
Ghaus Mohammad Ghausi
Ghaus Mohammad Ghausi
Ghaus Mohammad Ghausi
Ghazalغزل
غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہے مرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہے پرکھ یہی ہے محبت کی آنچ دو اس کو پگھل گیا تو وہ شیشہ ہے ورنہ پتھر ہے خلا نورد کو یارو فراز منزل کیا کہ اب تو اس کا ہر اک پر بجائے شہ پر ہے عداوتوں کو فنا کر دیا محبت سے مجاہدے میں محبت ہی اپنا خنجر ہے ثبوت بیعت پیر حرم یہ ہے تو سہی کہ آج تک کف دست رسا منور ہے مجھے ضرورت غازہ نہیں کہ چہرے پر مرے ضمیر کا جو رنگ ہے اجاگر ہے ستارہ سحر آثار ہے جو اے غوثیؔ غبار بستہ ابھی اس کا پیش منظر ہے
ghurur-e-naaz dikhaa tujh mein kitnaa jauhar hai
وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہے ظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہے گرد جادہ کون ہے منزل رسیدہ کون ہے وقت کیا کہتا ہے سنئے برگزیدہ کون ہے زہر غم پی جز و جاں کر پھر بھی موت آئے تو کیا یوں بھی امرت کا یہاں لذت چشیدہ کون ہے فرش سے تا عرش یکساں ہے صدائے مرحبا دیکھنا یہ سر بکف یہ سر بریدہ کون ہے بات کرتے ہیں تو منہ سے دودھ کی آتی ہے بو ان میں اپنی محفلوں کا رنگ دیدہ کون ہے خاک سے پا کر مفر کس کو نہ خوش آیا سفر دل گرفتہ کون ہے خاطر کبیدہ کون ہے اپنے سائے پر ہی جب مرکوز تھے ذہن و نظر کوئی کیوں کر دیکھتا قامت کشیدہ کون ہے جب در کردار پر آنچ آ گئی کیا رہ گیا اب یہ صرف ماتم رنگ پریدہ کون ہے کس قدر شائستگی سے کہہ گیا وہ اپنا غم دوستوں کی خیر ہو دشمن گزیدہ کون ہے غم نہ کر غوثیؔ اگر مردہ نہیں تیرا ضمیر تجھ سے بڑھ کر خود ترا دیدہ شنیدہ کون ہے
vo yaqin paikar hai kis kaa nur-e-dida kaun hai
حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئے طلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئے ہر اک ضمیر سے پردہ اٹھا گئے پتھر کسی کے عیب کسی کے ہنر نکل آئے سنور سنور کے مشیت سنوارتی ہے جنہیں ادھر تو کوئی نہیں ہم کدھر نکل آئے مرا خروش جنوں جب بھی رنگ پاش ہوا مری طرف نگراں کتنے در نکل آئے کہاں ہے ہولی جو دیکھے بہ یک کرشمہ دو کار گھرے تھے آگ میں ہم بھی مگر نکل آئے بہ ایں نزاکت تخلیق ٹھوکریں کھانے یہ پتھروں میں کہاں شیشہ گر نکل آئے فراز منزل رف رف سوارگی سوگند خلا میں اور بصیرت کے پر نکل آئے لب فرات عجب شان سرفرازی تھی گماں تھا دشت میں نیزوں کے سر نکل آئے ہے آگہی بھی اگر جاں گسل تو ہو غوثیؔ حریم بے خبری سے مگر نکل آئے
hisaar-e-kaasa-e-sar toD kar nikal aae
ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیں یاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیں دنیا کا بھرم قائم رکھنا اوروں کے لئے جینا مرنا اس دور کی وہ تہذیب نہیں اس دور کے وہ آداب نہیں کشتی پہ تھپیڑوں کا ہے اثر تیکھے سہی موجوں کے تیور پھر بھی پس منظر میں یارو سازش ہے کوئی گرداب نہیں محبوب ادا حیرت افزا خوشبو سیرت جلوہ صورت یہ خواب ہمارے اپنے ہیں یہ خواب پرائے خواب نہیں ہر موج رواں بے فیض رہی بے سایہ شجر جیسی ابھری دریا بھی سراب آسا نکلا اک لب تشنہ سیراب نہیں بازار وفا اور بے رونق یہ تو المیہ ہے غوثیؔ ہیرے ہیں مگر خوش تاب نہیں موتی ہیں مگر پر آب نہیں
har chand abhi khud par zaahir mein aur mire ahbaab nahin
حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریں مہہ و نجوم ادب سے جسے سلام کریں نظر ملا کے جو کرتے ہیں بات سورج سے وہ ڈوبتے ہوئے تاروں سے کیا کلام کریں ابھی تو وقت ہے تزئین میکدہ کے لئے بجائے رخنہ گری مل کے کوئی کام کریں اٹھو اٹھو کہ مشاغل ہیں اور بھی یارو فسانۂ غم ماضی یہیں تمام کریں بلندیوں سے پکارا گیا ہے یوں غوثیؔ کہ اہل عشق بھی حاصل کوئی مقام کریں
hayaat-e-ishq ko itnaa to nur-faam karein
سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہے جب تم نظر میں ہو تو زمانہ نظر میں ہے یوں بھی تو سوچ ناز کش حسن دوستاں تیرا بھی کچھ مقام کسی کی نظر میں ہے پڑھ لیتے ہیں وہ سب کی نظر سے دلوں کا حال اندر سے کون کیا ہے سب ان کی نظر میں ہے کیوں ہو رہا ہے تجزیۂ جور ناروا تصویر کا یہ رخ بھی کسی کی نظر میں ہے یارو شکار وقت ہوں یا آسماں شکار جو کچھ بھی ہوں سب اہل نظر کی نظر میں ہے اب کیا شکایت روش دوستاں کروں غوثیؔ مری کمی بھی تو میری نظر میں ہے
sab kuchh to zindagi ki mataa-e-safar mein hai





