
Fakhir Lakhnavi
Fakhir Lakhnavi
Fakhir Lakhnavi
Ghazalغزل
us ko sitamgari mein kisi dil se kyaa gharaz
اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض قاتل کو بے قراریٔ بسمل سے کیا غرض جس میں نہ تیری یاد ہو اس دل سے کیا غرض لیلیٰ نہ ہو تو قیس کو محمل سے کیا غرض مشق ستم گری نہ کرے وہ محال ہے اس کو ہمارے اس دل بسمل سے کیا غرض مجنوں کے دیکھنے کا نہیں اشتیاق کچھ لیلیٰ کو چاک پردۂ محمل سے کیا غرض تشنہ ہوں بحر الفت ابروئے یار کا دریائے آب خنجر قاتل سے کیا غرض کاٹوں گا آفتاب کی صورت سے تا بہ شام مجھ گرم رو کو دورئ منزل سے کیا غرض پروانہ شمع کے لیے آتا ہے بزم میں دل کو ہمارے مردم محفل سے کیا غرض کہتا ہے آسمان سے داغ جگر مرا خود مہر ہوں مجھے مہ کامل سے کیا غرض سودا کسی کی زلف مسلسل کا ہے مجھے حداد مجھ کو طوق و سلاسل سے کیا غرض آیا ہے دام لے کے اسیری کے واسطے صیاد کو ہے شور عنادل سے کیا غرض فرط بکا سے آنکھ میں آنسو تھمیں گے کیا دریائے بے کنار کو ساحل سے کیا غرض جوش جنوں میں خود کو جو لیلیٰ قرار دے پھر قیس کو ہو صاحب محمل سے کیا غرض دیتا ہوں میں اسے تو وہ کہتے ہیں طعن سے اوروں کا ہو گیا مجھے اس دل سے کیا غرض دریائے فیض و جود و سخا جس کا بند ہو پھر اس دنی کو کشتیٔ سائل سے کیا غرض شاکی نہ ہوں خدا سے میں جب اپنے خون کا محشر میں پھر ہو دامن قاتل سے کیا غرض دل جب بتان دہر کے خالی ہوں درد سے سنگیں دلوں کو پھر ہو مرے دل سے کیا غرض تیر نظر سے کوئی نشانہ ہو ان کو کیا ہو بے قرار طائر بسمل سے کیا غرض جب آپ ہی نہ ہو تو علاقہ کسی سے کیا سر کٹ گیا تو خنجر قاتل سے کیا غرض آئیں ہیں دیکھنے کو تماشا وہ رقص کا مر جائے یا جئے انہیں بسمل سے کیا غرض ملتے نہیں اگر تو مرے دل کو پھیر دو مجھ سے غرض نہیں تو مرے دل سے کیا غرض فاخرؔ کروں سوال میں کیا صورت فقیر در تک نہ آئے جو اسے سائل سے کیا غرض
bujhtaa chalaa hai sho'la dil-e-daagh-daar kaa
بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا اب کوئی دم میں کوچ ہے شمع مزار کا ہے ایک طرح شعلہ دل داغدار کا بجھتا نہیں چراغ ہماری مزار کا دل کی شکستگی پس مردن بھی ہے عیاں شق سو جگہ سے سنگ ہے میری مزار کا نام آوروں کو ایسا فلک نے مٹا دیا ملتا نہیں نشاں بھی اب ان کی مزار کا دود جگر کو جب نہ ملی جا جہان میں پروانہ بن گیا مری شمع مزار کا کھینچوں اگر میں قبر میں اک آہ آتشیں سرمہ بسان طور ہو پتھر مزار کا مٹنے سے اس کے نام و نشاں خلق سے مٹے رکھا ہے نام لوح طلسم مزار کا ساتوں فلک ہیں ظلم کو کیا کم کہ بعد مرگ اک اور آسمان