
Guhar Khairabadi
Guhar Khairabadi
Guhar Khairabadi
Ghazalغزل
dil ke daaman mein jo sarmaaya-e-afkaar na thaa
دل کے دامن میں جو سرمایۂ افکار نہ تھا زندگی تھی مگر اس کا کوئی معیار نہ تھا جانے کیوں بات مری ان کو گراں بار ہوئی لفظ ایسا تو کوئی شامل گفتار نہ تھا کون سنتا مری کس کو میں صدائیں دیتا ایسی غفلت تھی کہ احساس بھی بیدار نہ تھا ہر طرف دھوپ تھی پھیلی ہوئی عریانی کی سر چھپانے کو کہیں سایۂ کردار نہ تھا آسماں چیر کے رکھ دیتی صدارت میری وہ تو کہیے کوئی دشمن پس دیوار نہ تھا زہر کا گھونٹ بالآخر اسے پینا ہی پڑا بات یہ تھی وہ زمانے کا طرفدار نہ تھا اس کی بیگانہ روی سے اسے سمجھا میں نے تشنۂ خون وفا تھا کرم آثار نہ تھا جس کو دیکھا وہ حقائق پہ تھا پردہ ڈالے آئینہ دار حقیقت کوئی کردار نہ تھا اعتبار دل پر شوق بھی پیدا کرتے کام آنے کا فقط جذبۂ ایثار نہ تھا کام آنکھوں سے نہ لیتے تو بھلا کیا کرتے درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا سرفرازی مری قسمت میں نہ تھی ورنہ گہرؔ نوک نیزہ پہ پہنچنا کوئی دشوار نہ تھا
jis taraf bhi dekhiye saaya nahin
جس طرف بھی دیکھیے سایہ نہیں پھر بھی گلشن ہے کوئی صحرا نہیں لوگ بیٹھے ہیں اسی کی چھاؤں میں سائے سے جس پیڑ کا رشتہ نہیں کام اگر آئے نگاہ حق شناس پھر کسی پہلو کوئی دھوکا نہیں حق پسند میرا دستور عمل یعنی بک جانا مرا شیوہ نہیں دوستو رکھو حقیقت پر نظر خواب آنکھوں میں کبھی پلتا نہیں اس کی دنیا میں نہیں قیمت کوئی جو کسوٹی پر کھرا اترا نہیں وسعتیں دل کی ہیں دریا کی طرح کون کہتا ہے کہ دل دریا نہیں درد و غم وہ کس کے سمجھے اے گہرؔ اپنے گھر سے جو کبھی نکلا نہیں
main gharq vahaan pyaas ke paikar ki tarah thaa
میں غرق وہاں پیاس کے پیکر کی طرح تھا ہر قطرہ جہاں ایک سمندر کی طرح تھا گھر سارے شکستہ تھے گذر گاہیں اندھیری کچھ شہر مرا میرے مقدر کی طرح تھا آج اس کا جہاں میں کوئی پرساں ہی نہیں ہے کل تک جو زمانے میں سکندر کی طرح تھا تھا اس کے مقدر میں لکھا ڈوبنا ڈوبا حالانکہ وہ دریا میں شناور کی طرح تھا کیا میری حقیقت تھی گلستاں میں نہ پوچھو میں تھا مگر اک طائر بے پر کی طرح تھا جب شہر میں پتھر ہی کی تھی عمر گنوائی دنیا میں تجھے جینا بھی آذر کی طرح تھا دل کے بھی زمانے میں بدلتے رہے انداز دریا کی طرح تھا کبھی پتھر کی طرح تھا دنیائے ادب میں سبھی کہتے ہیں جسے میرؔ اک لفظ و معانی کے سمندر کی طرح تھا راس آئی گہرؔ خوب مجھے دشت نوردی ہر آبلۂ پا مرا گوہر کی طرح تھا
charaagh se kabhi taaron se raushni maange
چراغ سے کبھی تاروں سے روشنی مانگے اندھیری رات بھی کس کس سے زندگی مانگے جلانے والے جلاتے ہیں نفرتوں کے چراغ فضائے وقت محبت کی روشنی مانگے وہ نا شناس حقیقت ہے اس زمانہ میں وفا کو بھیک سمجھ کر گلی گلی مانگے نشاط و رنج مقدر کی بات ہوتی ہے کسی سے غم نہ کسی سے کوئی خوشی مانگے ہر ایک شخص میں انداز کج ادائی ہے مگر یہ دل ہے کہ رہ رہ کے دوستی مانگے جہاں سروں کی حقیقت نہ ہو وہاں پہ گہرؔ جو کوئی مانگے تو کیا تاج خسروی مانگے
toD kar shisha-e-dil ko mire barbaad na kar
توڑ کر شیشۂ دل کو مرے برباد نہ کر اس طرح مجھ پہ ستم اے ستم ایجاد نہ کر یہ نگہ لطف کی ہے اس سے نہ کر قتل مجھے چشم جاں بخش کو یوں خنجر جلاد نہ کر روئے روشن کی کبھی دید مجھے بھی دیدے رہ کے پوشیدہ مجھے مضطر و ناشاد نہ کر تیرے ہی دل کا اگر گوشہ قفس ہے صیاد پھر تو ہرگز مجھے اس قید سے آزاد نہ کر جب یہاں سنتا نہیں تیری فغاں کوئی گہرؔ مصلحت جان خموشی ہی میں فریاد نہ کر
taarikiyon mein apni ziyaa chhoD jaaungaa
تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا گزروں گا میں تو نقش وفا چھوڑ جاؤں گا دنیا کے لوگ سنتے رہیں گے تمام عمر لفظوں میں اپنے دل کی صدا چھوڑ جاؤں گا اپنے لہو سے پھول کھلا کر حیات کے ہر سمت خوشبوؤں کی فضا چھوڑ جاؤں گا رکھیں گی یاد حسن کی رعنائیاں مجھے وہ گلستاں میں رنگ نیا چھوڑ جاؤں گا ہر اک قدم بنے گی جو تہذیب کی مثال وہ زندگی کی طرز ادا چھوڑ جاؤں گا سینچے گا پھر چمن میں اسے میرے بعد کون جس پیڑ کو یہاں میں ہرا چھوڑ جاؤں گا یہ سوچتا ہوں جب کبھی ہوگا مرا سفر کیا کیا میں لے کے جاؤں گا کیا چھوڑ جاؤں گا ترکے میں کچھ بھی چھوڑوں نہ چھوڑوں یہاں مگر بچوں کے حق میں اپنی دعا چھوڑ جاؤں گا پہنچے گا فیض جس سے زمانے کو اے گہرؔ علم و ہنر کی میں وہ گھٹا چھوڑ جاؤں گا





