SHAWORDS
F

Farogh Hyderabadi

Farogh Hyderabadi

Farogh Hyderabadi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

غبار خاطر ناشاد ہوں میں کہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میں جفا و جور سے بھی شاد ہوں میں حریص لذت بیداد ہوں میں لب معجز نما سے زندگی ہے خراج ناز سے برباد ہوں میں بڑی مشکل میں کی امداد میری فدائے بازوئے جلاد ہوں میں نہ کر پامال گردش ہائے افلاک کسی بھولے ہوئے کی یاد ہوں میں تمنا وصل کی تو اور شے ہے تمہارے ہجر سے بھی شاد ہوں میں تمہارے ناوک مژگاں کے ہوتے رہین نشتر فصاد ہوں میں مجھی پر آنکھ رہتی ہے عدو کی فروغؔ اب دیدۂ حساد ہوں میں

ghubaar-e-khaatir-e-naashaad huun main

غزل · Ghazal

اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا مجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرا نشۂ مے کی بجھی پیاس نہ کچھ بھی افسوس نام سنتے تھے بڑا چشمۂ کوثر تیرا اپنے پامالیٔ دل کا مجھے افسوس نہیں دیکھ ظالم نہ بگڑ جائے کہیں گھر تیرا وہ بھی ہیں لوگ جو ہم بزم رہا کرتے تھے ہم تو جیتے ہیں فقط نام ہی لے کر تیرا جلوۂ طور کو کچھ اس کی نظر سے بھانپا جس نے دیکھا ہے جمال‌ رخ انور تیرا زندگی اس کی نصیب اس کے ہیں راتیں اس کی جس کو ہو جلوۂ دیدار میسر تیرا ہم نے کوشش تو بہت کی تھی اسے لانے کی اے فروغؔ جگر افگار مقدر تیرا

is qadar mahv-e-tasavvur huun sitamgar teraa

غزل · Ghazal

کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی ہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتی کبھی تیرے سوا دل دوسرے پر آ نہیں سکتا کسی پر اب مری مائل طبیعت ہو نہیں سکتی بنی ہے مہر لب پیہم محبت اس ستم گر کی بیاں اب داستان درد فرقت ہو نہیں سکتی الٰہی میرا دل اس سنگ دل کا دل تو بن جائے مری تقدیر گر دشمن کی قسمت ہو نہیں سکتی یہ ہو سکتا ہے دنیا بھر کو چھوڑوں تیری خاطر سے رقیب رو سیہ کی مجھ سے منت ہو نہیں سکتی تصور میں بھی تم بار نزاکت سے نہیں آتے تمہارے وصل کی اب کوئی صورت ہو نہیں سکتی خدا کی شان ہے عشق عدو میں روتے پھرتے ہیں جو کہتے تھے کبھی تاثیر الفت ہو نہیں سکتی گھلایا ضعف نے ایسا فراق یار میں مجھ کو تصور میں بھی قائم میری صورت ہو نہیں سکتی حجاب آتا ہے تجھ کو دشمن مہر و وفا کہتے کسی پردے میں اب تیری شکایت ہو نہیں سکتی فروغؔ نیر تقدیر ضو بخش تمنا ہے شب وصل ستم گر شام فرقت ہو نہیں سکتی

kisi surat adu ki tark-e-ulfat ho nahin sakti

غزل · Ghazal

ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی اور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھی ہونے پایا تھا ابھی خوگر نہ درد ہجر کا آگ رشک غیر نے دل میں لگائی اور بھی دیکھیے مڑ کر نگاہ ناز کے قربان میں ایک بار اے فتنہ گر جلوہ نمائی اور بھی فائدہ کیا ایسے ہرجائی سے ملنے میں فروغؔ ہو گئی دنیا میں تیری جگ ہنسائی اور بھی

ho taraqqi par miraa dard-e-judaai aur bhi

غزل · Ghazal

الٰہی آسماں ٹوٹے کبھی شب ہائے فرقت پر پڑے ہیں جان کے لالے مصیبت ہے مصیبت پر جفا کی لے کے دل ہم سے جلایا مل کے دشمن سے مگر دعویٔ باطل تھا ہمارا اس کی الفت پر سیہ بختی کا اپنی کھل گیا ہے نامۂ اعمال اندھیرا چھا گیا ہے دیکھنا صبح قیامت پر انہیں روتے ہوئے دیکھا ہے اکثر ہجر دشمن میں خدا کی شان ہے ہنستے تھے جو میری مصیبت پر مجھے وہ دیکھتے ہی نیلی پیلی آنکھیں کرتے ہیں مری تقدیر کا لکھا نظر آتا ہے صورت پر یہ کس ناکام الفت کی ہے ماتم کی سیہ پوشی الٰہی چھا گئی کیسی اداسی شام فرقت پر بہانہ ہے ہماری جان لینے کے لئے یہ بھی کسی کا وعدۂ دیدار اور وہ بھی قیامت پر مری طرح سے آوارہ ہے یہ بھی کوہ او صحرا میں جمایا رنگ اپنا بخت برگشتہ نے قسمت پر مجھے اب آنکھ بھر کر تم سے بھی دیکھا نہ جائے گا تمہارے حسن عالم تاب کا پرتو ہے صورت پر کبھی ہوں گی پشیماں بھی تم اپنے ظلم بے جا سے تمہیں بھی رحم آئے گا کبھی بیمار فرقت پر بھری محفل میں برسا اور وہ بھی غیر کے آگے فقط اتنا کہا تھا میں مرا ہوں تیری صورت پر مرے سوتے کبھی اغیار کے گھر یہ نہ جائے گی وفاداری مری سایہ فگن ہے شام فرقت پر زمانے کی دو رنگی سے امنگیں مٹ گئیں ساری کبھی تھا ناز ہم کو بھی فروغؔ اپنی طبیعت پر

ilaahi aasmaan TuuTe kabhi shab-haa-e-furqat par

غزل · Ghazal

رنگ دیکھا تری طبیعت کا ہو چکا امتحاں محبت کا یہی نقشہ رہا جو فرقت کا بت بنا لیں گے تیری صورت کا نہ ملو تم گلے رقیبوں سے خون ہوتا ہے میری حسرت کا تیری رفتار نے نشان دیا نام سنتے تھے ہم قیامت کا دیکھتا ہوں پری جمالوں کو مجھ کو لپکا ہے اچھی صورت کا ملتی جلتی ہے زلف شب گوں سے کیا مقدر ہے شام فرقت کا تیری ٹھوکر کے آگے او ظالم پاؤں جمتا نہیں قیامت کا وہ مرے حال پر ترے الطاف وہ زمانہ تری محبت کا سن کے دشمن کی بات پی جاؤں مقتضا یہ نہیں ہے غیرت کا وہ بگڑتے ہیں مجھ سے بن بن کر رنگ رخ رنگ ہے طبیعت کا جانتے ہیں فروغؔ کو ہم بھی اک یہی شخص ہے مروت کا

rang dekhaa tiri tabiat kaa

Similar Poets