
Fitrat Ansari
Fitrat Ansari
Fitrat Ansari
Ghazalغزل
ان کا منشا ہے نہ پھیلے خس و خاشاک میں آگ آتش دل نہ لگا دیدۂ نمناک میں آگ برق غم بن کے جو احساس نظر پھونک گئی اس قدر تھی ترے اک جملۂ بے باک میں آگ شعلۂ مے کی نوازش ہے تو لگ جائے گی ساز ہستی کے ہر اک نغمۂ ناپاک میں آگ ان کے آنگن میں بھی انگارے برس جائیں گے آہ سوزاں نہ لگا دامن افلاک میں آگ قافلے اور بھی منزل کی طرف آتے ہیں تم سر راہ دباؤ نہ ابھی خاک میں آگ شکر ہے اس کی تمنا ہوئی پوری یا رب تیرے دیوانے کی مدت سے رہی تاک میں آگ چشم فطرت سے ٹپکتا ہے محبت کا جلال پھیل جائے نہ کہیں عالم ادراک میں آگ
un kaa manshaa hai na phaile khas-o-khaashaak mein aag
نئے جہاں میں پرانی شراب لے آئے اندھیری رات میں ہم آفتاب لے آئے مرے یقین میں گنجائش دلیل نہیں جواز ڈھونڈنے والے کتاب لے آئے پڑے تھے ایک ہی عالم میں اہل مے خانہ شکست جام سے ہم انقلاب لے آئے وہ کامیاب محبت ہیں جو ترے در سے خود اپنے آپ کو نا کامیاب لے آئے تمام عمر جو چھایا رہے گا آنکھوں میں تمہاری بزم سے ہم ایسا خواب لے آئے یہاں تو ایک بھی غم آشنا نہیں اپنا فرشتے مجھ کو کہاں بے نقاب لے آئے حیات عشق میں ہم توڑ کر قیود وفا کسی بھی طور سہی انقلاب لے آئے وہی سفینے جو طوفاں شناس تھے فطرت سکوت شہر میں اک اضطراب لے آئے
nae jahaan mein puraani sharaab le aae
نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید خیال ذہن میں زنجیر بن گیا شاید وہ ایک نام جو تم نے مٹا دیا ہے ابھی جبین وقت پہ تحریر بن گیا شاید مری نگاہ میں نا معتبر تھا جس کا وجود وہ فاصلہ مری تقدیر بن گیا شاید خود اپنا چہرہ بھی اب تو نظر نہیں آتا ہر آئنہ تری تصویر بن گیا شاید رہ خلوص میں فطرت تھی جس کی مستحکم وہ سنگ میل بھی رہ گیر بن گیا شاید
nigaah-e-husn ki taasir ban gayaa shaayad
انتخاب نگہ شوق کو مشکل بھی نہیں کوئی آئینہ ترا آج مقابل بھی نہیں کون سے گل کی خبر باد سحر لائی ہے صحن گلشن میں کہیں شور عنادل بھی نہیں جانے اب کون سی منزل میں میں ارباب جنوں دور تک دشت میں آواز سلاسل بھی نہیں تیر آتے ہیں کمیں گاہ سے میری جانب میری تقدیر میں کیا جلوۂ قاتل بھی نہیں تجھ سے اور چشم توجہ کا گلا کیا معنی تیرا فطرت ترے اخلاص کے قابل بھی نہیں
intikhaab-e-nigah-e-shauq ko mushkil bhi nahin
تصور میں جمال روئے تاباں لے کے چلتا ہوں اندھیری راہ میں شمع فروزاں لے کے چلتا ہوں شکستہ دل ہجوم یاس و حرماں لے کے چلتا ہوں حضور حسن میں یہ ساز و ساماں لے کے چلتا ہوں انہیں شاید یقیں آ جائے اب میری محبت کا میں ان کے روبرو چاک گریباں لے کے چلتا ہوں تمہاری یاد ہر اک گام پر مجھ کو رلاتی ہے اگر دل میں کبھی جینے کا ارماں لے کے چلتا ہوں ٹپکتا ہے لہو احساس کے رنگیں دریچوں سے میں اپنے دل میں جب یاد شہیداں لے کے چلتا ہوں اسے شاید مری معصومیت پر رحم آ جائے خدا کے سامنے میں فرد عصیاں لے کے چلتا ہوں مجھے بھی اپنے احساس وفا کو آزمانا ہے بزعم عشق افکار پریشاں لے کے چلتا ہوں مری خوددار فطرتؔ کی خدا ہی آبرو رکھے خزاں کے دور میں عزم بہاراں لے کے چلتا ہوں
tasavvur mein jamaal-e-ru-e-taabaan le ke chaltaa huun
ذوق نظر کو جلوۂ بے تاب لے گیا تعبیر کے نشاط کو اک خواب لے گیا موج سبک خرام کی تحریک ہی تو تھا وہ حوصلہ جو مجھ کو تہہ آب لے گیا سر ان کی بارگاہ میں جھک تو گیا مگر دل آبروئے منبر و محراب لے گیا نغمات دل فضا میں بکھرنے نہ پائے تھے تار نفس کو صدمۂ مضراب لے گیا دل ارتقائے ذہن کا حاصل تو ہو گیا حسن یقیں کو عالم اسباب لے گیا حیرت فشانیاں مجھے دے تو گیا مگر آئینہ زندگی کی تب و تاب لے گیا ہم نے محل بنائے تھے کچھ ریگزار پر جن کو بہا کے وقت کا سیلاب لے گیا
zauq-e-nazar ko jalvaa-e-be-taab le gayaa





