SHAWORDS
Ghulam Yahya Anjum

Ghulam Yahya Anjum

Ghulam Yahya Anjum

Ghulam Yahya Anjum

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

مسلسل اک جہان رنگ و بو ہے جدھر دیکھا ادھر بس تو ہی تو ہے کوئی مجھ کو بھی ناموس وفا دے مری دنیا بڑی بے آبرو ہے ابھی غم کا نہیں الفت میں عرفاں ابھی منزل کی مجھ کو جستجو ہے مجھے اک بار دیکھا تھا کسی نے ابھی تک ہر سو اس کی گفتگو ہے بہت ایسے ہیں جو فرعون فن ہیں مگر ان کی حقیقت ہا و ہو ہے

musalsal ik jahaan-e-rang-o-bu hai

غزل · Ghazal

کچھ ہم سے ظلمت شب ہجراں نہ پوچھئے زخمی دلوں سے درد کا عنواں نہ پوچھئے یہ ناز یہ غرور یہ شعلہ صفت مزاج کس خاک سے بنا ہے یہ انساں نہ پوچھئے ہے موسم خزاں کا تسلط ہر ایک سو کیسے منائیں جشن بہاراں نہ پوچھئے آئینہ لے کے دیکھیے خود اپنے سرخ لب ہوتا ہے کیسا لعل بدخشاں نہ پوچھئے کیا ہوں کہاں ہوں کچھ بھی نہیں ہے مجھے خبر بس عالم تصور جاناں نہ پوچھئے جو آشنائے راز گل و یاسمن نہ ہو اس بے خبر سے حال گلستاں نہ پوچھئے کعبہ گیا کلیسا گیا میکدہ گیا اس بے وفا کی دید کا ارماں نہ پوچھئے انجمؔ نشاط و عیش میں گزری مری حیات اب مجھ سے میرا حال پریشاں نہ پوچھئے

kuchh ham se zulmat-e-shab-e-hijraan na puchhiye

غزل · Ghazal

قسمت اسیر زلف گرہ گیر ہو گئی ظلمت میں گھر کے محور تنویر ہو گئی منظر تھا دل فریب لب جو کا شام کو پھر کیوں جناب آنے میں تاخیر ہو گئی مہکے گلاب چھائی گھٹا چھٹکی چاندنی کیسی جمال یار کی تفسیر ہو گئی اس کا عجب مزاج ہے چھوٹی سی بات پر ابرو بنے کمان نظر تیر ہو گئی انجمؔ خدا کے فضل سے مجھ کم سواد کی ارباب علم و فضل میں تشہیر ہو گئی

qismat asir-e-zulf-e-girah-gir ho gai

غزل · Ghazal

جنون عشق کو بھی ہم علاج غم سمجھتے ہیں جو دل پر زخم لگتا ہے اسے مرہم سمجھتے ہیں ہے جس کو اس زمانے میں بس اپنے کام سے مطلب اسے انسانیت کے واسطے ہم سم سمجھتے ہیں کہو یہ داستان رنج و غم تم غیر سے جا کر ہم ایسی بے تکی باتیں بہت ہی کم سمجھتے ہیں سکون اس کو میسر ہو گیا یہ مل گئی جس سے نگاہ یار کو ہم پھول پر شبنم سمجھتے ہیں بنا انسانیت کی ڈال دی جس ذات نے انجمؔ اسے اہل خرد سرمایۂ آدم سمجھتے ہیں

junun-e-ishq ko bhi ham ilaaj-e-gham samajhte hain

غزل · Ghazal

سامنے آ کے بھی چپکے سے نکل جاتے ہیں ہائے کیا لوگ ہیں کس طرح بدل جاتے ہیں کسمساتا ہوا بدلی میں قمر لگتا ہے ان کے گیسو جو کبھی رخ پہ مچل جاتے ہیں رنج و غم درد و مصیبت کے ہیں خوگر کتنے گرمیٔ حسن سے کچھ لوگ پگھل جاتے ہیں اس قدر نام میں ان کے ہے نشے کی لذت جام و پیمانہ و مے خانہ مچل جاتے ہیں غم نہ کر منزل مقصود ملے گی انجمؔ ٹھوکریں کھا کے بہت لوگ سنبھل جاتے ہیں

saamne aa ke bhi chupke se nikal jaate hain

غزل · Ghazal

جب کبھی حسن کا سامنا کیجئے عشق سے بھی ذرا مشورہ کیجئے مسئلہ کوئی پیدا نہ ہوگا کبھی اپنے ہی دائرے میں رہا کیجئے منزل عشق آسان تر ہے مگر دیکھیے سوچئے پھر چلا کیجئے ایک مرکز پہ آ کر تو رکنا ہی ہے دائروں کو ذرا کچھ بڑا کیجئے ہے محافظ خدا سب کے ہر کام کا سوچ کر کام کی ابتدا کیجئے حسن پر ناز نخرہ مناسب نہیں آئنہ دیکھ کر جب ہٹا کیجئے

jab kabhi husn kaa saamnaa kijiye

Similar Poets