ہو گنبد مزار کا ہم مر گئے ہیں عشق میں اک سبز رنگ کے گنبد زمردی ہو ہماری مزار کا مد نظر یہ ہے کہ مٹائیں نشاں تلک سرمہ بنا رہے ہیں وہ سنگ مزار کا پڑھنے لگے وہ فاتحہ میری سمجھ کے قبر پایا کہیں نشاں جو کسی کے مزار کا کہہ دو یہ دوستوں سے بنائیں نہ کچھ نشاں بس ہے یہی نشان ہماری مزار کا روئے گا یہ بھی شمع کی صورت تمام عمر ہنسنا نہیں ہے خوب چراغ مزار کا دم بھر کو شامیانہ لحد پر وہ ہو گیا اٹھا بگولا کوئی جو خاک مزار کا کی جستجو کہاں نہ کہاں دوستوں نے پر پایا کہیں نشاں نہ ہماری مزار کا اللہ رے اپنے طالع خوابیدہ کا اثر سبزہ بھی سو رہا ہے ہماری مزار کا کیسے یہ جھونکے باد مخالف کے چل گئے گل کر دیا چراغ ہماری مزار کا کی سوز دل سے مر کے جو اک آہ آتشیں مثل چنار جل گیا تختہ مزار کا وہ بے وفا بھی رونے لگا آ کے قبر پر تعویذ با اثر ہے ہماری مزار کا اٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ گیا ناتواں کی طرح اٹھا کبھی غبار جو خاک مزار کا سوز دروں سے سنگ لحد تک چٹک گیا سبزہ ہرا ہو خاک ہماری مزار کا اللہ کیا ہے تیرہ و تاریک میری قبر ظلمت ہے نام کاکل شمع مزار کا روتے ہیں ہر لحد سے لپٹ کر وہ زار زار ملتا نہیں نشاں جو ہماری مزار کا جل جائیں گے غریب پتنگے ادھر ادھر روشن کرو چراغ نہ میری مزار کا اب پوچھتے ہیں آپ کہ فاخرؔ گزر گیا باقی نشاں تلک نہ رہا جب مزار کا
nazaa mein vo mire pahlu se gae dil ki tarah
نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح میں تڑپتا ہی رہا فرش پہ بسمل کی طرح ایک پہلو میں رہے دل مرا بسمل کی طرح ایک پہلو میں رہیں آپ مرے دل کی طرح کچھ اگر جذب محبت کا اثر ہو جائے تم بھی بیتاب ہو پہلو میں مرے دل کی طرح کبھی سیدھے نہ ہوئے یار کے تیور مجھ سے بل نہ ابرو سے گیا خنجر قاتل کی طرح ان کے ابرو کا اشارہ یہ ہے ہر عاشق سے سرنگوں رہتا ہوں میں خنجر قاتل کی طرح خون پی کر لب سوفار یہ کہتا ہے مرا سرخ رو رہتا ہوں میں خنجر قاتل کی طرح او کماندار ترا تیر نظر کھایا ہے دل پھڑکتا ہے مرا طائر بسمل کی طرح سارباں نجد میں خالی جو نظر آئی اسے دل مجنوں تہ و بالا ہوا محمل کی طرح عاشقوں میں ترے اے مہ نہ ہمیں کیوں ہو فروغ داغ دل میں ہے ہمارے مہ کامل کی طرح حل کیا عقدۂ لاحل کو بڑی حکمت سے تم نے کھولی ہے گرہ دل کی انامل کی طرح کارواں کو مرے کیونکر ہو خبر غربت میں دور افتادہ ہوں گرد رہ منزل کی طرح پاسبانوں کی طرح شب کو جو کرتا ہوں فغاں دوست رکھتے ہیں مجھے سب سگ منزل کی طرح ہے یم اشک ہی سے ان کی بقا اور فنا آنکھیں میری ہیں حباب لب ساحل کی طرح غنچہ میرے