SHAWORDS
Habeeb Saifi

Habeeb Saifi

Habeeb Saifi

Habeeb Saifi

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا ترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھا بتاؤں کیا گزرتی ہے مرے بچوں کے ذہنوں پر ہوئی مدت تلاش رزق میں گھر ہی نہیں دیکھا میں آئینہ سدا رکھتا ہوں مستقبل کے منظر کا کبھی ماضی کی جانب میں نے مڑ کر ہی نہیں دیکھا نہ ساحل پر نہ کشتی پر کوئی تہمت رکھی میں نے تھا ڈر دل میں تلاطم کا سمندر ہی نہیں دیکھا کمی شاید ہے قسمت کی کہ آنکھوں نے مری اب تک جسے الماس کہتے ہیں وہ پتھر ہی نہیں دیکھا

kabhi Dhalte hue suraj kaa manzar hi nahin dekhaa

1 views

غزل · Ghazal

یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہ کرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہ گناہوں کی وبا سے بھی نہیں شرمندہ یہ عالم اتارے گا عذاب اپنے خدا آہستہ آہستہ سبھی زخموں کو اس نے پھر ہمارے کر دیا تازہ چلی ہے آج یوں باد صبا آہستہ آہستہ میں کیسے سکتے میں آخر کھڑا ہوں بیچ رستے میں کوئی دیتا ہے پھر مجھ کو صدا آہستہ آہستہ نہ چھوڑو ہاتھ سے کچھ دن ابھی اور صبر کا دامن پہنچتی ہے فلک پر بھی دعا آہستہ آہستہ یہاں میزائلوں کی بارشیں ہونے لگیں سیفیؔ یہ دنیا ہو ہی جائے گی فنا آہستہ آہستہ

yaqinan rang laaegi duaa aahista aahista

غزل · Ghazal

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگا ہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگا مری ہر شب گزر جاتی ہے اکثر اس تمنا میں کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہوگا بزرگوں کا بھی سایہ اب تو سر سے چھن گیا اپنے کہ یہ بھی حادثہ لکھا مری تقدیر کا ہوگا سبھی اوراق کہنے کو تو ہم نے کر لئے ہیں پر تم آؤ تو اضافہ اک نئی تحریر کا ہوگا دلاسہ دونوں جانب سے نئی نسلوں کو ملتا ہے نہ جانے مسئلہ کب حل مگر کشمیر کا ہوگا وہ جن باتوں سے اب تک منحرف ہوتے رہے سیفیؔ وہی عنواں ہماری آج پھر تقریر کا ہوگا

kahaan ehsaan meri zaat par taqdir kaa hogaa

غزل · Ghazal

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے کہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتے تلاش رزق میں کچھ اس قدر مصروف رہتا ہوں مری بچی یہ کہتی ہے کہ گھر جلدی نہیں آتے نہ غم کا غم ہے مجھ کو اب نہ خوشیوں کی خوشی مجھ کو اب آنکھوں میں بھی اشکوں کے گہر جلدی نہیں آتے ہمیشہ دھند سی کیوں چھائی رہتی ہے فضاؤں میں فلک پر اب ستارے بھی نظر جلدی نہیں آتے ہمارے رہنما اکثر کریں دعویٰ خدائی کا سیاست کے شجر پر اب ثمر جلدی نہیں آتے بہ مشکل سانس لیتے ہیں مکاں اونچے بنے اتنے کہ جھونکے بھی ہواؤں کے ادھر جلدی نہیں آتے

farishton jaise duniyaa mein bashar jaldi nahin aate

غزل · Ghazal

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں ملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیں ہے چہرے پہ میرے ہر اک حرف کندہ مرے آنسوؤں کی بھی تحریر دیکھیں ہوئے رائیگاں اپنے اعمال سارے نہ لائی اثر کوئی تدبیر دیکھیں اسی کشمکش میں شب و روز گزرے کوئی خواب دیکھیں کہ تعبیر دیکھیں سنا ہے وہاں امن کے گل کھلے ہیں چلو چل کے وادئ کشمیر دیکھیں مری ماں کا کہنا ہوا سچ اے سیفیؔ دعاؤں سے بدلی ہے تقدیر دیکھیں

lagaa hai jo dil par mire tiir dekhein

غزل · Ghazal

برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلے رہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلے ہمیں تو مطلب ہے روٹیوں سے جو بال بچوں کا پیٹ بھر دے غرض نہیں ہے کوئی بھی ہم کو یہ تخت بدلے کہ تاج بدلے ابھی بھی ذہنوں میں سادگی ہے کہ گاؤں چھوڑے زمانہ بیتا کہ شہر میں بس گئے ہیں لیکن کہاں ہمارے مزاج بدلے جو وقت کے ساتھ چلتے رہتے یہ بات پیدا نہ ہوتی ہرگز ہو مستحق تم سزا کے یوں بھی نہ تم نے اپنے رواج بدلے برے بھلے کا تو خود ہے مالک جو دل میں آئے وہ کر لے سیفیؔ تجھے بدلنا ہے تو بدل جا نہیں یہ ممکن سماج بدلے

biraadaron kaa mizaaj badle yaa ghar kaa saaraa rivaaj badle

Similar Poets