SHAWORDS
Hajra Noor Zaryab

Hajra Noor Zaryab

Hajra Noor Zaryab

Hajra Noor Zaryab

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

نہیں آؤ کہ اب آواز پا سے چوٹ لگتی ہے مرے احساس پر تیری صدا سے چوٹ لگتی ہے تجھے خود اپنی مجبوری کا اندازہ نہیں شاید نہ کر عہد وفا عہد وفا سے چوٹ لگتی ہے یہ سب باتیں مناسب ہیں مگر پھر بھی میرے ہمدم تغافل کی ترے ہلکی ادا سے چوٹ لگتی ہے ہواؤ تم ذرا ٹھہرو نہ خوشبو ایسے بکھراؤ ہوں نازک میں مجھے باد صبا سے چوٹ لگتی ہے یہ خط اپنے سنبھالو تم حسیں لمحے بھی لے جاؤ ہمیں ایسی محبت کی عطا سے چوٹ لگتی ہے تمہارے بعد رنگینی کوئی بھاتی نہیں مجھ کو ہتھیلی کو بھی اب رنگ حنا سے چوٹ لگتی ہے مری دھڑکن میں جن بے تابیوں نے ڈیرا ڈالا ہے انہی بے تابیوں کی انتہا سے چوٹ لگتی ہے بہت حساس ہے زریابؔ کو جھکنا نہیں آتا قبا پھولوں کی بھی ہو تو قبا سے چوٹ لگتی ہے

nahin aao ki ab aavaaz-e-paa se choT lagti hai

غزل · Ghazal

ذکر اس رات سے ہے وابستہ جو تری ذات سے ہے وابستہ جیت میری فقط مری تو نہیں یہ تری مات سے ہے وابستہ آنکھ سے لے کے دل تلک کا سفر انکشافات سے ہے وابستہ کوئی تو ہے جو تیری آنکھوں کے ان اشارات سے ہے وابستہ میرے اشعار میں ترا پیکر استعارات سے ہے وابستہ فکر اب تک تری کہانی کے اقتباسات سے ہے وابستہ تھیں مری آنکھ میں کبھی کرنیں اب جو برسات سے ہے وابستہ ہجر کے موڑ پر جمی ہے نظر اور لمحات سے ہے وابستہ کس کی آمد ہے آج جو زریابؔ انتظامات سے ہے وابستہ

zikr us raat se hai vaabasta

غزل · Ghazal

جب مقدر ہی میں ہے تنہائی سے یاری پاگل پھر وہی شخص ہے کیوں ذہن پہ طاری پاگل رات بھر تیری تمنا کے سفر میں گزری دور تک تیرگیٔ راہ پکاری پاگل مجھ کو رکنے نہ دیا میری جنوں خیزی نے عقل کہتی ہی رہی فکر سے عاری پاگل تجھ کو ہر صبح کے آغاز پہ سوچا میں نے مجھ کو کرتی ہی رہی میری خماری پاگل تو نے کاغذ پہ کبھی نقش بنایا تھا مرا کر گئی مجھ کو وہی نقش نگاری پاگل جھوم کر جب مرے چہرے پہ وہ لہرائی تھی تم نے کس ناز سے وہ زلف سنواری پاگل میرا سایہ ہی فقط ساتھ مرے چلتا ہے اپنے سائے سے ہی رکھتی ہوں میں یاری پاگل اس نے دل ہار کے زریابؔ مجھے جیت لیا عشق کی ریت ہے دنیا سے نیاری پاگل

jab muqaddar hi mein hai tanhaai se yaari paagal

غزل · Ghazal

یا رب دیا ہے حسن تو یہ بھی کمال دے میں ہنس پڑوں تو پھول بھی خوشبو اچھال دے انداز میری پیاس کا جانے گا کوئی کیا چاہوں تو اک پہاڑ بھی چشمہ نکال دے ہستی تو نیستی میں بدل جائے گی مگر ایمان مجھ کو میرے خدا لا زوال دے شاید وہ میرے فن کو سمجھنے لگا ہے اب ورنہ وہ ایسا کب تھا کہ آنسو نکال دے کیسا عجیب دوست ہے جب بھی ملوں اسے میرے ہی سامنے مجھے میری مثال دے میں مانگتی ہوں تجھ سے دعا اے مرے خدا جب بھی قلم اٹھاؤں انوکھا خیال دے زریابؔ تو بشر ہے مگر بس کرم کی بات رگ رگ میں تو ہی تھوڑا سا جاہ و جلال دے

yaarab diyaa hai husn to ye bhi kamaal de

غزل · Ghazal

میں نیندوں کا بہانہ چاہتی ہوں ترے خوابوں میں آنا چاہتی ہوں جسے سن کر تو سب کچھ بھول جائے غزل وہ گنگنانا چاہتی ہوں نئے لہجے میں تیرے ہے بناوٹ ترا لہجہ پرانا چاہتی ہوں ترا ملنا بہت مشکل ہے لیکن میں قسمت آزمانا چاہتی ہوں تو ہی جانے ارادہ تیرا زریابؔ مگر میں تجھ کو پانا چاہتی ہوں

main nindon kaa bahaana chaahti huun

غزل · Ghazal

زندگی کے لیے اتنا بھی کیا حیراں ہونا مجھ کو آتا نہیں بے وجہ پریشاں ہونا مانگنا جو بھی ہو مانگوں گی میں اپنے رب سے مانگ کر بندے سے آیا نہ پشیماں ہونا یوں تو گفتار میں ماہر ہیں بہت سے لیکن اتنا آساں نہیں سچائی پہ قرباں ہونا مجھ سے الفت ہے تو بس میرے ہی بن کر رہنا بھول کر بھی نہ کبھی غیر کے مہماں ہونا ہر گھڑی تیرگی رہتی ہے مسلط مجھ پر میں نے دیکھا ہی نہیں دل کا درخشاں ہونا دور حاضر کو لگی کس کی نظر بد زریابؔ آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

zindagi ke liye itnaa bhi kyaa hairaan honaa

Similar Poets