دل بستہ کا جو کھل جاتا ہے چہچہے باغ میں کرتا ہوں عنادل کی طرح بے قراری شب فرقت کی نہ پوچھو مجھ سے برق و سیماب بھی تڑپے نہ مرے دل کی طرح ہاتھ آئے جو ترے تیر کا پیکاں مجھ کو اپنے سینے میں رکھوں میں جگر و دل کی طرح محفل عیش و طرب سے بھی نکالا مجھ کو کف افسوس ملوں کیوں نہ جلاجل کی طرح قیس کہتا تھا کہوں کیوں نہ انا لیلیٰ میں یاد دل میں ہے مری صاحب محمل کی طرح زورق عمر بڑھی راہ خدا میں دے کر ناؤ خشکی میں چلی کشتیٔ سائل کی طرح قتل اے یار کرے گی یہ تواضع تیری جھک کے ملتا ہے گلے خنجر قاتل کی طرح اجڑے پہلو کو مرے کیجئے آباد حضور بے وفا آپ نہ ہو جائیں مرے دل کی طرح یہ تو آسان ہے فاخرؔ ہو زمیں کیسی ہی سخت کہنے والے کو نہیں کوئی بھی مشکل کی طرح
aa gayaa vasl mein un ko jo pasinaa ThanDaa
آ گیا وصل میں ان کو جو پسینا ٹھنڈا مجھ سے بولے کہ ہوا اب تو کلیجا ٹھنڈا شعلۂ داغ کو آہوں سے بڑھا دیتے ہیں صورت شمع وہ کرتے ہیں کلیجا ٹھنڈا میں جو روتا ہوں تو ہنس ہنس کے یہ فرماتے ہیں تیری آہوں نے کیا میرا کلیجا ٹھنڈا خون مجھ پر نہ ہو پروانے جلے جاتے ہیں کر چراغ سر مرقد کو خدایا ٹھنڈا بند بلبل کی ہوئیں کنج قفس میں آنکھیں صحن گلشن سے جو آیا کوئی جھونکا ٹھنڈا سرد نالے جو کیے فرقت گل میں شب کو آہ بلبل سے ہوا باغ کا رستا ٹھنڈا سرد آہیں جو بھریں بیٹھ کے ساحل پہ کبھی اور بھی ہو گیا دریا کا کنارا ٹھنڈا شمع رو گرمیاں کیونکر نہ کریں محفل میں دل جلیں اور کے ان کا ہو کلیجا ٹھنڈا آگ دل میں ہے قیامت کی لگی اے جراح آتشیں داغ پہ رکھ دے کوئی پھاہا ٹھنڈا وصل بے ہجر کے ہوتا نہیں فاخرؔ کو نصیب دل جلاتے ہیں تو کرتے ہیں کلیجا ٹھنڈا
khvaahish-e-sharbat-e-didaar karun yaa na na karun
خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں میں علاج دل بیمار کروں یا نہ کروں طلب وصل پہ اصرار کروں یا نہ کروں بوسے لے کر اسے بیزار کروں یا نہ کروں نالے شب کو پس دیوار کروں یا نہ کروں خواب سے یار کو بیدار کروں یا نہ کروں مجھ سے کہتے ہیں بتاؤ تو مرے سر کی قسم مرغ دل کو میں گرفتار کروں یا نہ کروں یا الٰہی مجھے اس میں ہے تردد کل سے دل یہ میں پیشکش یار کروں یا نہ کروں چھین کر دل مرے پہلو سے نہ لے جائے کہیں ترک میں الفت دل دار کروں یا نہ کروں یا الٰہی کہیں اسرار نہ ہوویں اس میں طائر دل میں گرفتار کروں یا نہ کروں سخت مشکل مجھے درپیش ہوئی ہے کل سے آج عشق بت پندار کروں یا نہ کروں نیچے تلوار کے ثابت قدمی مشکل ہے سر کے دینے کا میں اقرار کروں یا نہ کروں خوف مجھ کو ہے کہ نازک ہے طبیعت ان کی بوسے لینے پہ میں اصرار کروں یا نہ کروں پار دل کی نہ کہیں تیر نظر ہو جائے آنکھیں اس شوخ سے میں چار کروں یا نہ کروں آتش ہجر سے دل میرا جلایا تم نے منہ سے میں آہ شرربار کروں یا نہ کروں میرے دل سے ہے یہ اک رشک زلیخا کا سوال مثل یوسف کے تجھے پیار کروں یا نہ کروں وعدۂ وصل جو اس سے بقسم لیتا ہوں دل سے کہتے ہیں میں اقرار کروں یا نہ کروں آپ کی رائے ہے کیا حضرت موسیٰ اس میں طور پر خواہش دیدار کروں یا نہ کروں قبر میں شانہ ہلا کر وہ مرا کہتے ہیں خواب غفلت سے میں بیدار کروں یا نہ کروں بے وفا ایک طلب کرتا ہے مجھ سے فاخرؔ دل کے دینے میں میں انکار کروں یا نہ کروں
dil bhar aataa hai jo vo is dil-e-naashaad ke saath
دل بھر آتا ہے جو وہ اس دل ناشاد کے ساتھ وہ بھی روتے ہیں مرے نالہ و فریاد کے ساتھ لب پہ جان آتی ہے آہ دل ناشاد کے ساتھ منہ کو آتا ہے جگر نالہ و فریاد کے ساتھ نام کیونکر نہ حسینوں کا ہو بیداد کے ساتھ بے وفائی بھی ہو جب حسن خداداد کے ساتھ سمجھا میں دیکھ کے یہ قمری و شمشاد کے ساتھ اک گرفتار بھی رہتا ہے اس آزاد کے ساتھ بڑھ گیا انس جو برسوں کی اسیری میں مجھے ہو کے آزاد بھی رہتا ہوں میں صیاد کے ساتھ سمجھوں گلزار براہیم سے بڑھ کر اس کو آگ میں کود پڑوں آپ کے ارشاد کے ساتھ شوق ہے زیور وحشت کے پہنے کا انہیں تیرے دیوانے پھرا کرتے ہیں حداد کے ساتھ کیا ارادہ ہے مرے سر کے جدا کرنے کا کیوں طلب مجھ کو کیا آپ نے جلاد کے ساتھ حشر تک روح پرستاں میں رہے گی میری اڑ گیا طائر جاں ایک پری زاد کے ساتھ دل مرا لے کے کریں گے نہ کبھی وہ برباد کوئی کرتا ہے بدی عاشق ناشاد کے ساتھ دیکھیے کونسا اب فتنہ بپا ہوتا ہے روز رہتے ہیں رقیب اس ستم ایجاد کے ساتھ چرکا دے کر مری گردن سے اٹھائی تلوار آ گیا رحم بھی جلاد کو بیداد کے ساتھ کون کہتا ہے نہیں نالہ و شیون میں اثر دل تڑپ جاتا ہے ان کا مری فریاد کے ساتھ غیظ آیا جو دم قتل مرے قاتل کو تیغ ابرو بھی کھنچے خنجر بیداد کے ساتھ رکھ دیں قرطاس و قلم سامنے میرے دونوں نقشہ کھینچوں جو کبھی مانیؔ و بہزادؔ کے ساتھ وقت بد میں یہ حسیں صاف نکل جاتے ہیں دام میں گل نہ پھنسے بلبل ناشاد کے ساتھ دوست دشمن کا کیا شوق شہادت نے مجھے سایہ کی طرح سے رہتا ہوں میں جلاد کے ساتھ خون قاتل کے چھڑانے سے نہ چھوٹا میرا مثل جوہر کے رہا خنجر فولاد کے ساتھ رگڑے دے دے کے اٹھا لے نہ گلے سے خنجر کاٹ سر کو ستم ایجاد نہ بیداد کے ساتھ پوچھ لیتا ہوں خبر جا کے میں ان سے ہر روز کیا کیا آپ نے میرے دل ناشاد کے ساتھ لے گیا ان سے فن شعر میں بازی فاخرؔ معرکہ آ کے پڑا جب کسی استاد کے ساتھ





