
Hafeez Betab
Hafeez Betab
Hafeez Betab
Ghazalغزل
lau dene lagaa hai tiri yaadon kaa diyaa phir
لو دینے لگا ہے تری یادوں کا دیا پھر بہکے نہ کہیں دیکھنا جنگل کی ہوا پھر تجدید محبت کا خیال آیا ہے اس کو پائے نہ کہیں جرم وفا کی وہ سزا پھر شاید کہ لی انگڑائی کسی چاند بدن نے ہیجان سا خاموش سمندر میں اٹھا پھر عفریت شب تار نے لب کھولے ہیں کیا کیا خاموشیٔ صحرا سے اٹھے کوئی صدا پھر پھر خواب سجانے لگے پلکوں پہ دوانے بھونروں کو رجھانے لگی پھولوں کی ادا پھر تم تھے کہ مرے پاؤں میں زنجیر تھی بیتابؔ بے نام تعلق ہی سہی کیوں نہ رہا پھر
khayaal-o-khvaab ki zulfein sanvaar thoDi der
خیال و خواب کی زلفیں سنوار تھوڑی دیر ابھی ہے اور شب انتظار تھوڑی دیر محبتوں کے یہ پیکر یہ دوستی کے امین وفا کے ہوتے ہیں سب پاسدار تھوڑی دیر ابھی نہ روکئے ان آنسوؤں کو پلکوں پر نکلنے دیجئے دل کا غبار تھوڑی دیر تمام عمر رہا اس کا انتظار مجھے جو کہہ گیا تھا کرو انتظار تھوڑی دیر بنا رہوں میں تماشائے آرزو کب تک عذاب مجھ پہ خدایا اتار تھوڑی دیر ضرور پگھلیں گی یخ بستہ وادیاں بیتابؔ رکے تو دھوپ سر کوہسار تھوڑی دیر
lafz-o-maani ki ye sab jhuTi numaaish chhoD de
لفظ و معنی کی یہ سب جھوٹی نمائش چھوڑ دے یوں ہمہ دانی کی ناداں اپنی خواہش چھوڑ دے زد پہ آ جائے گا تیرا آئنہ بھی یاد رکھ آئنوں پہ سنگ برسانے کی کوشش چھوڑ دے آگ جب بھڑکے گی کوئی گھر نہ بچ پائے گا پھر دوسروں کا گھر جلانے کی یہ سازش چھوڑ دے بن نہ جائے وجہ رسوائی یہ تیری ایک دن اپنے منہ سے اپنی ہی کرنا ستائش چھوڑ دے کوئی دیوار انا قائم رہے کیوں درمیاں جو دلوں کو دور کر دے ایسی رنجش چھوڑ دے جو سرایت کر گیا بیتابؔ رگ رگ میں تری اس کی یادوں کو بھلانے کی یہ کاوش چھوڑ دے
miri vafaa kaa na sochaa thaa ye sila degaa
مری وفا کا نہ سوچا تھا یہ صلہ دے گا سمجھ کے حرف غلط وہ مجھے مٹا دے گا بھلا وہ دے گا بھی مجھ کو تو اور کیا دے گا غموں کی دھوپ میں جینے کی بس سزا دے گا عجیب ضد ہے کہ الٹا ہی سوچتا ہے وہ میں سچ کہوں گا اسے جھوٹ وہ بنا دے گا ستم کا اس کے کچھ انداز ہی نرالا ہے جو موت چاہوں گا جینے کی وہ دعا دے گا یہ سوچتا ہوں اسے آئنہ دکھا ہی دوں بہت کرے گا بھری بزم سے اٹھا دے گا میں چھوڑ دوں اسے بیتابؔ کس طرح آخر قدم قدم پہ مرا گھر مجھے صدا دے گا
aankhein munde sab kuchh bhule kab se yunhi baiThe hain
آنکھیں موندے سب کچھ بھولے کب سے یوں ہی بیٹھے ہیں پلکوں پہ کچھ خواب سجائے جاگے جاگے سوئے ہیں کس سے کیا رشتہ تھا میرا اب تو یہ بھی یاد نہیں ریزہ ریزہ آئینہ ہے بکھرے بکھرے چہرے ہیں اپنے گھر کی ویرانی کا ہم کس سے کیا حال کہیں سونا سونا دروازہ ہے خالی خالی کمرے ہیں تنہائی کے اندھیارے میں یادوں کی موہوم کرن جیسے رات کی پیشانی پر جھلمل جھلمل تارے ہیں تم سے کیا بتلائیں دل کا عالم کیا ہو جاتا ہے بیتے موسم کی یادوں کے آنچل جب لہراتے ہیں اب کے برس بھی ساون آ کر یوں ہی بیت گیا آخر جلتے ہیں ہم اندر اندر آس کے پنچھی پیاسے ہیں وقت کی بھٹی میں تپ تپ کر ہم نے یہ جانا بیتابؔ سچا ہے اک درد کا رشتہ باقی رشتے جھوٹے ہیں
apni palkon pe kuchh nami le kar
اپنی پلکوں پہ کچھ نمی لے کر اب وہ آئے ہیں زندگی لے کر راس کچھ آ گیا ہے غم اتنا کیا کروں گا میں سر خوشی لے کر دل کے دروازے بند ہیں سب کے ہم کہاں جائیں دوستی لے کر دن تو گزرا کسی طرح بیتابؔ رات آئی ہے بیکلی لے کر





