SHAWORDS
Farogh Zaidi

Farogh Zaidi

Farogh Zaidi

Farogh Zaidi

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

علم و ہنر سے قوم کو رغبت نہیں رہی اس پر شکایتیں کہ فضیلت نہیں رہی بدلے گا کیا نظام کب آئے گا انقلاب جب نوجواں لہو میں حرارت نہیں رہی مظلوم کو دلائے جو ہر ظلم سے نجات ایسی جہاں میں کوئی عدالت نہیں رہی سجدے میں جا کے مانگنا بیکار نعمتیں کچھ بھی کہو اسے یہ عبادت نہیں رہی فتوے لئے ہیں شیخ سے پیر مغاں نے خاص پینے میں اب ذرا بھی قباحت نہیں رہی مسجد کا رخ کیا ہے جناب فروغؔ نے لگتا ہے اب گناہ میں لذت نہیں رہی

ilm-o-hunar se qaum ko raghbat nahin rahi

غزل · Ghazal

کیوں وہ میرا مرکز افکار تھا جس کے ہونے سے مجھے انکار تھا یوں تو مشکل تھی بہت تیری تلاش خود کو اپنا اور بھی دشوار تھا اس کے حصے میں در و دیوار تھے میرا حصہ سایۂ دیوار تھا رفتہ رفتہ سب کے جیسا ہو گیا پہلے میں بھی صاحب کردار تھا دوریوں نے قربتیں بخشیں ہمیں ملنا جلنا باعث تکرار تھا کیسے بڑھتا قافلہ آگے فروغؔ ہر کوئی جب قافلہ سالار تھا

kyon vo meraa markaz-e-afkaar thaa

غزل · Ghazal

اے مری جان تجھے اور بدلنا ہوگا پھر مرے ساتھ کڑی دھوپ میں چلنا ہوگا اپنے پیروں پہ ابھی قرض سفر باقی ہے حد امکان سے آگے بھی نکلنا ہوگا اس سے پہلے کہ ڈھلے رات نیا دن نکلے ترے خوابوں کو مرے خواب میں ڈھلنا ہوگا انقلابات کا آغاز بھی ہوگا لیکن لے کے پرچم سر بازار نکلنا ہوگا کامیابی کا یقیں دور نہ کر دے ہم کو پاس منزل کے ذرا اور سنبھلنا ہوگا وادیوں میں تو کسی خواب کی بھٹکے ہے فروغؔ تجھ کو تعبیر کے صحرا میں بھی جلنا ہوگا

ai miri jaan tujhe aur badalnaa hogaa

غزل · Ghazal

ہر کسی کی ہے زبانی دوستی کیا کسی کی آزمانی دوستی تھے مسافر دو الگ رستوں کے ہم ہو گئی بس ناگہانی دوستی ڈھونڈھتا ہے ہر رفاقت میں نئی دل ہمیشہ اک پرانی دوستی دفن ہے سینے میں میرے آج بھی اس کی میری آنجہانی دوستی دوستوں کو دل دکھانا آ گیا آ گئی ہم کو نبھانی دوستی کچھ تو تیری بھی خطا ہوگی فروغؔ گر ہوئی ہے سرگرانی دوستی

har kisi ki hai zabaani dosti

غزل · Ghazal

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے اک نئے خواب کی دھرتی پہ قدم میرا ہے ساری دنیا سے ہمہ وقت جڑا رہتا ہوں رابطہ خود سے مگر آج بھی کم میرا ہے دل کو احساس کے اس موڑ پہ لائی ہے حیات اب نہ میری ہے خوشی اور نہ غم میرا ہے اب بھی ڈرتا ہوں ہر اک بات میں لکھنے سے فروغؔ تم یہ کہتے ہو کہ آزاد قلم میرا ہے

koi kaaba na kalisaa na sanam meraa hai

غزل · Ghazal

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے اک نئے خواب کی دھرتی پہ قدم میرا ہے ساری دنیا سے ہمہ وقت جڑا رہتا ہوں رابطہ خود سے مگر آج بھی کم میرا ہے دل کو احساس کے اس موڑ پہ لائی ہے حیات اب نہ میری ہے خوشی اور نہ غم میرا ہے اب بھی ڈرتا ہوں ہر اک بات میں لکھنے سے فروغؔ تم یہ کہتے ہو کہ آزاد قلم میرا ہے

koi kaaba na kalisaa na sanam meraa hai

Similar Poets