SHAWORDS
Ghaibi Jaunpuri

Ghaibi Jaunpuri

Ghaibi Jaunpuri

Ghaibi Jaunpuri

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

اسے کیا بھلا خوف طوفان ہوگا خدا جس کا یارو نگہبان ہوگا وہ انسان کیا خاک انسان ہوگا جو درد محبت سے انجان ہوگا بھروسہ کرو گے جہاں ناخدا پر وہیں ڈوب جانے کا امکان ہوگا خبر کیا تھی جس کو سمجھتے تھے اپنا وہی ایک دن دشمن جان ہوگا مرے گھر کو ویران کرنے سے پہلے سمجھ لے ترا گھر بھی ویران ہوگا محافظ جو تھا شہر میں بت کدوں کا سنا ہے وہ کافر مسلمان ہوگا دلوں میں جو ہو عزم محکم تو غیبیؔ ہر اک کار دشوار آسان ہوگا

use kyaa bhalaa khauf-e-tufaan hogaa

غزل · Ghazal

چمن والو چمن کی داستاں کچھ اور کہتی ہے جو سچ پوچھو نگاہ باغباں کچھ اور کہتی ہے یہ مانا فصل گل ہے اوج پر رنگ بہاراں ہے مگر مجھ سے فضائے گلستاں کچھ اور کہتی ہے نہیں معلوم کیا انجام ہو یارب گلستاں کا مناظر دیکھ کر دل کی زباں کچھ اور کہتی ہے شفا ہو جائے ممکن ہے مریض عشق کو یارو مگر حالت نصیب دشمناں کچھ اور کہتی ہے وہ کہتے ہیں کریں گے درد کا درماں مگر غیبیؔ بہ انداز دگر ان کی زباں کچھ اور کہتی ہے

chaman vaalo chaman ki daastaan kuchh aur kahti hai

غزل · Ghazal

جن کا اونچا مقام ہوتا ہے ان کا دنیا میں نام ہوتا ہے ہم نے دیکھا ہے میکدے کے سوا ہر جگہ خاص و عام ہوتا ہے خون بہتا ہے بے گناہوں کا جب کہیں قتل عام ہوتا ہے اس کو خوشیاں کبھی نہیں ملتیں جو ہوس کا غلام ہوتا ہے دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں جب سلام و پیام ہوتا ہے کوئی ذرہ کبھی کہاں غیبیؔ قابل احترام ہوتا ہے

jin kaa unchaa maqaam hotaa hai

غزل · Ghazal

کون سمجھے گا آہ و فغاں کون ہے اس چمن میں مرا ہم زباں کون ہے کس سے امید داد سخن میں رکھوں اہل فن میں مرا قدرداں کون ہے جس کے بھی ہاتھ آیا نظام چمن سب نے لوٹا چمن پاسباں کون ہے میری آنکھوں سے خود کو تو دیکھو ذرا تم سے بڑھ کر حسیں اور جواں کون ہے آپ کی کامیابی پہ غیبیؔ یہاں شادماں ہیں سبھی بد گماں کون ہے

kaun samjhegaa aah-o-fughaan kaun hai

غزل · Ghazal

اس طرح سے بزم میں لی اس نے انگڑائی کہ بس ہو گئے شیخ حرم بھی ایسے شیدائی کہ بس میکدے پر اس طرح کالی گھٹا چھائی کہ بس توڑ دی توبہ طبیعت ایسی للچائی کہ بس دل پہ رکھے ہاتھ ہم پہروں اسے دیکھا کیے بانوئے شب یوں ستاروں سے تھی گہنائی کی بس ہر طرف مجبوریاں دشواریاں محرومیاں زندگی کچھ ایسے نازک موڑ پہ لائی کہ بس ریزہ ریزہ ہو گیا پل بھر میں ہستی کا وجود چوٹ ایسی ہم نے راہ عشق میں کھائی کہ بس ایک ناگن کی طرح لمحہ بہ لمحہ دوستو مجھ کو ایسی ڈس رہی تھی شام تنہائی کہ بس ششدر و حیران ہیں سن کر غزل اہل سخن فکر میں غیبیؔ تری ہے ایسی گہرائی کی بس

is tarah se bazm mein li us ne angDaai ki bas

غزل · Ghazal

ساقیا کون گیا روٹھ کے میخانے سے جام مل مل کے گلے روتے ہیں پیمانے سے ہے وہی کشمکش زیست کا عالم اب تک بار غم آج بھی کم ہو نہ سکا شانے سے اب تو اس پیڑ کے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے قافلے کتنے لٹے ہیں یہاں رک جانے سے آپ اس گھر میں جو آئے ہیں تو یوں لگتا ہے چاندنی کھیل رہی ہے کسی ویرانے سے شیشۂ دل کو جدا سنگ دلوں سے رکھنا ٹوٹ سکتا ہے کسی وقت بھی ٹکرانے سے میرا غم تو غم دنیا ہے زمانے والو اس کو تشبیہ نہ دو قیس کے افسانے سے کس کی قسمت میں لکھا کس کو پتہ کیا غیبیؔ کام اپنا ہے فقط یار کے یارانے سے

saaqiyaa kaun gayaa ruuTh ke maikhaane se

Similar Poets