
Farhan Khan
Farhan Khan
Farhan Khan
Ghazalغزل
جب شکم میں چار دانے ہو گئے ہم گداگر سب سیانے ہو گئے اک تری دہلیز تھی پہلے پہل اب بہتر آستانے ہو گئے اب کوئی رشتہ نیا درپیش ہے زخم پچھلے سب پرانے ہو گئے اک شجر کو کاٹ کر کمرہ بنا سب پرندے بے ٹھکانے ہو گئے یہ علالت یہ بڑھاپا یہ وبا خاتمے کے سب بہانے ہو گئے سب لیے پھرتے ہیں دل ٹوٹا ہوا قیس کے کتنے گھرانے ہو گئے شاعری حد سے تجاوز کر گئی اور قوموں کے ترانے ہو گئے
jab shikam mein chaar daane ho gae
تازگی کو ترس گیا پانی ایک بندھے میں کس گیا پانی چھت ٹپکتی رہی جولائی بھر پھر پلستر کو ڈس گیا پانی گشت کرتا تھا کتنا میٹھا تھا کس سمندر میں بس گیا پانی اشک اب اس قدر نہیں بہتے سہمے سہمے جھلس گیا پانی جان پھر بچ گئی ہے دہقاں کی وقت سے پھر برس گیا پانی
taazgi ko taras gayaa paani
اس نے تصویر اک بنائی ہے اس کے ہاتھوں میں روشنائی ہے جیل کا دائرہ بڑھا دینا یہ نئے دور کی رہائی ہے مجھ کو انجام پر بھروسہ ہے یہ اذیت تو ابتدائی ہے ہم تو سودے میں جان دے دیتے اس نے قیمت بڑی لگائی ہے ایک کھڑکی جو دھوپ دیتی ہے پیڑ کو کاٹ کر بنائی ہے میری الفت میں کوئی شکل نہیں یہ محبت کی پارسائی ہے
us ne tasvir ik banaai hai
تمام نسخے بدل چکا جب تب اپنی فطرت بدل رہا ہوں مری طبیعت کے ہیں مخالف میں ایسے سانچوں میں ڈھل رہا ہوں عمل رجسٹر کے لکھنے والے یہ دو فرشتے مجھے بتائیں یہ کون سب کچھ چلا رہا ہے میں کس کی مرضی سے چل رہا ہوں کبھی تو بن کر کے ابر باراں میں پیاسے لوگوں میں جا برستا مگر میں اپنی انا کا خادم کنویں کے جیسا اٹل رہا ہوں وہ اک نظریے سے دیکھتا تھا سو اب نظریہ بدل گیا ہے تو اس کو لگنے لگا ہے جیسے میں رفتہ رفتہ بدل رہا ہوں مخالفت کی خلش نے میری حیات جب لا علاج کر دی جدھر کو دنیا کی ڈھال تھی اب اسی طرف میں پھسل رہا ہوں مری حقیقت پہ تھیں مسلط وہ ساری پرتیں ادھڑ رہی ہیں مجھے خبر بھی نہیں تھی یارو میں خود میں جیسا نکل رہا ہوں نیا چلن ہے کہ حکمرانوں کو بد گمانی یہ ہو گئی ہے کہ ایک ادنیٰ غلام ہوں میں اور ان کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہوں
tamaam nuskhe badal chukaa jab tab apni fitrat badal rahaa huun
راہ دشوار ہے اس پہ جانا نہیں لوگ کہتے رہے ہم نے مانا نہیں ہو گئی ہیں مزاجوں میں تبدیلیاں دیر تک جاگنا مسکرانا نہیں گھر کی اشیاء میں شامل محبت رہے گھر فقط مرکز آب و دانہ نہیں زندگی ایک جنگل کی پتلی سڑک اور جنگل کہ جس میں ٹھکانا نہیں بزم یاراں سجی روز کچھ اس طرح جیسے عادت ہو ملنا ملانا نہیں اژدہے گھونسلوں کے مہانے پہ ہیں اور آگے کا اس کے فسانہ نہیں کل زمینوں سے تاریخ نکلے گی جب ہڈیاں ہی ملیں گی خزانہ نہیں اک نصیحت سنو اپنے صیاد کو بخش دینا مگر بھول جانا نہیں
raah dushvaar hai us pe jaanaa nahin
یہ دنیا جب رعایت مانگتی ہے ہر اک تحفے کی قیمت مانگتی ہے تمہیں جلدی پڑی ہے شاہزادی محبت ایک مدت مانگتی ہے بلا اسباب خوشیاں چاہتا ہوں مگر تسکین رشوت مانگتی ہے پگھل کے آ رہی ہے برف نیچے یہ بستی اب اجازت مانگتی ہے اٹھو مایوسیوں کے پر ٹٹولو کوئی پرواز شفقت مانگتی ہے حکومت خود نہیں چلتی ہے لیکن چلانے کی لیاقت مانگتی ہے کساؤ روح پر کرتے ہی رہیے وگرنہ یہ فضیلت مانگتی ہے غزل کیسی بھی تم فرحانؔ کہہ دو بالآخر یہ سماعت مانگتی ہے
ye duniyaa jab ri’aayat maangti hai





