Hafeez Momin
Hafeez Momin
Hafeez Momin
Ghazalغزل
un ke honTon kaa vo andaaz kahin uf jaise
ان کے ہونٹوں کا وہ انداز کہیں اف جیسے اور تصویر مصور کا تصوف جیسے اتنے ٹھہراؤ سے وہ بات کیا کرتے ہیں ایک سے دوسرے سجدے میں توقف جیسے اس طرح خود کو زمانے سے بچا رکھا ہے ان کو منظور نہیں خود میں تصرف جیسے یوں ہوا آ کے مرے در سے پلٹ جاتی ہے کچھ بتانے میں ہو ظالم کو تکلف جیسے ہر طرف شور ہے خاموش کھڑا ہے کوئی ہو رہا ہو اسے ہونے کا تأسف جیسے اس طرح وقت نے بدنام کیا ہے مومنؔ کوئی محفل میں کراتا ہو تعارف جیسے
shokhi adaa ghurur sharaarat kharidiye
شوخی ادا غرور شرارت خریدئیے چاندی اچھالیے تو قیامت خریدئیے اسلاف کے نقوش کتابوں میں بند ہیں بازار سے کسی کی شباہت خریدئیے اٹکی ہوئی ہے روح پرانی تراش میں کس دل سے عصر حال کی جدت خریدئیے اہل جہاں کا اور بدلنے لگا مذاق فکر و نظر بھی حسب ضرورت خریدئیے ظاہر بہت حسین ہے باطن گھناؤنا پچھتائیے گا آپ مجھے مت خریدئیے قرآن کھولنے کی ضرورت نہیں رہی بکتی ہے صبح و شام تلاوت خریدئیے پک جائے گا تو آپ ٹپک جائے گا جناب آنگن میں شاخ آئی ہے پھل مت خریدئیے
takallufaat ke sahraa mein kho gayaa koi
تکلفات کے صحرا میں کھو گیا کوئی قریب آ کے بہت دور ہو گیا کوئی سوائے اپنے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا ہماری آنکھ میں سورج سمو گیا کوئی لگائیں باغ پھلوں کے ہوئی نہ یہ توفیق اسے بھی چاٹ گئے ہم جو بو گیا کوئی زمین اوڑھ کے سونا سبھی کو ہے لیکن حفیظؔ وقت سے پہلے ہی سو گیا کوئی
kuchh karne ki mohlat kam hai
کچھ کرنے کی مہلت کم ہے اب عمروں میں برکت کم ہے اکثر باہر ہی رہتا ہوں کیا میرا گھر جنت کم ہے چڑ جاتا ہوں لڑ جاتا ہوں سچ سہنے کی عادت کم ہے ان سے آگے کیسے جاؤں جن سے میری قسمت کم ہے رائی رائی دینے والے مجھ کو پربت پربت کم ہے سادہ سادہ باتیں کیجے اب ذہنوں کو فرصت کم ہے مومنؔ کے اشعار سناؤ افسانوں میں لذت کم ہے
jise hai zoam ki us ne havaa ke par baandhe
جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے اگر ہے دم تو ہماری دعا کے پر باندھے اٹھائے ہاتھ عذاب و بلا کے پر باندھے یہ کس دعا نے کسی بد دعا کے پر باندھے ہوئی نہ آج بھی توبہ کے ٹوٹنے کی سبیل خدا نے آج بھی کالی گھٹا کے پر باندھے کوئی تو ہو جو اسے روک لے تباہی سے کوئی تو ہو جو دل مبتلا کے پر باندھے ہماری سوچ کی پرواز روکنا تھا محال ہمیں نے جان کی بازی لگا کے پر باندھے کئی دنوں سے کسی کا سلام ہے نہ پیام مرے عدو کی بازی لگا کے پر باندھے شفا کی آس لگائے مریض بیٹھا ہے دعا کو ہاتھ اٹھائے دوا کے پر باندھے حفیظؔ موت سے لقمان بچ سکے کب تک بڑے حکیم تھے کب تک قضا کے پر باندھے
kaisaa chakkar kaaT ke aanaa paDtaa hai
کیسا چکر کاٹ کے آنا پڑتا ہے تیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہے پھر اشکوں کی قسمت جاگے یا سوئے پہلے تو آنکھوں میں آنا پڑتا ہے میری مانو مت اس درجہ خواب بنو خوابوں کا محصول چکانا پڑتا ہے خاموشی تو مر جانے کا حاصل ہے زندہ رہنے شور مچانا پڑتا ہے تم بیراگی تم کیا جانو مومنؔ جی الفت میں کیا کر جانا پڑتا ہے





