SHAWORDS
G

Ghulam Mustafa Faraz

Ghulam Mustafa Faraz

Ghulam Mustafa Faraz

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

numud-e-tegh hui paa-e-mo'tabar na bachaa

نمود تیغ ہوئی پائے معتبر نہ بچا وہ رن پڑا کسی شانے پہ کوئی سر نہ بچا حکایت غم دنیا رقم لہو سے ہوئی ہمارے ذکر پہ پانی بھی بوند بھر نہ بچا رگوں میں دوڑتے رہنا لہو کی فطرت ہے ٹھہر گیا تو کوئی موقعۂ سفر نہ بچا ہزار خوابوں کی دنیا میں عمر گزری ہو حقیقتیں ہوں مقابل تو پھر نظر نہ بچا بچا نہ غیر بھی برگشتہ طالعی سے مری میں جس کے سائے میں بیٹھا وہی شجر نہ بچا ہر ایک راہ تھی اس کے نشان پا میں ضم کہاں میں جاؤں کہ جب نقش رہگزر نہ بچا

غزل · Ghazal

mere sivaa sabhi ki thi yalghaar har taraf

میرے سوا سبھی کی تھی یلغار ہر طرف نادان صرف میں ہی تھا ہشیار ہر طرف باقی بچے گا کچھ بھی نہ مجھ کو نکال کے ہیں میرے دم سے ثابت و سیار ہر طرف سب دل پہ چوٹ کھائے ہیں سب غم چھپائے ہیں آزار عشق کے ہیں گنہ گار ہر طرف بازار مصر میں کوئی یوسف نہیں ہے اب کس کی تلاش میں ہیں خریدار ہر طرف قصر انا کے تخت کا سلطان میں ہی ہوں میں نے ہی خود اٹھائی ہے دیوار ہر طرف بچھ جاتی ہیں صفیں کی صفیں رن میں چار سو جب اک طرف سے کرتا ہوں میں وار ہر طرف خود چل کے کوئی جاتا نہیں اس کے نام پر بیٹھے سبھی ہیں جانے کو تیار ہر طرف

غزل · Ghazal

khaak ko jis dam jauhar kaa idraak huaa

خاک کو جس دم جوہر کا ادراک ہوا ذرہ زمیں سے اٹھا اور افلاک ہوا کھلتے کھلتے اس کو بھی کچھ وقت لگا ہوتے ہوتے میں بھی کچھ بے باک ہوا دھیرے دھیرے کرنوں کی یلغار ہوئی دھیرے دھیرے رات کا سینہ چاک ہوا دشت جنوں سے زنجیروں کا شور اٹھا ریت اڑاتا صحرا وحشت ناک ہوا سارے بکھیڑے ایک ذرا سی دیر کے تھے تار نفس جب ٹوٹا قصہ پاک ہوا رفتہ رفتہ شاخ بدن پر پھول کھلے رفتہ رفتہ خود میں وہ چالاک ہوا

غزل · Ghazal

nikal paDe hain jo teri khaatir unhin pe teraa 'itaab kyon hai

نکل پڑے ہیں جو تیری خاطر انہیں پہ تیرا عتاب کیوں ہے سروں پہ سورج دلوں میں الجھن نظر سراسر سراب کیوں ہے تمام سمتیں تمام رستے تمام نقش و نگار تیرے زمیں بھی تیری فلک بھی تیرا تو پھر مسافت عذاب کیوں ہے کوئی سکندر کوئی قلندر کبھی نہ پل بھر کو روک پایا سمند عمر رواں ہمیشہ سے بے زمام و رکاب کیوں ہے زمانے بھر کے دکھوں کو بانٹوں کہ اپنی بے چارگی کو روؤں مرے ہی دامن میں سب کا صحرا مجھی سے برہم سحاب کیوں ہے سیاہ بادل خنک ہوائیں گھنا اندھیرا طویل رستہ ابھی تو عزم سفر کیا ہے ابھی سے موسم خراب کیوں ہے

غزل · Ghazal

hunar se jaae kisi ke na fan se jaataa hai

ہنر سے جائے کسی کے نہ فن سے جاتا ہے لہو کا داغ کہیں پیرہن سے جاتا ہے بصد ادا نگہ سیم تن سے جاتا ہے جگر کے پار ہر اک تیر سن سے جاتا ہے نمود تیغ بدن معرکے کا جوہر ہے دکھا کے پیٹھ کہیں کوئی رن سے جاتا ہے رگوں میں سوز غم عشق سے لہو ہے رواں سو وحشی آگے نکل کر ہرن سے جاتا ہے مژہ پہ ہوتا ہے روشن چراغ تنہائی اسیر زلف اگر انجمن سے جاتا ہے نہ کوئی تیشہ نہ سنگ گراں نہ جوئے شیر جنون عشق دل کوہ کن سے جاتا ہے

غزل · Ghazal

laakh bujhaao bujhti nahin hai khirman-e-jaan se madfan tak

لاکھ بجھاؤ بجھتی نہیں ہے خرمن جاں سے مدفن تک آتش گل جب آ جاتی ہے بڑھتے بڑھتے دامن تک اک وقت ایسا آئے گا زنجیر سفر بھی ٹوٹے گی ساتھ مرے جب رک جائے گا عمر رواں کا توسن تک ذرہ ذرہ ارض و سما کا اپنی قیمت رکھتا ہے حسن نظر کا کھیل ہے سارا ویرانے سے گلشن تک کھلتے ہی مٹھی ہم سفروں پر سکتے جیسا عالم تھا دیکھ کے میرے رخت سفر کو نم دیدہ تھا رہزن تک اس دنیا نے ہم پر اس کے دروازے جب بند کئے ہم نے خود کو خاک کیا اور اڑ کر پہنچے روزن تک

Similar Poets