SHAWORDS
G

Ghalib Ahmad

Ghalib Ahmad

Ghalib Ahmad

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی جو جسم کے ذروں میں خدا ڈھونڈ رہی ہے یوسف کی زلیخا میں ہے وہ روح تپاں بھی اس مہر خموشی میں نہاں روح تکلم اس سوئے ہوئے شہر کی ہے اپنی زباں بھی ہر لہر کے سینے سے لپٹتا ہے مرا دل منجدھار کے اس پار ہو ساحل کا نشاں بھی کیوں وقت کی لہریں مجھے لے جائیں کسی اور دائم دل دریا ہوں میں موجوں میں رواں بھی ہم زیست کی سرحد پہ ملے موت سے لیکن ہے دشت طلب بھی وہی اور منزل جاں بھی

zanjir mein hain dair-o-haram kaun-o-makaan bhi

غزل · Ghazal

بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالی دشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالی اب تو خلوت کدۂ عالم امکاں سے نکل اب یہاں کوئی نہیں عشق کا عنواں خالی پھر کسی جنت گم گشتہ کو دیکھا اس نے جسم پھر چھوڑ چلا جسم کا زنداں خالی وادیٔ زیست میں دل ڈھونڈھتا ہے نور کا رنگ چار سو گھورتی ہے چشم پریشاں خالی اے صبا اب تو یہاں کوئی نیا پھول کھلا ایک مدت سے ہے دامان غزل خواں خالی

baarhaa ho ke gae abr-e-bahaaraan khaali

غزل · Ghazal

رات پھر جانب سحر آئی کتنی دشوار رہ گزر آئی چاند تاروں کے پھول مرجھائے جب بھی شبنم کی آنکھ بھر آئی حسرتوں کا سفید فام کفن کون پہنے ہوئے کدھر آئی کس تمنا کی چشم آوارہ ٹھوکریں کھا کے در بدر آئی آج رنگ شفق عجیب سا تھا دل کی تصویر سی اتر آئی اک زمانہ ہوا خزاں گزرے دل اجڑنے کی اب خبر آئی کیا ہوا دل کی آبرو نہ رہی زندگی کچھ تو راہ پر آئی

raat phir jaanib-e-sahar aai

غزل · Ghazal

نظر نظر سے ملی دل پکار اٹھا کہ نہیں نہیں خبر مجھے اس وقت ہوش تھا کہ نہیں پھر آرزوؤں کی بستی میں قافلے آئے در فسون تمنا ابھی کھلا کہ نہیں نئے سفر ہیں نئے راہرو نئی راہیں نئے زمین و زماں کی ہے ابتدا کہ نہیں تری تلاش میں ہم خود سے آشنا نہ رہے ابھی ہوئی ہے محبت کی انتہا کہ نہیں ترے وصال کے رستوں میں ہم خرد سے ملے جنوں نے دل سے کہا ہے وہی فضا کہ نہیں

nazar nazar se mili dil pukaar uThaa ki nahin

غزل · Ghazal

منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے جا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دے تیری آواز کی پرواز میں ہے میرا وجود اپنی گفتار کے پردوں میں بکھر جانے دے نہ کوئی چشم تمنا نہ کوئی دست دعا زندگی تو مجھے بے لوث گزر جانے دے تیرے قابل بھی نہیں تیرے مقابل بھی نہیں ہم سفر ساتھ مجھے اپنے مگر جانے دے تو تو ہے حسن ازل اور مرا رنگ غزل میری آواز میں بھی کچھ تو اثر جانے دے میرے اشعار میں صدیوں کے تلاطم کا شعور کاش تو ان کو ذرا دل میں اتر جانے دے

manzar-e-hosh se aage bhi nazar jaane de

غزل · Ghazal

اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گا اتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گا دھوپ تھی سرسوں کی کیاری میں دونوں مل کر سوئے تھے یہ منظر بھی ساتھ ہمارے در در ٹھوکر کھائے گا پھر وہ شاعر رات گئے اس شہر میں تنہا پھرتا ہے اس کو کہنا صبر کرے ملنے کا موسم آئے گا ساری رات وہ ساتھ رہے سائے کی طرح ہم سے دور ہم بھی ساتھ لگے رہتے ہیں کبھی تو مل ہی جائے گا رات کی کالی چادر لے کر دن بھر سوئے رہتے ہیں دیکھیں کب وہ سورج بن کر ہمیں جگانے آئے گا

apne ghar se mere ghar tak kuchh lamhon mein aaegaa

Similar Poets