SHAWORDS
Hafeez Shahid

Hafeez Shahid

Hafeez Shahid

Hafeez Shahid

poet
35Ghazal

Ghazalغزل

See all 35
غزل · Ghazal

دل کا ہر ایک داغ چراغاں سے کم نہیں میری خزاں بھی فصل بہاراں سے کم نہیں اس میں ہے خون دل کا سمندر چھپا ہوا آنکھوں میں ایک اشک بھی طوفاں سے کم نہیں یادوں میں ہیں گلاب سے چہرے سجے ہوئے شہر خیال کوچۂ جاناں سے کم نہیں ہے خاک پر نشست فلک پر اڑان ہے میری زمیں بھی تخت سلیماں سے کم نہیں جینے کا حوصلہ بھی میسر نہ ہو جسے اس کی سحر بھی شام غریباں سے کم نہیں نکلے کسی کی یاد میں آنسو جو آنکھ سے میرے لیے وہ لعل بدخشاں سے کم نہیں آنکھوں کے سامنے ہیں مناظر عجیب سے یہ جاگنا بھی خواب پریشاں سے کم نہیں شاہدؔ فراق یاد میں یہ دل کا حال ہے ویرانیوں میں دشت و بیاباں سے کم نہیں

dil kaa har ek daagh charaaghaan se kam nahin

غزل · Ghazal

کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائے وہ میری عمر مرے ماہ و سال دے جائے اسے کہو کہ کسی روز آ کے پھر مجھ کو حسین خواب اچھوتے خیال دے جائے پلٹ کے آئے کبھی اس کی یاد کا موسم گل مراد کو رنگ جمال دے جائے خدا کرے کہ اچانک وہ سامنے آ کر مرے لبوں کو نئے کچھ سوال دے جائے تمام عمر کی خوشیاں سمیٹ کر میری تمام عمر کے اپنے ملال دے جائے کوئی تو ہو جو مرے چارہ گر سے جا کے کہے دوا کبھی تو مرے حسب حال دے جائے اگر نہیں ہے مداوا زوال کا شاہدؔ وہ حوصلہ تو بوقت زوال دے جائے

koi nishaani-e-ahd-e-visaal de jaae

غزل · Ghazal

وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھ بدلتے موسموں کا ہے اثر کچھ کہیں سائے میں رک کر کیا کریں گے چلو اب تیز باقی ہے سفر کچھ ہوائے تند کا یہ کام دیکھو نہ چھوڑا شاخ پر باقی ثمر کچھ بھٹکتے پھر رہے ہیں راستوں میں بصارت سے تہی اہل نظر کچھ اگرچہ شہر تو اپنا ہے لیکن پرائے سے ہیں کیوں دیوار و در کچھ ابھی دل میں اڑانوں کی ہے خواہش سلامت ہیں ہمارے بال و پر کچھ ابھی شاہدؔ لٹاؤ غم کی دولت ابھی ہیں آنکھ میں لعل و گہر کچھ

vo ham se ho gayaa hai be-khabar kuchh

غزل · Ghazal

تسلیم مجھ کو میں ترے پاسنگ تو نہیں لیکن تجھے نصیب مرا رنگ تو نہیں میں کس لیے فصیل بدن میں چھپا رہوں میری کسی کے ساتھ کوئی جنگ تو نہیں گھبرا رہے ہو کیوں مری بستی کا فاصلہ ہے چند گام سینکڑوں فرسنگ تو نہیں بھرتے ہو کس لیے مری تصویر میں یہ رنگ موج شفق کا رنگ مرا رنگ تو نہیں بے احتیاطیوں سے تری ٹوٹ جائے گا دل ایک آئنہ ہے کوئی سنگ تو نہیں پھر کیوں کروں خیال کسی اور دیس کا میرے لیے زمین وطن تنگ تو نہیں دن رات اپنے آپ سے رہنا خفا خفا شاہدؔ گزر بسر کا کوئی ڈھنگ تو نہیں

taslim mujh ko main tire paasang to nahin

غزل · Ghazal

چھپی دل میں جو یاد یار ہوگی مسافت اور بھی دشوار ہوگی خبر کیا تھی کہ حائل راستے میں پس دیوار بھی دیوار ہوگی گلہ انکار کا اس سے کروں کیا کوئی تو صورت انکار ہوگی اسے جب ماننا کچھ بھی نہیں ہے دلالت بھی مری بیکار ہوگی مجھے معلوم ہی کب تھا یہ پہلے خرد خود ہی جنوں آثار ہوگی سر محفل مری آتش بیانی کسی کا شعلۂ رخسار ہوگی وہ گل مہکے گا جب دل کے چمن میں مری ہر سانس خوشبو دار ہوگی غرور سر بلندی کیا کہ اک دن نہ سر ہوگا نہ یہ دستار ہوگی مری خاک بدن اک روز شاہدؔ برائے کوچۂ دل دار ہوگی

chhupi dil mein jo yaad-e-yaar hogi

غزل · Ghazal

کب کا گزر چکا ہے وہ موسم شباب کا اب ذکر ہے فضول وفا کی کتاب کا فرصت ملے تو دیکھ ذرا دل کا آئنہ اس میں ہے عکس تیرے گناہ و ثواب کا چپ چاپ حال اہل نظر دیکھتے رہو ہے کس کے پاس وقت سوال و جواب کا ہر شخص گھر گیا ہے نئے اضطراب میں توڑا ہے جس نے قفل در اضطراب کا رکھتا ہے تیرے روئے حسیں سے مشابہت ہر شاخ پر سجا ہے جو چہرہ گلاب کا کافی ہے اس کی ذات کے عرفان کے لیے موج ہوا کے دوش پہ اڑنا سحاب کا شاہدؔ جنہیں خبر ہے رموز حیات کی رکھتے نہیں حساب غم بے حساب کا

kab kaa guzar chukaa hai vo mausam shabaab kaa

Similar Poets