SHAWORDS
Ghayas Anjum

Ghayas Anjum

Ghayas Anjum

Ghayas Anjum

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھا مگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھا کسی کی عزت و ناموس پر نہ آنچ آئی لٹا تو اف بھی نہ کی مہربان ایسا تھا زمانہ گزرا مگر داغ رہ گیا دل پر نہ مٹ سکا کسی صورت نشان ایسا تھا بدن کی شاخ سے اس کے کرن جو لپٹی تھی وہ سہہ سکا نہ اسے دھان پان ایسا تھا متاع زیست لٹا دی گئی مگر اس نے ذرا بھی قدر نہ کی بد گمان ایسا تھا نظر شناس تھا کیسا کہ عمر بھر انجمؔ بھلا سکا نہ اسے میہمان ایسا تھا

hujum-e-dard milaa imtihaan aisaa thaa

1 views

غزل · Ghazal

بے نیاز بہار سا کیوں ہے دل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہے وہ خفا ہیں کہ ہم غریبوں کو غم پہ کچھ اختیار سا کیوں ہے میری آنکھوں کے خواب تو غم ہیں وہ مگر بے قرار سا کیوں ہے عکس اس میں تھا کس کے چہرے کا آئنہ سنگسار سا کیوں ہے آہٹیں پاس آ کے دور ہوئیں ہم کو پھر انتظار سا کیوں ہے کیا کوئی صندلی مہک سی اڑی دل مرا پر خمار سا کیوں ہے زندگی تلخ ہے بہت انجمؔ پھر بھی ظالم سے پیار سا کیوں ہے

be-niyaaz-e-bahaar saa kyuun hai

1 views

غزل · Ghazal

خون دل مجھ سے ترا رنگ حنا مانگے ہے یا ہتھیلی پہ کوئی نقش وفا مانگے ہے جو سدا دیتا رہا دار و رسن تحفے میں ہم فقیروں سے وہی حرف دعا مانگے ہے کیا ہوا ہے کہ رفاقت کا بھرم رکھنے کو مجھ سے محبوب مرا زخم نیا مانگے ہے شہر میں دھنستا ہے فتنے کی نئی دلدل میں کیا قیامت ہے کہ میرا ہی پتہ مانگے ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے مزاج یاراں جس کو دیکھو وہی اظہار وفا مانگے ہے وہ تو وحشت میں کبھی سمجھے ہے مجھ کو قاتل اور کبھی کوچۂ قاتل کا پتا مانگے ہے عقل پر پردہ پڑا ہے کہ سخنور انجمؔ دن کے ماحول میں بھی کالی ردا مانگے ہے

khun-e-dil mujh se tiraa rang-e-hinaa maange hai

1 views

غزل · Ghazal

درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے شعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئے سنتے آئے ہیں بہت ذکر حسیں خوابوں کا اب کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے ان کے چہرے کو میں اس طرح پڑھا کرتا ہوں جیسے غم کی کوئی تفسیر غزل میں آئے کھیت کھلیان سے جب سانولی صورت لوٹے سرمئی شام کی تنویر غزل میں آئے اپنے کردار کا کچھ عکس تو جھلکے انجمؔ آئنہ کی کوئی تحریر غزل میں آئے

dard ke chaand ki tasvir ghazal mein aae

1 views

غزل · Ghazal

تجھے میں بھول جانا چاہتا ہوں یوں دل کو آزمانا چاہتا ہوں نہ چھیڑو آج درد و غم کے قصے میں کھل کر مسکرانا چاہتا ہوں مری تحویل میں جو بھی ہے یارو تمہیں پہ سب لٹانا چاہتا ہوں بہت بوجھل سے لگتے ہیں مناظر میں ان سے دور جانا چاہتا ہوں خیال و فکر کا دم گھٹ رہا ہے نئی دنیا بنانا چاہتا ہوں کسی کی یاد کی خوشبو کو انجمؔ میں رگ رگ میں بسانا چاہتا ہوں

tujhe main bhuul jaanaa chaahtaa huun

1 views

غزل · Ghazal

پہنچ کر شب کی سرحد پر اجالا ڈوب جاتا ہے نہ ہو جس کا کوئی وہ بے سہارا ڈوب جاتا ہے جسے گاتا ہے کوئی بربط صد چاک داماں پر فضائے بے یقینی میں وہ نغمہ ڈوب جاتا ہے یہاں تو دل کی باتیں ہیں ہمارا تجربہ ہے یہ جو سطح آب پر رکھیے تو پیسہ ڈوب جاتا ہے تعلق دیر سے مضبوط کرتا ہے جڑیں اپنی ذرا سی چوک سے صدیوں کا رشتہ ڈوب جاتا ہے تری یادوں کی دنیا سے کبھی جو دور ہوتا ہوں اداسی گھیر لیتی ہے نظارا ڈوب جاتا ہے نہ جانے کیا ہو تیرے شہر میں اب جا کے دیکھوں گا یہاں تو اپنی قسمت کا ستارہ ڈوب جاتا ہے ابل پڑتا ہے آفت کا کہیں لاوا تو پھر انجمؔ غم و اندوہ میں معصوم چہرہ ڈوب جاتا ہے

pahunch kar shab ki sarhad par ujaalaa Duub jaataa hai

Similar Poets