
Hajir Dehlwi
Hajir Dehlwi
Hajir Dehlwi
Ghazalغزل
vaaqif nahin hai koi hasinon ki chaal se
واقف نہیں ہے کوئی حسینوں کی چال سے دل کا شکار کرتے ہیں زلفوں کے جال سے ناصح خدا کے واسطے ذکر صنم نہ کر ہوتا ہے رنج اور کسی کے خیال سے آئے گا باز تو نہ عدو سے ملے بغیر ظاہر یہ ہو رہا ہے تری چال ڈھال سے اس کے لیے جہان میں لطف حیات کیا مایوس ہو گیا ہو جو تیرے وصال سے اب راز ہم سے کھنچنے کا معلوم ہو گیا کرتے ہو خوش عدو کو ہمارے ملال سے یہ بھی ہے اک سلیقۂ انکار دیکھنا چیں بر جبیں وہ ہوتے ہیں میرے سوال سے اچھا یہ عشق اچھی یہ دل بستگی ہوئی آیا ہوں تنگ روز کے رنج و ملال سے یوں تو بشر کے واسطے اکسیر ہے شراب پینا ہے اس کا شرط مگر اعتدال سے دل میں اگر وہ خوش ہوں تو حیرت کا ہے مقام ظاہر میں جو خفا ہیں مری عرض حال سے کیا کیا گزر چکی ہے مرے دل پہ ہجر میں واقف نہیں ہیں آپ ابھی میرے حال سے ہاجرؔ کے معتقد ہوں یہ ہم کو یقین ہے جا کر ملیں گر آپ بھی اس با کمال سے
adaaein hain jo us rashk-e-pari mein
ادائیں ہیں جو اس رشک پری میں نہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میں نہ دیکھی وہ کسی کی دشمنی میں جو آفت ہے تمہاری دوستی میں تغافل کس قدر ہمت شکن ہے نہیں ہے اب کوئی ارمان جی میں تڑپتے ہیں ہزاروں کشتۂ غم قیامت ہے بپا تیری گلی میں بناوٹ میں وہ کیفیت کہاں ہے مزا ہے جو تمہاری سادگی میں وہ کب سننے لگے ہیں شکوۂ غم خفا ہو جاتے ہیں جو دل لگی میں جدا جب سے ہوئے ہو تم مری جاں کمی کچھ آ گئی ہے زندگی میں وہی دل کو بچا سکتا ہے غم سے کبھی جو خوش نہیں ہوتا خوشی میں بچانا ہر بلا سے اے خدا تو ترا ہی آسرا ہے بے کسی میں جو دل میں بس رہا ہے کون ہے وہ کسے معلوم ہے یہ بے خودی میں تمہیں کو چھینتی ہے مجھ سے دنیا ملے تھے ایک تم ہی زندگی میں نہ بھولے گی یہ سیر باغ ہاجرؔ کسی کو ساتھ لے کر چاندنی میں
adu pur-lutf hai ham par jafaa hai
عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہے مری جاں کیا یہی رسم وفا ہے ستم ایجاد تیری کیا خطا ہے مری تقدیر ہی مجھ سے خفا ہے ہم اپنے حال کے قربان جائیں وہ فرماتے ہیں تم کو کیا ہوا ہے ترے در پر جبیں سائی سے حاصل کہیں تقدیر کا لکھا مٹا ہے تمہاری کاکل پیچاں سے الجھوں مرا بیٹھے بٹھائے سر پھرا ہے تصور کی فسوں کاری تو دیکھو وہ گویا سامنے بیٹھا ہوا ہے عبث کرتے ہو تکلیف مداوا مریض غم کہیں جان بر ہوا ہے وہ سن کر کہتے ہیں فریاد ہاجرؔ کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے
unhein dushman se milne ki paDi hai
