paidal hamein jo dekh ke katraate the kabhi
ab lift maangte hain vahi kaar dekh kar
Ghulam Mohammad Vamiq
Ghulam Mohammad Vamiq
Ghulam Mohammad Vamiq
Popular Shayari
3 totalkitni Dhal gai umr tumhaari hairat hai
ab tak kaise rahi kunvaari hairat hai
tere rukhsaaron se duniyaa raushan thi
kaise ho gai zulmat taari hairat hai
Ghazalغزل
راز دروں سے کوئی تو پردہ اٹھا سکے دل سے کوئی تو دل کا تعلق بتا سکے تیری ہر ایک بات پہ جو سر جھکا سکے ہے کون میری طرح جو نخرے اٹھا سکے دل میں کسی کے کوئی کیوں ہوتا ہے جلوہ گر اے کاش اس پہ بھی کوئی پہرہ بٹھا سکے اک پھول اس کے ہاتھ میں ہے اس خیال سے بلبل کو میرے سامنے نیچا دکھا سکے تیری تباہ کار جوانی کے سامنے دل کو کہاں مجال کہ وہ تاب لا سکے لاکھوں نقوش ماضی مٹائے تو ہیں مگر دل سے تمہاری یاد نہ ہرگز مٹا سکے
raaz-e-darun se koi to parda uThaa sake
جان دے کر بھی ترے وحشی کو شکوہ نہ ہوا لاکھوں بسمل تھے مگر کوئی بھی ہم سا نہ ہوا بعد مرنے کے تو سب کو ہی بھلا کہتے ہیں زندگی بھر تو یہاں کوئی بھی اپنا نہ ہوا مجھ کو گھیرے ہی رہا تیرے خیالوں کا ہجوم میں تو ویرانوں میں رہ کر بھی اکیلا نہ ہوا میری قسمت میں کہاں محلوں کے سائے یارو میرے سر پر تو مرے گھر کا بھی سایہ نہ ہوا لوگ شہروں میں بھی رہتے ہوئے ڈر جاتے ہیں تیرے دیوانے کو صحرا میں بھی خطرہ نہ ہوا عید ہے دید اگر دید نہیں عید نہیں میری کیا عید اگر تیرا نظارہ نہ ہوا روبرو اس کے جو چوما تھا کبھی پھولوں کو ہائے اس شوخ کا غصہ ہے کہ ٹھنڈا نہ ہوا یہاں مجنوں کبھی فرہاد بھی گزرا وامقؔ ان میں دیوانہ مگر کوئی بھی ہم سا نہ ہوا
jaan de kar bhi tire vahshi ko shikva na huaa





