
Hameed Nag Puri
Hameed Nag Puri
Hameed Nag Puri
Ghazalغزل
ترے کرم سے تری بے رخی سے کیا لینا مرے خلوص وفا کو کسی سے کیا لینا سکون قلب نہ آسائش حیات نصیب یہ زندگی ہے تو اس زندگی سے کیا لینا تو اپنی وضع کو رسوائے عرض حال نہ کر کسی کو تیرے غم بے بسی سے کیا لینا خراب زیست ہوں لیکن تری خوشی کے سوا ترے نثار مجھے زندگی سے کیا لینا تو میری خوئے محبت بدل نہیں سکتا زمانے مجھ کو تری بے رخی سے کیا لینا ستم ہے دم جو مری دوستی کا بھرتے تھے وہ کہہ رہے ہیں تری دوستی سے کیا لینا حمیدؔ اصل میں اک غم کو ہے ثبات یہاں جسے دوام نہیں اس خوشی سے کیا لینا
tire karam se tiri be-rukhi se kyaa lenaa
قبول کر کے تیرا غم خوشی خوشی میں نے ترے جمال کو بخشی ہے زندگی میں نے بس اک نگاہ توجہ پہ اس طرح خوش ہوں کہ جیسے دولت کونین لوٹ لی میں نے دھڑک رہا تھا مرے ہر نفس میں دل ان کا سنی قریب سے آواز دور کی میں نے زمانہ تا بہ ابد ان کو بھر نہیں سکتا جگر پہ کھائے ہیں وہ زخم دوستی میں نے ترے جمال کی سر مستیوں میں گم ہو کر ہر ایک ساعت ہستی گزار دی میں نے خدائے دو جہاں اس جرم کو معاف کرے اڑائی ہے لب گل رنگ کی ہنسی میں نے حمیدؔ مجھ کو زمانہ بھلا نہیں سکتا بنا لیا ہے محبت کو زندگی میں نے
qubul kar ke teraa gham khushi khushi main ne
خود اپنے آپ سے ہم بے خبر سے گزرے ہیں خبر کہاں کہ تری رہ گزر سے گزرے ہیں نفس نفس ہے معطر نظر نظر شاداب کہ جیسے آج وہ خواب سحر سے گزرے ہیں نہ پوچھ کتنے گل و نسترن کا روپ لئے بہار نو کے تقاضے نظر سے گزرے ہیں بہار خلد بہ ہر گام ساتھ ساتھ رہی ترے خیال میں کھوئے جدھر سے گزرے ہیں اماں ملی بھی جو ان کو تو تیرے دامن میں وہ کارواں جو مری چشم تر سے گزرے ہیں دلوں پہ چھوڑ گئے نقش اپنی یادوں کا تمہارے درد کے مارے جدھر سے گزرے ہیں حسیں ہو تم کہ تمہاری کوئی مثال نہیں حسین یوں تو ہزاروں نظر سے گزرے ہیں حمیدؔ پوچھ نہ آشوب دہر کا عالم ہزار فتنۂ محشر نظر سے گزرے ہیں
khud apne aap se ham be-khabar se guzre hain
تبسم میں نہ ڈھل جاتا گداز غم تو کیا کرتے کہ یہ شعلہ نہ بن جاتا اگر شبنم تو کیا کرتے لٹا دیتے نہ اپنی زندگانی ہم تو کیا کرتے نگاہ لطف کا ہوتا وہی عالم تو کیا کرتے یوں ہی دیر و حرم کی منزلوں میں ٹھوکریں کھاتے سہارا گر نہ دیتی لغزش پیہم تو کیا کرتے حمیدؔ اچھا ہوا خواب طلسم آرزو ٹوٹا کہ یہ محفل نہ ہو جاتی برہم تو کیا کرتے
tabassum mein na Dhal jaataa gudaaz gham to kyaa karte
مجھے رہین غم جاں نواز رہنے دے دواۓ درد جگر چارہ ساز رہنے دے نہاں ابھی مری وحشت کا راز رہنے دے نہ چھیڑ قصۂ زلف دراز رہنے دے فسانۂ غم ہستی سنائے جا ہمدم دراز ہے جو یہ قصہ دراز رہنے دے رضائی دوست یہی ہے حریم الفت میں جبین شوق کو وقف نیاز رہنے دے نیاز مند ہوں تیرا اے بے نیاز مرے نہ اپنے در سے مجھے بے نیاز رہنے دے
mujhe rahin-e-gham-e-jaan-navaaz rahne de
وہ چال چل کہ زمانہ بھی ساتھ چلنے لگے نگار زیست تری سمت رخ بدلنے لگے وفور یاس میں مژدہ ہے کس کے آنے کا یہ آج کیوں سر مژگاں چراغ جلنے لگے زمانہ پھیر لے آنکھیں تو کیا گلا اس کا ستم تو یہ ہے کہ تم بھی نظر بدلنے لگے مجھے یہ ڈر ہے بہ ایں وصف احترام وفا نہ تیری چشم محبت کہیں بدلنے لگے یہ داغ سجدہ تو ننگ جبیں ہے اے زاہد اگر نہ سوز محبت سے دل پگھلنے لگے نہ پوچھ کس نگۂ خاص کا تصرف ہے قدم جو راہ محبت میں خود سنبھلنے لگے حمیدؔ شام غریباں کا کس لیے شکوہ وہ دیکھ جانب منزل چراغ جلنے لگے
vo chaal chal ki zamaana bhi saath chalne lage





