SHAWORDS
Haidar Jafri

Haidar Jafri

Haidar Jafri

Haidar Jafri

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

miraa din khubsurat yuun banaa detaa to kyaa hotaa

مرا دن خوب صورت یوں بنا دیتا تو کیا ہوتا وہ ہم کو پیار سے آ کر جگا دیتا تو کیا ہوتا بہت وعدے کیے تھے آپ نے تو ساتھ رہنے کے محبت میں اگر اک دو نبھا دیتے تو کیا ہوتا مرا اس شب کی تاریکی سے دل بے چین ہوتا ہے رخ انور سے وہ پردہ ہٹا دیتے تو کیا ہوتا مصور ہوں تصور آپ کی تصویر ہے میرا تمہیں گر اپنی یادوں سے مٹا دیتے تو کیا ہوتا میں کب سے منتظر تھا آپ کی نظر کرامت کا جو لمحے بھر کو ہی چہرہ دکھا دیتے تو کیا ہوتا عجب یہ شوق ہے گلیوں میں تیری روز آتا ہوں تری راہوں میں ہی گھر کو بنا دیتے تو کیا ہوتا میں اپنے زخم خود ہی دیکھ کر خود سے یہ کہتا ہوں وہ ہنس کر ٹال جاتے ہیں سزا دیتے تو کیا ہوتا ہے ان کی شاعری کا بھی بہت چرچا زبانوں پر غزل ہم کو بھی وہ حیدرؔ سنا دیتے تو کیا ہوتا

غزل · Ghazal

likhe the ham ne jo ashkon ki raushnaai se

لکھے تھے ہم نے جو اشکوں کی روشنائی سے وہ عشق کے بھی مقالات قیمتی ہیں بہت انہی سے ہوتی ہے معراج عشق کو حاصل یہ درد اور یہ جذبات قیمتی ہیں بہت نصاب عشق میں پوچھے گئے ہیں جو اکثر جواب چھوڑو سوالات قیمتی ہیں بہت ہمارے جینے کی ڈھارس یہی بندھاتی ہیں تمہاری یادوں کی بارات قیمتی ہیں بہت وہ جس کے خواب میں دیدار ان کا ہو جائے قسم خدا کی وہی رات قیمتی ہے بہت وہ بول دے تو سبھی کچھ لٹا کے ہم رکھ دیں یہ سچ ہے ان کی ہر اک بات قیمتی ہے بہت ہمارے اشک یہاں حیثیت نہیں رکھتے تمہارے اشکوں کی سوغات قیمتی ہے بہت وہ لمحے جن میں ہمیں یاد آپ آ جائے وہی حیات کے لمحات قیمتی ہیں بہت یہ جب بھی آتے ہیں اشکوں کو ساتھ لاتے ہیں یہ اشک اور یہ برسات قیمتی ہیں بہت

غزل · Ghazal

ab un pe meri aah kaa hogaa asar kahaan

اب ان پہ میری آہ کا ہوگا اثر کہاں کیا حال ہے مرا انہیں اس کی خبر کہاں اب ان کے دل میں ہم سے فقیروں کا گھر کہاں بس دیکھیے کے پھرتے ہیں ہم در بدر کہاں اک مشکلوں کی دھوپ سے میرا ہے سامنا آسانیوں کا راہ میں کوئی شجر کہاں مدت ہوئی کے عید میسر نہیں ہمیں آیا ہے چاند ہم کو ہمارا نظر کہاں بس اے طبیب نسخۂ دیدار لکھ مجھے ان مرہموں سے بھرتا ہے زخم جگر کہاں ہر آن نفرتوں کا ہے پہرا گلی گلی اب ہم کریں تلاش محبت نگر کہاں ہر موڑ پر ہے ایک مصیبت سے سامنا اب جانے ختم ہوگا مرا یہ سفر کہاں تاریک ہو چکی یہاں حیدرؔ کی زندگی اس کو نصیب عشق کے شمس و قمر کہاں

غزل · Ghazal

aisaa dikhaa hai ham ko nazaara kai dafa

ایسا دکھا ہے ہم کو نظارہ کئی دفعہ اس نے کیا ہے ہم سے کنارہ کئی دفعہ ہر بار مشکلوں نے ستایا مجھے مگر ماں نے دیا ہے مجھ کو سہارا کئی دفعہ ایک بار مار دیتے تو قصہ تمام تھا پر اس نے مجھ کو ہجر میں مارا کئی دفعہ اک بار بھی پلٹ کے نہ دیکھا مری طرف چلا کے ہم نے ان کو پکارا کئی دفعہ اک بار دیکھنے سے کہاں بھر رہا ہے دل ان سے کہو کہ دیکھیں دوبارہ کئی دفعہ آنسو فراق درد جگر بے قراریاں ان کے لیے کیے ہیں گوارا کئی دفعہ حیدرؔ کی زندگی کو میسر سحر نہیں ہونے کو ہو رہا ہے سویرا کئی دفعہ

غزل · Ghazal

jab raston se ishq-e-kaamil hotaa hai

جب رستوں سے عشق کامل ہوتا ہے تب بندہ نزدیک منزل ہوتا ہے ہمدردی ہے دل میں تو پھر راہ دکھا بس تنقیدوں سے کیا حاصل ہوتا ہے حق کی باتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں جس بندے کے سینے میں دل ہوتا ہے رشتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ورنہ کون کسی کے قابل ہوتا ہے حیرت ہے وہ جس کو ہم سے ربط نہیں دل بھی اس کی جانب مائل ہوتا ہے آج کہاں انصاف کا مندر ملتا ہے آج کہاں قاضی ہی عادل ہوتا ہے خود سے تو نمرود نہیں بنتا کوئی اصل میں پورا شہر ہی بابل ہوتا ہے ہم کو تو ہنسنے کی عادت ہے ورنہ مسکانوں میں درد بھی شامل ہوتا ہے حیدرؔ دل میں بسنے والا ہی اکثر دل کے ارمانوں کا قاتل ہوتا ہے

غزل · Ghazal

dil taDaptaa hai miraa har din sahar hone ke baad

دل تڑپتا ہے مرا ہر دن سحر ہونے کے بعد موت آ جائے نہ تیرے بن سحر ہونے کے بعد شام تک فرصت نہ تجھ کو سانس لینے کی ملے آ کے تکلیفیں مری تو گن سحر ہونے کے بعد رات آئی آئے میخانے میں کافر ہو گئے اور پھر سے بن گئے مومن سحر ہونے کے بعد نیند تو کیا چیز آنکھیں بند بھی ہم نے نہ کی جب وہ بولے آئیں گے لیکن سحر ہونے کے بعد چین دل کو آنکھ کو ٹھنڈک خرد کو تازگی نعمتیں ملنا ہے یہ ممکن سحر ہونے کے بعد ان کے دل میں میری الفت یوں سمائی جس طرح پھول میں خوشبو ہوئی ساکن سحر ہونے کے بعد رات بھر اشکوں کو روکے مسکرایا تھا مگر ہو گیا ظاہر مرا باطن سحر ہونے کے بعد خوف آتا ہے مجھے حیدرؔ زمانے سے بہت آ کے بن جا تو مرا ضامن سحر ہونے کے بعد

Similar Poets