SHAWORDS
Faizi Nizam Puri

Faizi Nizam Puri

Faizi Nizam Puri

Faizi Nizam Puri

poet
1Sher
1Shayari
17Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

kuchh zindagi mein lutf kaa saamaan nahin rahaa

کچھ زندگی میں لطف کا ساماں نہیں رہا دل ایسا بجھ گیا کوئی ارماں نہیں رہا وہ جوش بے خودی کا ہے عالم کہ آج کل زنداں میں ہم نہیں ہیں کہ زنداں نہیں رہا وہ دل ہی کیا خلش ہی نہ ہو جس میں درد کی وہ گل ہی کیا جو زینت داماں نہیں رہا ہر انقلاب وقت کے سانچے میں ڈھل گیا مرکز پہ اپنے اب کوئی انساں نہیں رہا ہر ایک اپنا خون پئے جا رہا ہے آج انسان اس زمانے میں انساں نہیں رہا ہوتی ہے اب ترنم دل کش پہ واہ واہ بزم سخن میں کوئی سخنداں نہیں رہا لایا ہے اس کو کھینچ کے شوق ادب یہاں فیضیؔ کبھی بھی داد کا خواہاں نہیں رہا

غزل · Ghazal

gulon ke chehra-e-rangin pe vo nikhaar nahin

گلوں کے چہرۂ رنگیں پہ وہ نکھار نہیں بہار آئی مگر عالم‌ بہار نہیں جو ہاتھ آتا ہے دامن تو چھوڑ دیتا ہوں جنوں نواز ابھی موسم بہار نہیں کسی کی یاد کا عالم نہ پوچھئے مجھ سے کبھی قرار ہے دل کو کبھی قرار نہیں یہ بانکپن یہ ادا یہ شباب کا عالم تم آ گئے تو کسی کا اب انتظار نہیں بہار پر بھی خزاں ہی کا رنگ غالب ہے ہوا زمانے کی گلشن کو سازگار نہیں ہمارے سامنے وہ ہیں کہیں یہ خواب نہ ہو اب اپنی آنکھوں پہ بھی ہم کو اعتبار نہیں خود آ گئے ہیں سمٹ کر نگاہ میں جلوے وصال دوست ہے یہ رنج انتظار نہیں مرا مذاق اڑاتا ہے آئینہ لیکن مری حقیقت غم اس پہ آشکار نہیں ہماری آبلہ پائی کا فیض کیا کہئے وہ کون سا ہے بیاباں جو لالہ زار نہیں بتوں کو پوج رہا ہے ترے تصور میں گناہ کر کے بھی فیضیؔ گناہ گار نہیں

غزل · Ghazal

tasavvur mein koi aayaa sukun-e-qalb-o-jaan ho kar

تصور میں کوئی آیا سکون قلب و جاں ہو کر محبت مسکراتی ہے بہار جاوداں ہو کر چمن میں جب کبھی جاتا ہوں ان کی یاد آتی ہے تمنا چٹکیاں لیتی ہے پہلو میں جواں ہو کر دل وحشت اثر کو ہوش جب آیا تو دیکھا ہے ہوا کے دوش پر اڑتا ہے دامن دھجیاں ہو کر صنوبر سا ہے قد نرگس سی آنکھیں پھول سا چہرہ وہ میرے سامنے پھرتے ہیں اکثر گلستاں ہو کر شراب و شعر و نغمہ کے سوا کیا چاہئے فیضیؔ بلا سے زندگی جائے متاع رائیگاں ہو کر

غزل · Ghazal

hamaaraa zikr bhi aane lagaa rangin bayaanon mein

ہمارا ذکر بھی آنے لگا رنگیں بیانوں میں کہ ہم خون جگر سے رنگ بھرتے ہیں فسانوں میں کوئی مانے نہ مانے اس کو لیکن یہ حقیقت ہے کہ اردو ہے بہت پیاری زباں ساری زبانوں میں بہاروں نے چمن میں پھر گلوں کا ساز چھیڑا ہے عنادل کس طرح خاموش بیٹھیں آشیانوں میں گلوں سے پیار خاروں سے جنہیں نفرت رہی اکثر کچھ ایسی ہستیاں بھی ہیں چمن کے پاسبانوں میں جبین شوق جس کے واسطے پہروں مچلتی ہے تمہارا آستاں وہ آستاں ہے آستانوں میں سدا دل کے قریں رہ کر نظر سے دور رہتا ہے اک ایسا مہرباں بھی ہے ہمارے مہربانوں میں مذاق شعر نے ہم کو کہاں پہنچا دیا فیضیؔ ہماری دھوم ہے شعر و سخن کے قدر دانوں میں

غزل · Ghazal

afsaana-e-junun-e-mohabbat sunaae kaun

افسانۂ جنون محبت سنائے کون آنسو بہائے کون کسی کو رلائے کون مانگیں پناہ جس کی نگاہوں سے بجلیاں اس کی نظر سے اپنی نظر کو ملائے کون ہے چاک چاک پیرہن گل بہار میں کانٹوں سے دامن اپنا چمن میں بچائے کون تیرے سوا ہے کس میں یہ اعجاز اے بہار غنچہ کو پھول پھول کو گلشن بنائے کون فیضیؔ ہے ڈوبنا ہی اگر حاصل وفا گرداب غم سے اپنا سفینہ بچائے کون

غزل · Ghazal

nazar itaab saraapaa mizaaj barham hai

نظر عتاب سراپا مزاج برہم ہے زہے نصیب یہ احسان حسن کیا کم ہے نفس نفس میں کئی انقلاب پنہاں ہیں نظر نظر میں تری بجلیوں کا عالم ہے ہم اپنی کوشش پیہم سے باز کیوں آئیں ابھی تو پیش نظر یہ نظام عالم ہے امید تھی کہ مسرت کے گیت گائیں گے مگر ہنوز زباں پر فسانۂ غم ہے کبھی تو یاس کی دنیا بدل ہی جائے گی یہ دیکھنا ہے ہمارا بھی عزم محکم ہے عروس دہر کی زلفیں سنوارنے والو کچھ اپنے حال پریشاں کا بھی تمہیں غم ہے نکل رہی ہے ہر اک دل سے آہ اے فیضیؔ تری غزل کا ہر اک شعر نشتر غم ہے

Similar Poets