
Faysal Sahib
Faysal sahib
Faysal sahib
Ghazalغزل
مجھ سے دیوانے کی کیا کوئی محبت سمجھے دیکھنا یار کا چہرہ جو عبادت سمجھے مجھ میں اب اور سکت باقی نہیں بٹنے کی میں میسر ہوں جسے جتنا غنیمت سمجھے وہ تو یوں ہم نے جہاں چھوڑ دیا تیرے بعد ہم ترے بعد یہاں جینا اذیت سمجھے تم نے کیا کیا نہ کیا خوف سے عاری ہو کر ہم ہی پاگل تھے جو دنیا کو عدالت سمجھے ساری مشکل میں گزاری تو سہولت سمجھے تم سہولت سے سہولت کو سہولت سمجھے جو اڑانوں کی تھکن دیکھ کے آیا ہی نہیں وہ پرندہ بھی بھلا خاک مسافت سمجھے ہم نے انکار میں اقرار کے پہلو ڈھونڈے چھپ کے ملنے کو بھی قدرت کی اجازت سمجھے
mujh se divaane ki kyaa koi mohabbat samjhe
یار اس چیز کا بازار نہیں ہوگا کیا خواب کا کوئی خریدار نہیں ہوگا کیا ہاتھ کا لمس حرارت تو نہیں دے پایا اس کا مطلب ہے اسے پیار نہیں ہوگا کیا میں نے دریا کے کناروں کو ملانا چاہا میری محنت سے تو انکار نہیں ہوگا کیا مستقل خواب کا حصہ ہی بنا پھرتا ہے تو کبھی نیند سے بیدار نہیں ہوگا کیا اس کنارے سے اگر صاف نظر آتا ہے پھر سفر پار کا بے کار نہیں ہوگا کیا
yaar is chiiz kaa baazaar nahin hogaa kyaa
ایک ہی حل شدید وحشت میں اور سگریٹ مزید وحشت میں تھک گئے چیخ چیخ دشت میں ہم کرتا کیا تھا فرید وحشت میں کچھ بھروسہ نہیں دوانے کا کیا کرے کیا بعید وحشت میں عام سے دن نہیں گزرتے ہیں کیسے گزرے گی عید وحشت میں چاند کی چاندنی سے آنگن میں ہوتے ہیں مستفید وحشت میں پتلیاں پھیلتی ہی جاتی ہیں گھٹتی جاتی ہے دید وحشت میں
ek hi hal shadid vahshat mein
مری دعا میں اثر ہوتا تو میں روتا کیا کہ تیرے پہلو میں سر ہوتا تو میں روتا کیا نہ جانے کون سے رستوں سے زندگی گزری تری گلی سے گزر ہوتا تو میں روتا کیا مرے تو جسم کا حصہ رہی ہیں دیواریں اگر کہیں کوئی در ہوتا تو میں روتا کیا کہاں میں ہجر کو چپ چاپ کاٹ سکتا تھا مرا جو اتنا جگر ہوتا تو میں روتا کیا وہ اس کنارے رہا عمر بھر ادھر میں رہا اگر کہ میں بھی ادھر ہوتا تو میں روتا کیا جسے بھی غور سے دیکھا مجھے پرایا لگا مرا کوئی بھی اگر ہوتا تو میں روتا کیا
miri du'aa mein asar hotaa to main rotaa kyaa
ہم سے لوگوں کا جہاں بھر میں ٹھکانا کیا ہے تم تو سب جانتے ہو تم کو بتانا کیا ہے جو دیا دیکھ کے بینائی سے محروم ہوا ایسے کم ظرف کو سورج کا دکھانا کیا ہے تیری قسمت جو رواں زندگی حاصل ہے تجھے تو نہیں جانتا دھکے سے چلانا کیا ہے ہوتی دوری تو ترے غم کو مناتے ہم بھی کون سا ہجر ترا خواب میں آنا کیا ہے میں جو اندازے لگانے میں لگا ہوں کب سے کیا کوئی مجھ کو بتائے گا زمانہ کیا ہے دشت میں ریت تھی یا عشق کی دولت صاحبؔ گھر سے نکلے تو سمجھ آئی کمانا کیا ہے
ham se logon kaa jahaan bhar mein Thikaanaa kyaa hai
زیر پا تھا فلک زمین نہیں یہ ہوا ہے تمہیں یقین نہیں ہجر دونوں قبول کر کے جئے فلم میں ایسا کوئی سین نہیں کیسے سارے زمانے کا ہوتا تیرے جتنا تو میں ذہین نہیں ہم منافق ہوں گر کہیں کہہ دیں دائیں بائیں منافقین نہیں یہ تماشہ ہے اور تماشے میں جھومتا سانپ دیکھ بین نہیں خامشی ہے میاں اداسی ہے شہر دل میں کوئی مکین نہیں آ گنیں کتنے لوگوں کی صاحب شکل اچھی ہے دل حسین نہیں
zer-e-paa thaa falak zamin nahin





