"main sidrat-ul-muntaha pe aa ke ruki hui huun ab aage jo bhi karega mera khuda karega"

Fatima Nausheen
Fatima Nausheen
Fatima Nausheen
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalmain sidrat-ul-muntahaa pe aa ke ruki hui huun
ab aage jo bhi karegaa meraa khudaa karegaa
Ghazalغزل
hairat hi rah gai hai jahaan-e-kharaab mein
حیرت ہی رہ گئی ہے جہان خراب میں ہائے سدھر گئے ہیں وہ اپنے شباب میں دستک بھی جلد آ گئی کچھ وقت بھی تھا کم ہڈی کے ساتھ بال بھی آیا کباب میں گریہ شب فراق میں کر کے بنا دے نہر پھر ماہتاب دیکھنا اترے گا آب میں جی بھر کے نیکیاں کروں اور وہ بھی اس لیے ہر بار پھر میں آپ کو مانگوں ثواب میں اس بے وفائی کے لیے تیار تھی میں دوست کل رات دانت ٹوٹتا دیکھا تھا خواب میں حیرت سے دیکھتے رہے اس کو بنا کے ہم کیسی کشش تھی رنگ تھے فانی حباب میں پیتے ہی دل میں غم اتر آیا سرور نئیں کچھ اشک آ گرے تھے ہماری شراب میں
maanus fazaaon se nikalte hue kuchh log
مانوس فضاؤں سے نکلتے ہوئے کچھ لوگ گمراہ ہوئے گھر کو مچلتے ہوئے کچھ لوگ تم نرم سماعت پہ دھرو ہاتھ کہ ہم آگ اشعار کی صورت میں اگلتے ہوئے کچھ لوگ دوبارہ بنے تو نہیں ٹوٹیں گے کسی سے ہم وصل کی حدت سے پگھلتے ہوئے کچھ لوگ منظر میں نہ ہونے کا تأسف ہے انہیں کیا اک سمت کھڑے ہاتھ مسلتے ہوئے کچھ لوگ پھر اور کسی دہر کے مہمان بنے ہیں سورج کی طرح عصر کو ڈھلتے ہوئے کچھ لوگ پتھر کے ہوئے تو بڑی تکلیف ہوئی ہے خوابوں کی طرح آنکھ میں پلتے ہوئے کچھ لوگ نقصان بڑھاپے کا یہی سب سے بڑا ہے رعشہ زدہ ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے کچھ لوگ کیا پہلے کبھی مہر نہیں نکلا یہاں پر کیوں شور مچاتے ہیں یہ جلتے ہوئے کچھ لوگ چلتے ہیں سنبھل کر تو خسارے میں رہے ہیں اچھے رہے گر گر کے سنبھلتے ہوئے کچھ لوگ
ab ke husn-e-nazar kitaabon par
اب کے حسن نظر کتابوں پر چند سطریں ہیں پر کتابوں پر لفظ بن کے وہ اشک مہکے صبح جو گرے رات بھر کتابوں پر میں سہولت سے کاٹ آئی ہوں زندگی کا سفر کتابوں پر روح لفظوں سے پھونکتے ہو تم اک غزل چارہ گر کتابوں پر تیرے وعدوں پر اعتبار آیا اس سے بھی پیشتر کتابوں پر کوئی کاندھا کہاں میسر تھا رکھ دیا میں نے سر کتابوں پر
ik taraf chaak pe kuuze ko ghumaane kaa hunar
اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر اک طرف ہاتھ پہ روٹی کو بڑھانے کا ہنر کبھی لہجے پہ خفا تو کبھی کردار پہ شک تم نے سیکھا ہی نہیں عشق کمانے کا ہنر تم نے پہنا ہی نہیں میرا پسندیدہ لباس تم کو آیا ہی نہیں پاس بلانے کا ہنر اس نے تصویر کو صوفے کے مقابل ٹانگا خوب آتا ہے اسے کمرہ سجانے کا ہنر میری ماں نے تو کہا تھا کہ یہ کافی ہوگا تم کو آ جائے اگر روٹی بنانے کا ہنر
tere sadqe bhalaa naa-chiz ye vaare kyaa kyaa
تیرے صدقے بھلا نا چیز یہ وارے کیا کیا تو نے دھرتی پہ اتارے ہیں ستارے کیا کیا اس شرافت کو لگے آگ سمجھ ہی نہ سکے ورنہ ملتے رہے ہم کو بھی اشارے کیا کیا تجھ سے وابستہ محبت کو قرار آنے لگا ہم نے دیکھے تری قربت میں خسارے کیا کیا ایک لمحے کو ہوا خود پہ حقیقت کا گماں تو نے مٹی پہ خدا نقش ابھارے کیا کیا ہجر پر اس نے مجھے راضی کیے رکھا ہے اور اشعار مرے دل پہ اتارے کیا کیا تیری تسکین کو بدنام ہوئی ہوں مرے ذوق چہرے بدلے کئی اور روپ ہیں دھارے کیا کیا





