SHAWORDS
Fauzia Shaikh

Fauzia Shaikh

Fauzia Shaikh

Fauzia Shaikh

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

کب گوارہ تھی زمانے کی کوئی بات مجھے وہ تو لے آئی یہاں گردش حالات مجھے روک سکتی ہوں اسے روز قیامت تک بھی سنگ تیرے جو ملے پیار کی اک رات مجھے آخری گام تلک جیت ہی سمجھی میں نے بڑی تدبیر سے لائی ہے مری مات مجھے لوگ جس کار اذیت میں مرے جاتے ہیں زندہ رکھتے ہیں وہی ہجر کے لمحات مجھے تم سے ملنے کے لیے روز پڑھا کرتی تھی اب بچھڑ نے ہی نہیں دیتیں یہ آیات مجھے لفظ ہونٹوں سے نکلتے ہوئے مر جاتے ہیں اس سے آتی ہی نہیں کرنی شکایات مجھے

kab gavaara thi zamaane ki koi baat mujhe

غزل · Ghazal

کوئی فہرست لفظوں کی یا گوگل کو کھنگالے گا وہ میری چپ سے اب کوئی نیا مطلب نکالے گا مقابل کر دیا اس کے اگر آئینہ میں نے تو زباں سے زہر اگلے گا کوئی پتھر اٹھا لے گا مجھے معلوم ہے اس تک تو خالی خط ہی جائے گا مرا قاصد ہی دیمک بن کے لفظوں کو اڑا لے گا ذرا دامن کو پھیلایا کئی لوگوں نے دکھ ڈالے میں سمجھی تھی کوئی ہمدرد میرے غم اٹھا لے گا کھڑے تھے لوگ ساحل پر تماشا دیکھنے والے میں خوش فہمی میں ڈوبی تھی کوئی آ کر بچا لے گا اپاہج ساری دنیا ہے کوئی اندھا کوئی بہرا کوئی مانگے مرے سپنے کوئی آنکھیں چرا لے گا مجھے اس دل کے زنداں سے ہے بہتر آنکھ کا دریا ڈبوئے گا یہ پانی گر تو لاشیں بھی اچھالے گا لب ساحل تو آتے ہیں فقط کچھ خول سیپوں کے جو گہرائی میں جائے گا وہی گوہر نکالے گا کسی مٹی کو گوندھے گا کہیں پتھر تراشے گا ہنر ہے اس کے ہاتھوں میں نئی فوزیؔ بنا لے گا

koi fihrist lafzon ki yaa gōgle ko khangaalegaa

غزل · Ghazal

صرف کاغذ کے پھول ہوتے ہیں لوگ آنکھوں کی دھول ہوتے ہیں یہ کوئی موڑ ہے جدائی کا واپسی کے اصول ہوتے ہیں ایک پتھر سے بارہا ٹھوکر یہ بھروسے بھی بھول ہوتے ہیں جب تلک تم نظر نہیں آتے سارے موسم فضول ہوتے ہیں دل صحیفہ ہے اک محبت کا اور چہرے رسول ہوتے ہیں سارے مخلص ہی آب دیدہ ہیں آپ کیونکر ملول ہوتے ہیں چند لمحے وصال کے فوزیؔ قربتوں کا حصول ہوتے ہیں

sirf kaaghaz ke phuul hote hain

غزل · Ghazal

مجھ کو صدا نہ دیں نہ ستائیں محبتیں میری بلا سے بھاڑ میں جائیں محبتیں پہنیں گے ہم کبھی نہ یہ مانگی ہوئی قبا جائیں یہاں سے اپنی اٹھائیں محبتیں بیٹھے رہیں غرور میں اپنی انا کے ساتھ رکھیں سنبھال کر یہ وفائیں محبتیں کہنا کہ اب کسی کی ضرورت نہیں رہی تھک ہار کر جو لوٹ کے آئیں محبتیں دیوار نفرتوں کی جو تم نے کھڑی ہے کی ممکن ہے یہ بھی بوجھ اٹھائیں محبتیں ہوتی نہیں یہ ہر کس و ناکس کے واسطے انمول ہیں جہاں میں دعائیں محبتیں اس دل فریب جال میں فوزیؔ نہ آئے گی قدموں میں چاہے پھول بچھائیں محبتیں

mujh ko sadaa na dein na sataaein mohabbatein

غزل · Ghazal

لو ہی لو تھی صبا تو تھی ہی نہیں زیست راحت فزا تو تھی ہی نہیں اس کی مٹی میں خو تھی کوفے کی اس میں بوئے وفا تو تھی ہی نہیں ساتھ رہ کر بھی اتنی دوری ہے وصل جیسی سزا تو تھی ہی نہیں ٹوٹ کر بھی میں کہکشاں ہی ہوں ٹوٹنے میں فنا تو تھی ہی نہیں صرف ملبہ پڑا تھا دنیا کا دل میں کوئی دعا تو تھی ہی نہیں اپنی صورت سے ڈر گیا تھا کوئی آئنے کی خطا تو تھی ہی نہیں وہ ثمر بار پیڑ تھا لیکن اس کے سائے میں جا تو تھی ہی نہیں جسم جبراً کسی سے باندھا ہے اس میں دل کی رضا تو تھی ہی نہیں اس نے تحفے میں ہجر بھیجا ہے یہ اذیت روا تو تھی ہی نہیں آدمی تھا خدا نہ تھا فوزیؔ زیست اس کی عطا تو تھی ہی نہیں

lu hi lu thi sabaa to thi hi nahin

غزل · Ghazal

مرہم بھی مرے زخم کا آزار سے نکلا اقرار کا پہلو ترے انکار سے نکلا تھا تیری رعونت کے پس پردہ کوئی اور سر اور کسی کا تری دستار سے نکلا کس شخص کی رہ دیکھنے بیتاب سا ہو کر سایا کبھی در سے کبھی دیوار سے نکلا یادوں کے کسی باب میں رکھا ہوا کوئی خواب سوکھے ہوئے اک پھول کی مہکار سے نکلا اس سنگ صفت شخص کے لہجے میں محبت یا چشمہ شیریں کسی کہسار سے نکلا دنیا تری صورت کے خریدار بہت تھے لٹ کر ہی گیا جو ترے بازار سے نکلا اس خاک کی تہہ میں تھی کوئی موج بلا خیز لفظوں کا سمندر مرے افکار سے نکلا

marham bhi mire zakhm kaa aazaar se niklaa

Similar Poets