انہیں دشمن سے ملنے کی پڑی ہے یہاں بیتابیٔ غم ہر گھڑی ہے کسی صورت غم فرقت سہیں گے کریں کیا اب تو سر پر آ پڑی ہے بندھا ہے آنسوؤں کا تار غم میں وہ فرماتے ہیں ساون کی جھڑی ہے چلے جاؤ ذرا ٹھوکر لگا کر ہماری لاش رستے میں پڑی ہے نگاہ یار شرمائی ہوئی ہے خدا معلوم کس کس سے لڑی ہے نہیں ہے پاسباں در پر تمہارے قیامت ہے کہ خود آ کر کھڑی ہے ادائے عشق سے کب آشنا تھے طبیعت آپ ہی سے کچھ لڑی ہے تڑپتے زندگی بھر اس کو دیکھا نظر جس پر تری جا کر پڑی ہے نہ کیوں قائل ہوں اس صناع کا میں یہ صورت جس نے فرصت میں گھڑی ہے نئے رستے نکالے شوق نے پھر طبیعت جب کبھی اپنی اڑی ہے ہجوم اتنا ہے کیوں در پر تمہارے یہاں کیا حسن کی دولت گڑی ہے نہیں ہے دل میں یہ صورت کسی کی کوئی تصویر شیشے میں جڑی ہے تمہارا نام ہے ہر دم زباں پر تمہاری یاد دل کو ہر گھڑی ہے یہ ہے کس فتنہ گر کی آمد آمد جگر تھامے ہوئے خلقت کھڑی ہے غم فرقت سے کیوں کر جان چھوٹے بڑی مشکل میں اب یہ جا پڑی ہے عیادت کو مریض غم کی آؤ کہ اس کی موت اب سر پر کھڑی ہے ابھی سے وصل کا ارمان اے دل ابھی تو ہجر کی منزل پڑی ہے مقدر نے دیا ہے ساتھ کیا کیا نگہ اس بت سے ہٹ ہٹ کر لڑی ہے تمہارے لب کو کیا نسبت کسی سے گل تر کی یہ نازک پنکھڑی ہے سنبھل کر راہ الفت میں قدم رکھ ارے نادان یہ منزل کڑی ہے محبت میں جو دل الجھا ہے دل سے نظر ان کی نظر سے جا لڑی ہے کیا ہے منتخب دل نے انہیں کو نظر لاکھوں میں ان پر جا پڑی ہے ملا ہے عشق میں جو رنج ہاجرؔ وہ اس زنجیر کی پہلی کڑی ہے
sochtaa huun kabhi huron kaa khayaal achchhaa hai
سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ انداز سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ ادا اور وہ قد موزوں دیکھ کر بول اٹھا دل بھی کہ مال اچھا ہے ہجر میں دل نے کہا کوچۂ جاناں میں چلو شوق کم بخت یہ بولا کہ خیال اچھا ہے یوں تو عاشق کے لیے دونوں وبال جاں ہیں ہجر سے پھر بھی ہر اک طرح وصال اچھا ہے آپ جب ہوتے نہیں اس کا تو پھر ذکر ہی کیا آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے جلوہ افروز ہوں جب آپ نظر کے آگے وہ مہینہ وہ گھڑی اور وہ سال اچھا ہے اس نے جب پیار سے پوچھا کہ کہو کیسے ہو منہ سے بے ساختہ یہ نکلا کہ حال اچھا ہے لطف سے خالی نہیں جور بھی ان کا ہاجرؔ جو حسینوں سے ملا ہے وہ ملال اچھا ہے
aap kaa intizaar rahtaa hai
آپ کا انتظار رہتا ہے دل بہت بے قرار رہتا ہے یہ صفت ہے شراب الفت میں زندگی بھر خمار رہتا ہے کچھ خبر بھی ہے تیرے کوچے میں کوئی امیدوار رہتا ہے آپ کے در پہ رات دن حاضر آپ کا جاں نثار رہتا ہے حال دل عشق میں نہیں چھپتا شکل سے آشکار رہتا ہے دل مرا کیوں نہ رشک جنت ہو اس میں کوئی نگار رہتا ہے زندگی سے تو بھر گیا ہے دل موت کا انتظار رہتا ہے چار ہوتی ہیں ان سے جب نظریں دل پہ کب اختیار رہتا ہے جس کو پاس زباں نہیں ہوتا سب کی نظروں میں خار رہتا ہے دل کہاں پھینک دوں کسے دے دوں یہ بہت بے قرار رہتا ہے یاد ہے وہ نگاہ مست اب تک بے پیے ہی خمار رہتا ہے پھر کسی کے فراق میں ہاجرؔ رات دن اشک بار رہتا ہے





