SHAWORDS
F

Fayyaz Jaipuri

Fayyaz Jaipuri

Fayyaz Jaipuri

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

زندگی اور بھی دشوار ہوئی جاتی ہے اب تو ہر سانس اک آزار ہوئی جاتی ہے بن کہے راز محبت ہے زمانے پہ عیاں خامشی بھی مری گفتار ہوئی جاتی ہے صاف انکار کیا وصل سے تو نے لیکن مسکراہٹ تری اقرار ہوئی جاتی ہے کبھی ڈرتا ہوں گراں گزرے نہ ان کو مری بات اور کبھی جرأت اظہار ہوئی جاتی ہے ان کے آنے کی خبر سن کے نہ جانے اس دم تیز کچھ قلب کی رفتار ہوئی جاتی ہے ضبط کی حد سے گزرتے ہی محبت اپنی خوب رسوا سر بازار ہوئی جاتی ہے ان کی معصوم نظر تھی کبھی فیاضؔ مگر اب تو عالم سے خبردار ہوئی جاتی ہے

zindagi aur bhi dushvaar hui jaati hai

غزل · Ghazal

رہے اسیر قفس آشیاں نہ دیکھ سکے بھری بہار میں ہم گلستاں نہ دیکھ سکے بس اک جھلک ہی نے بے ہوش کر دیا ہم کو ترے جمال کی رعنائیاں نہ دیکھ سکے دل و جگر تپ فرقت میں جل رہے ہیں مگر کبھی نکلتا ہوا ہم دھواں نہ دیکھ سکے ہمیں تو جب سے یہ ظلمت کدہ نصیب ہوا کبھی ہم اپنی بھی پرچھائیاں نہ دیکھ سکے ہزار طرح سے تدبیر کی دل ناشاد مگر کبھی تجھے ہم شادماں نہ دیکھ سکے رہ طلب میں رکھے پاؤں جب سے اے فیاضؔ جنون شوق میں سود و زیاں نہ دیکھ سکے

rahe asir-e-qafas aashiyaan na dekh sake

غزل · Ghazal

آپ کی برہمی کو آگ لگے یا مری بے بسی کو آگ لگے مجھ سے دامن چھڑا کے جاتے ہیں ان کی اس بے رخی کو آگ لگے زندگی اور وہ بھی تیرے بغیر پھر تو اس زندگی کو آگ لگے ان کے آگے زباں کھلی نہ کبھی میری اس خامشی کو آگ لگے دل بلبل کا خون کر ڈالا پھول کی پنکھڑی کو آگ لگے مجھ کو فیاضؔ کر دیا برباد اس غم عاشقی کو آگ لگے

aap ki barhami ko aag lage

غزل · Ghazal

حسن جب خوگر جفا نہ رہا پھر محبت میں کچھ مزا نہ رہا مجھ کو جب تیرا آسرا نہ رہا دل میں پھر کوئی مدعا نہ رہا کیسی بے درد ہو گئی دنیا ایک بھی درد آشنا نہ رہا خاک ان سے رکھوں امید کرم جب ستم کا بھی آسرا نہ رہا اپنے حال تباہ کے صدقے آشنا بھی تو آشنا نہ رہا ساری دنیا ہے بے وفا فیاضؔ اب یہاں کوئی با وفا نہ رہا

husn jab khugar-e-jafaa na rahaa

غزل · Ghazal

میں جو روٹھا تو منانے آئے شاید اب ہوش ٹھکانے آئے ہو کے مجبور آج تیرے حضور غم کی روداد سنانے آئے ہو تمہیں درپئے آزار تو پھر کون تسکین دلانے آئے جب میں جانوں کہ مری طرح کوئی یوں ترے ناز اٹھانے آئے دوستوں نے بھی چرا لیں نظریں مجھ پہ ایسے بھی زمانے آئے یاد ماضی ہے غنیمت فیاضؔ لوٹ کر کس کے زمانے آئے

main jo ruThaa to manaane aae

غزل · Ghazal

وہ مجھ پہ ترس کھائیں یہ قسمت ہی نہیں ہے میں شکوہ کروں یہ مری فطرت ہی نہیں ہے انجان بنے بیٹھے ہیں وہ بزم میں ایسے جیسے کہ کسی سے انہیں نسبت ہی نہیں ہے نکلا بھی قفس سے تو نہ پہنچوں گا چمن تک مجبور ہوں پرواز کی طاقت ہی نہیں ہے اے کاش ترا قرب جو ہو جائے میسر پھر مجھ کو کسی شے کی ضرورت ہی نہیں ہے فیاضؔ فقط اپنے مقدر سے گلہ ہے ان سے تو مجھے کوئی شکایت ہی نہیں ہے

vo mujh pe taras khaaein ye qismat hi nahin hai

Similar Poets