
Farooq Shakeel
Farooq Shakeel
Farooq Shakeel
Ghazalغزل
تمہاری یاد میں کچھ اس طرح تھیں نم آنکھیں تمام شب نہیں کر پائے بند ہم آنکھیں ہے انتظار کسی کا اس اہتمام کے ساتھ بچھا کے رکھی ہیں ہم نے قدم قدم آنکھیں حسیں ہے یوں تو بلا شبہ آپ کا پیکر حسین تر ہے مگر آپ کی صنم آنکھیں دکھاؤ دل کو مگر یہ بھی رکھو پیش نظر سکوں تمہارا اڑا دیں گی میری نم آنکھیں کشش ہو اتنی کہ جی چاہے ڈوب جانے کو دکھائی دیتی ہیں دنیا میں ایسی کم آنکھیں تمہاری یاد سے آخر شکست کھا ہی گئیں چھلک کے توڑ گئیں ضبط کا بھرم آنکھیں عجیب بات ہے رہتی ہیں دن میں خشک مگر چھلکنے لگتی ہیں راتوں میں دم بہ دم آنکھیں گئی ہے جب سے ترے ساتھ روشنی ان کی برائے نام ہیں چہرے پہ اے صنم آنکھیں اداس اداس سا لگتا ہے ایک اک منظر شکیلؔ جب سے ہوئیں آشنائے غم آنکھیں
tumhaari yaad mein kuchh is tarah thiin nam aankhein
جب سے ہوئے جذبات کی فرہنگ سے واقف ہم لوگ ہیں ہر چہرے کے ہر رنگ سے واقف کیا ان سے لڑائی میں مزہ آئے گا ہم کو میدان میں آئے ہیں نہیں جنگ سے واقف پھر بحث نہ کی ہم نے کبھی بھول کے ان سے جب ہو گئے ذہنوں پہ لگے زنگ سے واقف ہونٹوں پہ ہنسی دیکھ کے جو کھا گئے دھوکا وہ لوگ نہیں درد کے اس رنگ سے واقف سینے سے پہاڑوں کے نکل سکتی ہیں نہریں ہو جائے گر انسان رگ سنگ سے واقف رہتی ہے شکیلؔ اس کے ہی قابو میں یہ دنیا ہوتا ہے جو دنیا کے ہر اک ڈھنگ سے واقف
jab se hue jazbaat ki farhang se vaaqif
اپنی عظمت کو وہ مٹی میں ملا دیتے ہیں کر کے احسان جو احسان جتا دیتے ہیں دل میں یادوں کے چراغوں کو فروزاں کر کے ہم شب غم کے اندھیروں کو سزا دیتے ہیں جانتے ہیں رگ ہر گل میں لہو ہے میرا پھر بھی ساون میں مجھے لوگ بھلا دیتے ہیں کیا یقیں آئے کہ شک بھی نہیں ہوتا ان پر اس سلیقے سے کئی لوگ دغا دیتے ہیں ہم تو ہنس ہنس کے چھپاتے ہیں ہر اک غم کو شکیلؔ بعض غم ہیں جو ہنسی میں بھی رلا دیتے ہیں
apni 'azmat ko vo miTTi mein milaa dete hain
چہرے سے مرا درد کوئی بھانپ رہا ہے کھل جائے کہیں راز نہ دل کانپ رہا ہے احساس جدائی کا یوں ڈستا رہا شب بھر جیسے مرے سینے میں کوئی سانپ رہا ہے جب قتل کی سازش میں ملوث وہ نہیں تھا پھر آنکھ ملاتے ہوئے کیوں کانپ رہا ہے کیا اس سے رکھوں راہنمائی کی توقع کچھ دور ہی چل کر جو بہت ہانپ رہا ہے کس طرح شکیلؔ آپ کو وہ قتل کرے گا تلوار اٹھاتے ہوئے جو کانپ رہا ہے
chehre se miraa dard koi bhaanp rahaa hai
خشک زمیں ہوں برکھا ہو تم میں پیاسا ہوں دریا ہو تم بھر دو میرے خالی پن کو میں ساغر ہوں مینا ہو تم ساری دنیا سے کہہ دوں گا میری ساری دنیا ہو تم سن کر جس کو وجد ہو طاری بس ایسا ہی نغمہ ہو تم مل کر تم سے یوں لگتا ہے دھوپ میں جیسے سایا ہو تم کہنا پڑا یہ دیکھ کے تم کو قدرت کا شہ پارہ ہو تم تم کو شکیلؔ اب اور کہے کیا بس اک چاند کا ٹکڑا ہو تم
khushk zamin huun barkhaa ho tum
ترک کر دیا ہم نے حسن پر غزل لکھنا وقت کا تقاضہ ہے مسئلوں کے حل لکھنا ہے بدن تو انساں کا لذتوں کا اک دلدل لذتوں کے دلدل میں روح کو کنول لکھنا زندگی کے صفحوں پر خون اور پسینے سے آج بس عمل لکھنا پھر حسین کل لکھنا اونچے اونچے عہدے ہیں ہاتھ کٹ بھی سکتے ہیں بے ضمیر لوگوں پر سوچ کر غزل لکھنا حادثوں میں بچ جانا معجزہ لگے جب بھی سانس کی رفاقت کو نیکیوں کا پھل لکھنا خود نوشت جب اپنی تم شکیلؔ لکھو گے زندگی کے ماتھے کا ایک ایک بل لکھنا
tark kar diyaa ham ne husn par ghazal likhnaa





