SHAWORDS
Gaurav Trivedi

Gaurav Trivedi

Gaurav Trivedi

Gaurav Trivedi

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

main thak chukaa huun zamaana ke chonchalon se ab

میں تھک چکا ہوں زمانہ کے چونچلوں سے اب سو چن رہا ہوں کچھ اک دوست دشمنوں سے اب چلے گئے ہیں جو واپس نہیں ملا کرتے ملوں گا خیر تمہیں میں بھی مشکلوں سے اب نہ جانے کاٹ رہا ہوں میں کس لئے راتیں ملے گا کیا ہی مجھے جانے رتجگوں سے اب مٹا رہا ہوں اب اپنا میں اصل معنی خود تلاش کرنا مجھے اپنے زاویوں سے اب تمہارے دل میں بھی میری جگہ نہیں کوئی مجھے بھی سیکھنا ہے جینا بے گھروں سے اب

غزل · Ghazal

tujhe paane ki khvaahish phir jagi hai

تجھے پانے کی خواہش پھر جگی ہے مگر افسوس یہ تو خودکشی ہے مجھے آواز دے میں جی اٹھوں گا تری آواز اداسی توڑتی ہے تری تصویر کو دیکھوں تو مجھ کو ابھی تک پیار سے ہی دیکھتی ہے اگر تو خوش نہیں ہے تو چلی جا مجھے تو خیر بس اپنی پڑی ہے مرا کیا ہے مرا افسوس بھی کیا ترے آگے تو پوری زندگی ہے

غزل · Ghazal

toD di saare jahaan se dosti achchhaa kiyaa

توڑ دی سارے جہاں سے دوستی اچھا کیا اور خود سے بھی کوئی خواہش نہ کی اچھا کیا اک قسم جو روک سکتی تھی ہماری رخصتی خیر تم نے وہ قسم ہم کو نہ دی اچھا کیا لوٹتا تو دیکھتا کچھ اور پیروں کے نشان پر نہ لوٹا میں کبھی اس کی گلی اچھا کیا لوگوں کا برتاؤ تو تھا ہی بہت بے کار پر خود سے میں نے کون سا خود بھی کبھی اچھا کیا اب تو جھوٹے منہ بھی تم کہتے نہیں ہو پیار ہے تم نے آخر چھوڑ ہی دی دل لگی اچھا کیا

غزل · Ghazal

miri aankhon ke jo raushan diye hain

مری آنکھوں کے جو روشن دیے ہیں تمہاری یاد میں بجھنے لگے ہیں کئی آنسو تو اصلی رنگ اپنا مری آنکھوں میں آ کر دیکھتے ہیں تمہارے خواب دل کش خواب تھے پر مری آنکھوں میں بھی گہرے کنویں ہیں وہی رشتے جو مجھ کو بن رہے تھے مرے اشعار میں بکھرے پڑے ہیں بڑپن دیکھیے میرے بڑوں کا مجھے چھوٹا جتانے پر تلے ہیں

غزل · Ghazal

aap ko ye bhale aasaan safar lagtaa hai

آپ کو یہ بھلے آسان سفر لگتا ہے شعر کہنے میں مگر خون جگر لگتا ہے چاہتے تھے جسے بھر لیں گے کبھی بانہوں میں اتنا نازک ہے وہ چھونے میں بھی ڈر لگتا ہے اتنی یادیں ہیں فضاؤں میں تری کیا بولیں لکھنؤ آج بھی تیرا ہی نگر لگتا ہے جس کسی سے بھی ملوں اب وہ لگے ہے تم سا تم نہ مانو گے مرے یار مگر لگتا ہے تم سے بچھڑے تھے کبھی تب سے پہر یہ ہم کو آج تک تم سے بچھڑنے کا پہر لگتا ہے

غزل · Ghazal

yaad mein teri aisaa karne lagte hain

یاد میں تیری ایسا کرنے لگتے ہیں ہم اکثر خود سے ہی لڑنے لگتے ہیں یادیں زندہ ہو جاتی ہیں شام ڈھلے پھر ہم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہیں کچھ یادیں اتنی دھندھلی ہو جاتی ہیں ہم ان کو اک خواب سمجھنے لگتے ہیں وہ قصہ میں جب جب بھی دہراتا ہوں نظروں سے کچھ لوگ اترنے لگتے ہیں بوڑھے ہو کر مکھیا اپنے گھر میں ہی اپنی اولادوں سے ڈرنے لگتے ہیں

Similar Poets