
Gopal Krishn Shafaq
Gopal Krishn Shafaq
Gopal Krishn Shafaq
Ghazalغزل
ہر گھڑی بیمار ہو کر رہ گئی زندگی بے کار ہو کر رہ گئی وہ محبت جو خوشی کی روح تھی چشمۂ آزار ہو کر رہ گئی زندگی کے اس سفر میں ہر روش اک رہ دشوار ہو کر رہ گئی شمع بن کر جل گئی میری حیات شعلۂ گلنار ہو کر رہ گئی لکھ رہے یہ عشق کی ہم داستاں درد کا شہکار ہو کر رہ گئی کر سکوں پرواز یہ ہمت کہاں آرزو لاچار ہو کر رہ گئی مفلسی کی جھوپڑی کی کیا کہیں بے در و دیوار ہو کر رہ گئی شام غم کی بات اب کیوں ہو شفقؔ ہر نفس تلوار ہو کر رہ گئی
har ghaDi bimaar ho kar rah gai
کیا بتاؤں آج وہ مجھ سے جدا کیوں کر ہوا مدتوں کا آشنا نا آشنا کیوں کر ہوا تیرے ہر نقش قدم پر جس نے سجدہ کر دیا تیری نظروں میں بھلا وہ بے وفا کیوں کر ہوا میری بربادی میں جس کا ہاتھ تھا وہ فتنہ گر پوچھتا ہے اب مجھے یہ حادثہ کیوں کر ہوا جس کے ہاتھوں نے جلایا گلستاں کا گلستاں اس کا گھر بھی جل گیا تو پھر برا کیوں کر ہوا آدمی تو آدمی کا تھا شریک رنج و غم منقطع پھر آج کل یہ سلسلا کیوں کر ہوا جس کی رحمت چند لوگوں کے لیے مخصوص ہو ہوگا کچھ لوگوں کا وہ سب کا خدا کیوں کر ہوا جب تری نظریں لگی ہیں کوثر و تسنیم پر پھر بتا شیخ حرم تو پارسا کیوں کر ہوا دار پر لٹکا دیے جاتے ہیں حق گو اے شفقؔ حق کو حق کہنے کا تجھ کو حوصلا کیوں کر ہوا
kyaa bataaun aaj vo mujh se judaa kyunkar huaa
آتے ہی جوانی کے لی حسن نے انگڑائی اس سمت گری بجلی اس سمت قضا آئی جس سمت سے گزرا ہوں آواز یہی آئی دیوانہ ہے دیوانہ سودائی ہے سودائی بھولے ہی سے آ جاؤ مہکی ہوئی راتیں ہیں برسات کا موسم ہے ڈستی ہوئی تنہائی سچائی کے دیوانے چڑھتے ہیں صلیبوں پر صدیوں سے زمانے میں یہ رسم چلی آئی آلام و مصائب کا چڑھتا ہوا دریا ہے اے جوش توانائی اے جوش توانائی اب کون سنے باتیں بہکے ہوئے واعظ کی چلتے ہیں شفقؔ ہم تو وہ کالی گھٹا آئی
aate hi javaani ke li husn ne angDaai
محبت کا جسے سودا ہوا ہے نہ جانے کیا سے کیا وہ ہو گیا ہے ترا دیوانہ منزل پا گیا ہے جنون عاشقی کام آ گیا ہے کہیں بھی دل نہیں لگتا ہمارا نہ جانے ہم کو یہ کیا ہو گیا ہے زمانے بھر کی خوشیوں کا ہے حامل وہ غم جو تیری الفت نے دیا ہے مٹا کر اپنی خوشیوں کی بہاریں ترے دامن کو خوشیوں سے بھرا ہے شفقؔ کچھ تو بتا دے کون ہے وہ ترے شعروں میں جو سمٹا ہوا ہے
mohabbat kaa jise saudaa huaa hai
بات اپنوں کی کروں میں کسی بیگانے سے کیوں بہک جاتے ہو تم غیر کے بہکانے سے راز کی بات ہے پوچھو کسی دیوانے سے عقدۂ عشق کھلا کب کسی فرزانے سے کیا کہے ان سے کوئی دل کی تمنا کیا ہے جان کر بھی جو بنے رہتے ہیں انجانے سے آن کی آن میں جل بجھ کے ہوا خاکستر کیا کہیں کہہ دیا کیا شمع نے پروانے سے اے شفقؔ عقدۂ ہستی کا سلجھنا معلوم جو الجھ جاتا ہے کچھ اور بھی سلجھانے سے
baat apnon ki karun main kisi begaane se
رہ گئی لٹ کر بہار زندگی زندگی ہے سوگوار زندگی میری نظروں میں حسیں دھوکا ہے اک جس کو کہتے ہیں بہار زندگی کلفتیں کچھ تلخیاں کچھ حادثے اب یہی ہے یادگار زندگی مٹ رہا ہو جو کسی کے عشق میں پھر کہاں اس کو قرار زندگی تری الفت تیرا غم تیرا خیال کچھ یہی ہے کاروبار زندگی اپنا دل ہی جب پرایا ہو گیا کون ہو اب راز دار زندگی تیرے دم سے تھی بہاروں میں بہار اب کہاں ہے وہ بہار زندگی سوکھے پتوں سے یہ کہتی ہے خزاں یوں اترتا ہے خمار زندگی اپنے دامن سے ہوا دیتے رہو بجھ نہ جائے یہ شرار زندگی اے شفقؔ کس نے بگاڑا ہے اسے کون ہے پروردگار زندگی
rah gai luT kar bahaar-e-zindagi





