SHAWORDS
Ghazanfar Hashmi

Ghazanfar Hashmi

Ghazanfar Hashmi

Ghazanfar Hashmi

poet
1Shayari
3Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے اس دشت میں گرداب کی صورت بھی بہت ہے آنکھیں جو لیے پھرتا ہوں اے خواب مسلسل میرے لیے یہ کار اذیت بھی بہت ہے تم زاد سفر اتنا اٹھاؤ گے کہاں تک اسباب میں اک رنج مسافت بھی بہت ہے دو سانس بھی ہو جائیں بہم حبس بدن میں اے عمر رواں اتنی کرامت بھی بہت ہے کچھ اجرت ہستی بھی نہیں اپنے مطابق کچھ کار تنفس میں مشقت بھی بہت ہے اب موت مجھے مار کے کیا دے گی غضنفرؔ آنکھوں کو تو یہ عالم حیرت بھی بہت ہے

be-chehragi-e-umr khajaalat bhi bahut hai

غزل · Ghazal

بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے اس دشت میں گرداب کی صورت بھی بہت ہے آنکھیں جو لیے پھرتا ہوں اے خواب مسلسل! میرے لیے یہ کار اذیت بھی بہت ہے تم زاد سفر اتنا اٹھاؤ گے کہاں تک اسباب میں اک رنج مسافت بھی بہت ہے دو سانس بھی ہو جائیں بہم حبس بدن میں اے عمر رواں اتنی کرامت بھی بہت ہے کچھ اجرت ہستی بھی نہیں اپنے مطابق کچھ کار تنفس میں مشقت بھی بہت ہے اب موت مجھے مار کے کیا دے گی غضنفرؔ آنکھوں کو تو یہ عالم حیرت بھی بہت ہے

be-chehragi-e-umr-e-khajaalat bhi bahut hai

غزل · Ghazal

سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے مرا زمانہ کسی زمانے میں رہ گیا ہے جو تجھ کو جانا ہے اس اندھیرے میں ہی چلا جا بس ایک لمحہ دیا جلانے میں رہ گیا ہے ابھی تہی دست مجھ کو مت جان اے زمانے کہ ایک آنسو مرے خزانے میں رہ گیا ہے کبھی جو حکم سفر ہوا تو کھلا یہ مجھ پر جو پر سلامت تھا آشیانے میں رہ گیا ہے عجب طرح کا ادھوراپن ہے مرے بیاں میں سو میرا قصہ کہیں سنانے میں رہ گیا ہے بہت ضروری تھا خود سے ملنا مگر غضنفرؔ یہ کار دنیا کے تانے بانے میں رہ گیا ہے

sukhan kaa lahja gumaan-khaane mein rah gayaa hai

Similar Poets