SHAWORDS
Ghayas Mateen

Ghayas Mateen

Ghayas Mateen

Ghayas Mateen

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

دل جلا پھر چراغ جلتے ہی اپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہی کتنے چہرے اتر گئے دیکھو دھوپ دیوار سے اترتے ہی موسموں کا پتہ چلا مجھ کو رنگ دیوار کا بدلتے ہی ہم نے دریا میں راستہ پایا اک ترا نام لے کے چلتے ہی زندگی کتنی خوب صورت ہے ہاں مگر سانس کے اکھڑتے ہی میرؔ کی یاد آ گئی ہم کو صبح کرتے ہی شام کرتے ہی ایک زندہ مثال تھی نہ رہی ہائے اس آدمی کے مرتے ہی ٹوٹنا اپنے دل کا یاد آیا آئنہ ٹوٹ کر بکھرتے ہی تیرا لہجہ متینؔ ایسا ہے پھول جھڑتے ہیں بات کرتے ہی

dil jalaa phir charaagh jalte hi

غزل · Ghazal

سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئے آنگن بڑا ہے اپنے بھی گھر دھوپ چاہئے آئینے ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرے ہیں چار سو ڈھونڈیں گے عکس عکس مگر دھوپ چاہئے بھیگے ہوئے پروں سے تو اڑنے نہ پائیں گے کاٹوں نہ ان پرندوں کے پر دھوپ چاہئے ہم سے دریدہ پیرہن و جاں کے واسطے یاقوت چاہئے نہ گہر دھوپ چاہئے سورج نہ جانے کون سی وادی میں چھپ گیا اور چیختی پھرے ہے سحر دھوپ چاہئے اک نیند ہے کہ آنکھ سے لگ کر نکل گئی اب رات کا طویل سفر دھوپ چاہئے پانی پہ چاہے نقش بنائے کوئی متینؔ کاغذ پہ میں بناؤں مگر دھوپ چاہئے

suraj ko kyaa pata hai kidhar dhuup chaahiye

غزل · Ghazal

زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیں قفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیں وہیں سے لوٹ گئی راستوں کی تنہائی جہاں پہ اس نے یہ جانا سفر میں ہم بھی ہیں تو وہ شجر جو سدا برگ و بار دیتا ہے مثال آب نہاں اس شجر میں ہم بھی ہیں جسے کہیں سے سمندر نے لا کے پھینک دیا تمہارے ساتھ اک ایسے ہی گھر میں ہم بھی ہیں کتاب تھے تو پڑھے جا سکے نہ دنیا سے لو اب چراغ ہوئے رہ گزر میں ہم بھی ہیں خیال آگ ہے شعلہ ہے فکر لو الفاظ یہ سب ہنر ہیں تو پھر اس ہنر میں ہم بھی ہیں متینؔ شہر بھی صحرا نژاد ہے اتنا کہ سنگ و خشت میں دیوار و در میں ہم بھی ہیں

zamin ke saath falak ke safar mein ham bhi hain

غزل · Ghazal

اکیلا گھر ہے کیوں رہتے ہو کیا دیتی ہیں دیواریں یہاں تو ہنسنے والوں کو رلا دیتی ہیں دیواریں انہیں بھی اپنی تنہائی کا جب احساس ہوتا ہے تو گہری نیند سے مجھ کو جگا دیتی ہیں دیواریں بجھے ماضی کا کھلتے حال سے رشتہ عجب دیکھا کھنڈر خاموش ہیں لیکن صدا دیتی ہیں دیواریں ہوا کے زخم سہہ کر بارشوں کی چوٹ کھا کھا کر چھتوں کو روزنوں کو آسرا دیتی ہیں دیواریں رہوں گھر میں تو میرے سر پہ چادر تان دیتی ہیں سفر پر جب نکلتا ہوں دعا دیتی ہیں دیواریں جو چلنا ہی نہ چاہے روک لیتے ہیں اسے ذرے بگولوں کو سفر میں راستہ دیتی ہیں دیواریں وہ ساری گفتگو جو بند کمروں ہی میں ہوتی ہے میں جب باہر سے آتا ہوں سنا دیتی ہیں دیواریں اترتی اور چڑھتی دھوپ کی پہچان ہے ان کو ابھی دن کتنا باقی ہے بتا دیتی ہیں دیواریں متینؔ اس چلچلاتی دھوپ میں سایہ انہی سے ہے میں جب بھی ٹوٹتا ہوں حوصلہ دیتی ہیں دیواریں

akelaa ghar hai kyon rahte ho kyaa deti hain divaarein

غزل · Ghazal

دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیں وقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیں جھوٹ کی دیوار سے لٹکے ہوئے جسموں کے دن ہو گئے پورے کہ سچ تو شب میں بھی سوتا نہیں ہم تکا کرتے ہیں کھڑکی سے اترتے چاند کو دوڑ کر اس کو پکڑ لیں یہ کبھی ہوتا نہیں دل عجب پتھر ہے پانی سے پگھل جائے کہیں اور کبھی جو آگ میں رکھ دیجئے روتا نہیں روشنی پھوٹے قلم کے آنکھ سے کیوں کر متینؔ آنسوؤں کے بیج دل میں جب کوئی بوتا نہیں

dhuup kaa ehsaas jaane kyuun use hotaa nahin

غزل · Ghazal

لہجے کو پھول لفظ کو جگنو اگر کریں وقت رواں کے ساتھ معانی سفر کریں اندر کی بارشوں نے جو منظر دکھائے ہیں باہر کی دھوپ‌ چھاؤں کو اس کی خبر کریں موسم پرندے دھوپ کی دیوار شب چراغ قصہ طویل ہونے لگا مختصر کریں اب نیند سی ہے نیند نہ اب خواب سا ہے خواب سڑکوں پہ جاگ جاگ کے عمریں بسر کریں منظر کو درمیان سے اپنے ہٹا کے دیکھ ممکن ہے پھر متینؔ کی باتیں اثر کریں

lahje ko phuul lafz ko jugnu agar karein

Similar Poets