SHAWORDS
Farooq Jaiasi

Farooq Jaiasi

Farooq Jaiasi

Farooq Jaiasi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

dilon mein pyaar kaa husn-o-jamaal paidaa ho

دلوں میں پیار کا حسن و جمال پیدا ہو کسی کے شیشۂ دل میں نہ بال پیدا ہو ہماری تیز زباں سے کبھی خدا نہ کرے کسی کے قلب میں کوئی ملال پیدا ہو نگاہ آئنہ بھی جس سے منحرف ہو جائے کسی کے حسن میں کیوں وہ زوال پیدا ہو جو میرے ذہن میں یادوں کی تتلیاں آئیں شب فراق میں رنگ وصال پیدا ہو خیال ہی سے ہے ایجاد کا چمن فاروقؔ ابھار ذہن کہ تازہ خیال پیدا ہو

غزل · Ghazal

kisi shai ko yahaan sabaat nahin

کسی شے کو یہاں ثبات نہیں کون سا دن ہے جس کی رات نہیں زندہ ذوق نظر نہیں ورنہ سونی سونی یہ کائنات نہیں ہے کسی کا تو ہاتھ پردے میں بے محرک یہ حادثات نہیں رفتہ رفتہ وہ کھل گئے مجھ سے درمیاں اب تکلفات نہیں اب جو اپنوں کو میں کہوں دشمن یہ برا ماننے کی بات نہیں ایک ہی سمت ہے مرا قبلہ مجھ کو احساس شش جہات نہیں زندگانی ہے قید غم فاروقؔ اس سے ممکن مگر نجات نہیں

غزل · Ghazal

mujh ko na thaa maalum to hai is mein ajab kyaa

مجھ کو نہ تھا معلوم تو ہے اس میں عجب کیا یہ کون بتا سکتا ہے ہو جائے گا کب کیا اس کا تو مزہ تب ہے کہ جب دائمی ہو جائے کچھ دن کے لئے ہیں بھی تو ہیں عیش و طرب کیا سایہ ہے کہیں نور مرا ذوق فراواں سورج کی تپش کیا ہے یہ تاریکئ شب کیا خود اٹھ کے چلی آتی ہے منزل مری جانب ایسے میں ہو مجھ کو کسی منزل کی طلب کیا اس نسل کو ہم نے ہی تو بے باک بنایا ہو اپنے بزرگوں کا انہیں پاس و ادب کیا جو روز نئی طرز ستم کرتے ہیں ایجاد خود خوں میں وہ اک روز نہائیں تو عجب کیا اللہ پہ فاروقؔ توکل تو کرے تو پھر دیکھ ترے حق میں کرے گا ترا رب کیا

غزل · Ghazal

maslahat ke liye ab sar na jhukaayaa jaae

مصلحت کے لئے اب سر نہ جھکایا جائے دل نہ ملتے ہوں تو کیوں ہاتھ ملایا جائے کیف آور ہے بہت ان سے بچھڑ کر ملنا اور اک بار بچھڑ کر انہیں پایا جائے ہم اندھیروں ہی میں صحرا کا سفر کر لیں گے روشنی کے لئے خیمہ نہ جلایا جائے شجر ضبط سے ٹپکے نہ ثمر آنسو کا احتراماً اسے پلکوں پہ سجایا جائے چاندنی چاند مہک پھول شفق رنگ گلاب اور کس نام سے اب ان کو بلایا جائے جانے اس پار کے حالات ہوں کیسے اب کے کشتیوں کو سر ساحل نہ جلایا جائے سو رہا ہو کوئی تو اس کو جگائیں فاروقؔ جاگتا ہو جو اسے کیسے جگایا جائے

غزل · Ghazal

main kar luun sajda ye jazb-e-asar mile na mile

میں کر لوں سجدہ یہ جذب اثر ملے نہ ملے اثر ملے تو ترا سنگ در ملے نہ ملے ہمارے ٹوٹے دلوں کو بھی جوڑئیے صاحب پھر آپ سا کوئی آئینہ گر ملے نہ ملے سفر ہی باندھ لیا پاؤں میں تو ڈرنا کیا سلگتی دھوپ میں کوئی شجر ملے نہ ملے خدا کرے کہ مری اس کی ایک ہو منزل پھر اس کے جیسا کوئی ہم سفر ملے نہ ملے نگاہ بھر کے در و بام دیکھ لینے دو پلٹ کے آؤں تو پھر میرا گھر ملے نہ ملے لگا دئیے ہیں شجر یہ خوشی ہی کیا کم ہے اب ان درختوں کا مجھ کو ثمر ملے نہ ملے انہیں خبر ہے مری ایک ایک دھڑکن کی بلا سے مجھ کو کوئی نامہ بر ملے نہ ملے نظر ملا کے وہ اک بار کہہ گئے سب کچھ دوبارہ اب مری ان سے نظر ملے نہ ملے ہمارا دل ہی ہمارا ہے راہبر فاروقؔ اب اور کوئی ہمیں راہبر ملے نہ ملے

غزل · Ghazal

pahli si mujh pe chashm-e-inaayat nahin rahi

پہلی سی مجھ پہ چشم عنایت نہیں رہی شاید اب اس کو میری ضرورت نہیں رہی بے وجہ کاٹ دیتا ہے میری ہر ایک بات اس کی نظر میں اب مری قیمت نہیں رہی مجھ سے گریز کرنے لگا جب سے میرا یار مجھ کو بھی اس سے ملنے کی عجلت نہیں رہی وہ بے وفا نہیں یہ مجھے ہے یقیں مگر اب اعتبار کرنے کی ہمت نہیں رہی جن سے ملے ہیں زخم انہیں بھی دعائیں دیں دل میں مرے کسی سے کدورت نہیں رہی بے سمت ہو کے رہ گئی بچوں کی زندگی ماں باپ کی جو یاد نصیحت نہیں رہی فاروقؔ سر پہ سایہ ہے ماں کی دعاؤں کا تا حال مجھ پہ کوئی مصیبت نہیں رہی

Similar Poets