SHAWORDS
Fauziya Akhtar Azka

Fauziya Akhtar Azka

Fauziya Akhtar Azka

Fauziya Akhtar Azka

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

عشق میں یوں خراب ہونا تھا دوریوں کا عذاب ہونا تھا بڑھ گئے حد سے وہ مظالم بھی جن کا اب سد باب ہونا تھا ہر دعا کو بہ حرمت سرکار لازماً مستجاب ہونا تھا تو نے مظلوم پر کئے تھے ستم تجھ پہ رب کا عتاب ہونا تھا

ishq mein yuun kharaab honaa thaa

غزل · Ghazal

میں اس کو سوچوں شب و روز بندگی کی طرح ہیں اس کی یادیں دل زار پر نمی کی طرح کٹے گا کیسے بھلا عرصۂ حیات بتا ترے بنا تو ہر اک پل ہوا صدی کی طرح مجھے تو غم میں بھی لذت سدا ہوئی محسوس ہے رب کا شکر مجھے غم دیا خوشی کی طرح ہمیشہ دل میں غموں کا ہے مد و جزر مگر نظر میں آتی ہوں ٹھہری ہوئی ندی کی طرح کہوں جو شعر تو آنکھیں چمکنے لگتی ہیں مجھے تو شاعری لگتی ہے روشنی کی طرح وہ شخص جس پہ لٹا دی خلوص کی دولت وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اجنبی کی طرح اگر وہ پیار سے سیراب کر دے دل کی زمیں ہر ایک زخم جگر کھل اٹھے کلی کی طرح بوقت نزع وہ آئے قریب ازکیٰؔ کے قضا بھی لگنے لگی اس کو زندگی کی طرح

main us ko sochun shab-o-roz bandagi ki tarah

غزل · Ghazal

تیری الفت کی نظر مجھ پہ جو پیہم ہوگی روح پر خوشیوں کی برسات چھما چھم ہوگی دل میں جو بات ہے اک دوجے سے کھل کر کہہ دیں کب تلک بات ہماری بھلا مبہم ہوگی قربتیں ہم سے بڑھانے کا تکلف نہ کریں آپ بدلیں گے تو تکلیف نہ پھر کم ہوگی دل کے صحرا میں بھی آ جائے گی چپکے سے بہار سانس جب ان کی مری سانس میں مدغم ہوگی پیار کے بیج اسی آس پہ بوئے ہم نے آج ہے خشک مگر کل یہ زمیں نم ہوگی آپ کے آنے سے دنیا مری ہوگی روشن چاند تاروں کی چمک آپ ہی مدھم ہوگی ایک دن آئے گا فرحت بھرا موسم ازکیٰؔ پھر مری آنکھوں سے برسات بھی کم کم ہوگی

teri ulfat ki nazar mujh pe jo paiham hogi

غزل · Ghazal

کبھی جو ہوگی وصال کی شب قریب وہ خوش جمال ہوگا تو رقص سانسیں کریں گی اور دھڑکنوں میں میری دھمال ہوگا نئے سفر میں مگن ہو لیکن کبھی جو تھک کر نڈھال ہو گے تو مجھ سے دامن چھڑا کے جانے کا تم کو بے حد ملال ہوگا امید پر ہے یہ دنیا قائم سو ہم بھی ہیں منتظر تمہارے کبھی تو قربت بھی ہوگی حاصل کبھی تو یہ بھی کمال ہوگا ہماری آنکھوں کے جلتے جگنو بجھا کے جو مسکرا رہے ہو یہ مت سمجھنا کہ حشر میں بھی نہ تم سے کوئی سوال ہوگا کرو نہ اتنا ملال ازکیٰؔ بڑا غفور‌‌ الرحیم ہے رب تمہارے صبر و رضا سے زخم جگر کا بھی اندمال ہوگا

kabhi jo hogi visaal ki shab qarib vo khush-jamaal hogaa

غزل · Ghazal

توجہ اس قدر ان کی اسے میں دل لگی سمجھوں کہ ان کی مہربانی اپنی میں خوش قسمتی سمجھوں نظر آتا ہے دریا بھی بیاباں ہجر میں ان کے جو ان کا قرب حاصل ہو تو صحرا کو ندی سمجھوں بچھڑ کر ان سے جینے کی فقط رسمیں نبھاتی ہوں جو ان کے ساتھ گزری ہے اسی کو زندگی سمجھوں فسوں ہے پیار کا ان کے جو کانٹے پھول لگتے ہیں شب دیجور کی بس میں ہی حسن و دل کشی سمجھوں وہ میری آنکھوں کے پیغام کو کیوں پڑھ نہیں پاتے بھلا کب تک میں ان کی بے رخی کو سادگی سمجھوں رکھوں سر اس کے سینے پر اور اپنے غم بھلا ڈالوں وہ دل کا آشنا ہے کیوں اسے میں اجنبی سمجھوں نہ میں حسن مجسم ہوں نہ مجھ میں کوئی خوبی ہے مگر ان کی نظر سے خود کو دیکھوں تو پری سمجھوں گھری ہوں سخت مشکل میں مگر ہوں مطمئن ازکیٰؔ خدا کی مصلحت ہوگی کوئی اس میں یہی سمجھوں

tavajjoh is qadar un ki use main dil-lagi samjhun

غزل · Ghazal

الفت میں کوئی بات چھپائی نہیں جاتی دیوار انا بیچ میں لائی نہیں جاتی ہے دل مرا آزردہ مگر لب پہ ہنسی ہے خوبی یہ ہر انسان میں پائی نہیں جاتی ہم ہی چلو جھک جاتے ہیں اب سامنے ان کے ان سے تو یہ دیوار گرائی نہیں جاتی ناکردہ گناہوں کی سزا پائیں گے کب تک منصف کے یہاں میری دہائی نہیں جاتی اے کاش کوئی ہو جو مری وحشتیں بانٹے اب دل کی خلش مجھ سے دبائی نہیں جاتی ازکیٰؔ چلو اب کوچ کریں شہر سے ان کے اب اور ہزیمت یہ اٹھائی نہیں جاتی

ulfat mein koi baat chhupaai nahin jaati

Similar Poets