SHAWORDS
H

Haamid Bhusawali

Haamid Bhusawali

Haamid Bhusawali

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

us be-khabar ko fikr kahaan ab idhar ki hai

اس بے خبر کو فکر کہاں اب ادھر کی ہے اک ہم کہ ہم کو فکر اسی بے خبر کی ہے مشکل بہت ہے اب کہ طبیعت بحال ہو یہ جو نظر لگی ہے کسی بد نظر کی ہے جس رہ گزر پہ مشکلیں لیتی ہیں امتحاں ہم کو تلاش اب بھی اسی رہ گزر کی ہے اتنا برا نہ مان فرشتہ نہیں ہوں میں احسان بھول جانے کی فطرت بشر کی ہے اب کس کو جا کے درد کا دکھڑا سناؤں میں یہ سب عطا تو خود ہی مرے چارہ گر کی ہے میں کیا ہوں کیا بساط مری کچھ نہیں ہوں میں ذرہ نوازی آپ کے حسن نظر کی ہے حامدؔ غلط ہے یہ کہ مناسب نہیں ہے دام دستار کی نہیں ہے یہ قیمت تو سر کی ہے

غزل · Ghazal

'aasi se khush nahin hai vali se bhi khush nahin

عاصی سے خوش نہیں ہے ولی سے بھی خوش نہیں یہ کون شخص ہے جو کسی سے بھی خوش نہیں خوش تھا ترے بغیر تو جلتا تھا جی ترا آنکھوں میں ہے نمی تو نمی سے بھی خوش نہیں کل میری کم نگاہی پہ ماتم زدہ تھا تو اب یہ ستم کہ دیدہ وری سے بھی خوش نہیں کیا مسئلہ ہے تجھ کو بتا کچھ تو میرے یار غم سے بھی خوش نہیں تو خوشی سے بھی خوش نہیں ہم تو سمجھ رہے تھے اجالے سے بیر ہے یہ حکمراں تو تیرہ شبی سے بھی خوش نہیں حامدؔ کا کیا ہے حال مجھے کچھ خبر بھی ہے تیرے بغیر اب وہ پری سے بھی خوش نہیں

غزل · Ghazal

ham dil-jalon ke saamne baatein visaal ki

ہم دل جلوں کے سامنے باتیں وصال کی ظالم تری سزائیں ہیں کتنے کمال کی اس حسن پہ تمہارے کئی تبصرے ہوئے تعریف ہو رہی ہے ہمارے خیال کی تم نے ذرا سی بات پہ ٹھکرا دیا مجھے اب کھوج کر رہے ہو کسی خوش خصال کی یہ بھی ذرا بتاؤ تکبر کی زد میں تھے گر تم سنا رہے ہو کہانی زوال کی سو بار اس کا شکر کریں کیوں نہ ہم ادا ہم کو کھلا رہا ہے جو روزی حلال کی ہم کو بھی اپنی ایک جھلک ہی دکھاؤ نا باتیں بہت سنی ہیں تمہارے جمال کی امید ہے اٹھاؤ گے تم بھی دعا کو ہاتھ جس دن خبر سنو گے مرے انتقال کی

غزل · Ghazal

hazaar baar dikhaai gai pari-surat

ہزار بار دکھائی گئی پری صورت نگاہ کو نہ تشفی ہوئی کسی صورت میں اپنے آپ سے اکتا کے تیرے پاس آیا تری نظر میں ملی پھر مجھے مری صورت اسی امید پہ سانسوں سے جنگ جاری ہے کبھی تو روبرو ہوگی مرے تری صورت حصار ذات سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر بھلی کے بھیس میں پنہاں تھی کیا بری صورت خطا معاف کہ ہے معترف ترا حامدؔ ترے علاوہ بچی ہی نہیں کوئی صورت

غزل · Ghazal

chaal us ne kyon chali hai dekhnaa ye bhi to hai

چال اس نے کیوں چلی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے آگ دل میں کیا لگی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے صرف لہجہ خوبصورت ہے تو اس سے کیا غرض بات کیسی ہو رہی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے دل کا وہ اچھا ہے لیکن ہم سے اس کی دشمنی عارضی ہے دائمی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے کامیابی پر مری مسرور ہونا آپ کا ظاہری ہے باطنی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے آپ کا نظریں ملانا مسکرا کر دیکھنا پیار ہے یا دل لگی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے یہ جو آنکھوں کو نظر آتی ہے حامدؔ روشنی کیا یہ سچ مچ روشنی ہے دیکھنا یہ بھی تو ہے

غزل · Ghazal

log ham se khushi se milte hain

لوگ ہم سے خوشی سے ملتے ہیں آپ کیوں بے دلی سے ملتے ہیں مرتبے میں کمی تو آئے گی آپ کیوں ہر کسی سے ملتے ہیں تم سے مل کے گمان ہوتا ہے جیسے ہم اجنبی سے ملتے ہیں ذلتیں جھڑکیاں پریشانی سارے غم مے کشی سے ملتے ہیں آپ پر اعتبار ہے ورنہ ہم کہاں ہر کسی سے ملتے ہیں روشنی روح میں اترتی ہے جب خدا کے ولی سے ملتے ہیں

Similar Poets