنی ہے صبح درخشاں کی طرح
ai dil achchhaa nahin masruf-e-fughaan ho jaanaa
اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا غم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جانا دل کی آواز بھی مجروح جہاں ہوتی ہے ایسے حالات میں خاموش وہاں ہو جانا میرے آنسو جو گریں ٹانک لو تم جوڑے میں دیکھ لے کوئی تو پھولوں کا گماں ہو جانا اہل ساحل کو بھی اندازۂ طوفاں ہو جائے قطرۂ اشک ذرا سیل رواں ہو جانا رخصت موسم گل کے بھی اٹھاؤ صدمے اتنا آساں نہیں احساس خزاں ہو جانا قید موسم نہیں نغمات عنا دل کے لیے کوئی موسم ہو گل تر کی زباں ہو جانا میرے جینے کا سہارا تھیں جو نظریں کل تک کیا ستم ہے انہیں نظروں کا گراں ہو جانا شوق افزا ہے یہ انداز حجاب خوباں دل میں رہتے ہوئے آنکھوں سے نہاں ہو جانا وہ گلستاں میں جو آ جائیں تو ممکن ہے خیالؔ مسکراتی ہوئی کلیوں کا جواں ہو جانا





